جون 19, 2026

تحریر: بشارت حسین زاہدی

ہر شہر کی اپنی ایک کہانی ہوتی ہے، ایک روح ہوتی ہے جو اس کی گلیوں، عمارتوں اور تاریخ میں سانس لیتی ہے۔ لیکن بعض شہر ایسے ہوتے ہیں جن کی روح کسی مقدس وجود سے جڑی ہوتی ہے۔ قم ایسا ہی ایک شہر ہے۔ ۲۳ ربیع الاول کا دن اس شہر کی تاریخ کا وہ نقطہ آغاز ہے جب کربلا کے بعد سب سے زیادہ غم و آلام سہنے والے گھرانے کی ایک شہزادی، حضرت فاطمہ معصومہ (س)، نے یہاں قدم رکھا۔ آپ کی آمد صرف ایک سفر کا اختتام نہیں تھا، بلکہ ایک نئے باب کا آغاز تھا جس نے اس شہر کو علم، روحانیت اور کرامت کا مرکز بنا دیا۔ آپ کی ذاتِ مبارکہ نے قم کو ایک عام شہر سے اسلام کا قلبی اور علمی دارالحکومت بنا دیا۔

​کرامت: فیض کا بہتا چشمہ

حضرت معصومہ (س) کی کرامات کا سلسلہ آپ کی حیاتِ مبارکہ سے لے کر آج تک جاری ہے۔ آپ کا حرم، غم زدہ دلوں کا ٹھکانہ، بیماروں کے لیے شفا کا مرکز اور بے سہاروں کے لیے امید کی آخری کرن ہے۔ جو بھی سچے دل سے اس دربار میں آتا ہے، وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ یہ دربار گویا ایک ایسا چشمہ ہے جس سے فیض کے دھارے مسلسل بہہ رہے ہیں اور ہر ضرورت مند کو سیراب کر رہے ہیں۔ یہ کرامات صرف واقعات نہیں، بلکہ آپ کے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقام اور قرب کی روشن دلیل ہیں۔ اسی لیے دنیا کے کونے کونے سے زائرین آپ کے روضے پر حاضری دے کر سکون اور اپنی حاجات کی تکمیل کی دعا کرتے ہیں۔

​فضیلت: پاکیزہ نسبت کی درخشندگی

​حضرت معصومہ (س) کو جو مقام اور فضیلت حاصل ہے، اس کی بنیاد آپ کی پاکیزہ نسبت ہے۔ آپ ساتویں امام، حضرت موسیٰ کاظم (ع) کی نورِ چشم اور آٹھویں امام، حضرت علی بن موسیٰ الرضا (ع) کی عزیز بہن ہیں۔ یہ شرف آپ کی ذات کو ایسی بلندی عطا کرتا ہے کہ ہر کوئی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہے۔ امام صادق (ع) نے آپ کی ولادت سے قبل ہی قم کے بارے میں فرمایا تھا کہ "ایک خاتون میری نسل سے قم میں دفن ہو گی، اس کا نام فاطمہ ہو گا اور اس کی زیارت کرنے والے پر جنت واجب ہو گی۔” یہ حدیث آپ کی فضیلت کا سب سے بڑا ثبوت ہے اور اس شہر کے لیے آپ کی آمد کا مقصد بھی واضح کرتی ہے۔

​علم: علم و حکمت کی شمع فروزاں

​حضرت معصومہ (س) اس گھرانے کی فرد تھیں جہاں علم کا دریا بہتا تھا۔ آپ نے اپنے عظیم والد اور بھائی سے نہ صرف دین کا علم حاصل کیا بلکہ خود بھی اس مقام تک پہنچیں کہ فقہی اور علمی سوالات کا جواب دیتی تھیں۔ قم میں آپ کے قیام نے اس شہر کی علمی فضا کو ایک نئی جہت دی۔ آپ کی رحلت کے بعد آپ کا روضہ ایک علمی مرکز بن گیا جہاں طالبانِ علم جوق در جوق آتے تھے اور علم کی پیاس بجھاتے تھے۔ آج، قم میں قائم حوزہ علمیہ، جو کہ دنیا کے سب سے بڑے اور اہم ترین علمی اداروں میں سے ایک ہے، اس کی بنیاد اسی خاتون کی علمی عظمت پر رکھی گئی ہے۔ آپ نے نہ صرف قم کو روحانیت دی بلکہ اسے علم کا مرکز بھی بنا دیا۔

​قم کی زینت: ایک مکمل کائنات

​حضرت معصومہ (س) بلاشبہ قم کی اصل زینت ہیں۔ آپ کا حرم اس شہر کا دل ہے اور آپ کا وجود اس کی روح ہے۔ آپ نے قم کو ایک عام شہر سے ایک مقدس اور باوقار شہر میں تبدیل کر دیا۔ آپ کی وجہ سے یہ شہر علم، عبادت اور تقویٰ کا گہوارہ بن گیا۔ آج بھی قم کی فضا میں آپ کی عظمت کا نور محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ۲۳ ربیع الاول صرف ایک تاریخی دن نہیں، بلکہ یہ دن قم کے ایک نئے عہد کا آغاز ہے، ایک ایسا عہد جو کرامت، فضیلت اور علم کے حسین سنگم سے عبارت ہے۔ آپ قم کی روحانی ماں ہیں اور آپ کی عظمت ہر آنے والے دن کے ساتھ مزید بڑھتی رہے گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

twenty − one =