تحریر: قادر خان یوسفزئی
آنے والا مؤرخ جب ہمارے زمانے کی تاریخ لکھے گا تو عجیب حیرت کے عالم میں ہوگا۔ وہ دیکھے گا کہ کس طرح دنیا کی سپر پاور کہلانے والوں نے جنگ کو کمپیوٹر کی سکرین اور وار گیمزپر جیتا ہوا سمجھ کر میدان میں اترنے کی حماقت کی۔ 2026 میں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جس جنگ کا بگل بجایا، واشنگٹن اور تل ابیب کے ڈرائنگ رومز میں اسے ایک مختصر اور فیصلہ کن مہم تصور کیا گیا تھا۔ ان کا گمان تھا کہ ایک ہی زور دار وار سے ایرانی قیادت کا سر قلم کر دیا جائے گا، ان کا عسکری ڈھانچہ زمین بوس ہو گا اور ایک نیا علاقائی توازن مسلط کر دیا جائے گا۔ اور وہ بھی اتنی کم قیمت پر کہ سیاسی منظر نامے پر خراش تک نہ آئے۔
شروع کے چند دن بظاہر ان کی اس سوچ کی تائید کرتے نظر آئے۔ انتہائی درست نشانے والے حملوں نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے اعلیٰ کمانڈروں اور سکیورٹی کے اہم ستونوں کو گرا دیا۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام اور جوہری تنصیبات کھنڈر بن گئے۔ لیکن ابھی ایرانی شہروں سے اٹھنے والا دھواں چھٹا بھی نہیں تھا کہ واشنگٹن کی سٹریٹجک بھول کھل کر سامنے آ گئی۔ معلوم ہوا کہ جو مقاصد سوچے گئے تھے، وہ ان طیاروں اور میزائلوں کی پہنچ سے کہیں بڑے تھے۔ وہ جنگ جسے چند دنوں کی مار سمجھا گیا تھا، ایک ایسی طویل اور صبر آزما محاذ آرائی کا پیش خیمہ بن گئی جس میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے اندازوں کے برعکس، عسکری، سیاسی اور معاشی طور پر کہیں زیادہ سخت جان ثابت ہوا۔
امریکی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ حملہ کئی مقاصد کا ملغوبہ تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی خواہش تھی کہ ایران کا جوہری پروگرام ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائے، خلیج میں امریکی بالادستی کا سکہ دوبارہ چلے اور اگر ممکن ہو تو ایرانی نظام ایک کنٹرولڈ طریقے سے منہدم ہو جائے۔ امریکی تھنک ٹینکس اور فیصلہ سازوں کے ذہنوں پر وینزویلا کا ماڈل سوار تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ جیسے وینزویلا میں قیادت کو مفلوج کر کے بیرونی انتظام کو کامیاب سمجھ لیا گیا تھا، بالکل ویسے ہی ایران بھی اپنی قیادت کے خاتمے اور تیل کی بندش کے بعد تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائے گا۔
اسرائیل کے زاویے سے یہ نسلوں میں ملنے والا وہ نادر موقع تھا جس سے نہ صرف تہران سے رعائتیں نچوڑی جانی تھیں بلکہ پورے خطے کا نقشہ بدلنا مقصود تھا۔ اسرائیلی حکمت عملی یہ تھی کہ ایران اور اس کے لبنان، غزہ اور شام میں بیٹھے اتحادیوں—خاص طور پر حزب اللہ—کو ایک ہی وقت میں ایسا کچلا جائے کہ محدود جنگوں کا وہ تھکا دینے والا سلسلہ ہمیشہ کے لیے ٹوٹ جائے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بریفنگ رومز کا سحر انگیز ماحول زمینی حقیقت کے آگے ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ ایران، اپنی اعلیٰ قیادت سے محروم ہونے کے بعد بھی اس مکان کی طرح نہیں گرا جس کی چھت اڑا دی گئی ہو۔ ایران۔عراق جنگ کی بھٹی میں تپ کر کندن بننے والی پاسدارانِ انقلاب نے کمال پھرتی سے جنگی پوزیشن سنبھال لی۔ بچ جانے والے کمانڈروں نے فوری طور پر اپنے میزائل اور ڈرونز بکھیر دیے اور زیرِ زمین و متحرک لانچروں کا استعمال کرتے ہوئے امریکی اڈوں، خلیجی تنصیبات اور اسرائیل پر تابڑ توڑ جوابی حملے شروع کر دیے۔ ادھر لبنان میں حزب اللہ نے اسرائیل کے شمالی محاذ کو راکٹوں سے چھلنی کر کے تل ابیب کو ایک اور بڑی زمینی جنگ میں دھکیل دیا۔
اس پوری مہم میں تین بنیادی غلطیاں پوشیدہ تھیں۔ اول، ایران کو وینزویلا سمجھنے کی احمقانہ سیاسی قیاس آرائی۔ دوم، ایران کی غیر متناسب (Asymmetric) جنگی صلاحیت کو کم تر سمجھنا۔ اور سوم، جو سب سے خطرناک ثابت ہوئی، وہ یہ تھی کہ اس ریاست سے الجھنے کے نتائج کا درست اندازہ نہ لگانا جس کے ہاتھ میں آبنائے ہرمز جیسی دنیا کی حسا%





