تحریر:حاجی شبیر احمد شگری
شہید سید علی خامنہ ایؒ عالم اسلام کے وہ عظیم لیڈرہیں جن کے دل میں سب کے لئے ہمدردی ، پیار ، محبت اور اخوت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا ان کے جنازے میں سمٹ آئی۔ سو سے زیادہ ممالک کے نمائندوں نے ان کے جنازے کی تقریب میں شرکت کی۔ صرف تہران میں تقریبا دو کروڑ افراد کی جنازے میں شرکت بتائی گئی۔ اس تقریب کے لئے صرف تہران کی میٹرو نے 70 لاکھ سے زائد افراد کے سفر کرنے کی رپورٹ ظاہر کی۔ باقی شہروں بشمول عراق کے ان افراد کی تعداد کا اندازہ لگانا شاید ممکن نہیں رہا۔ اس قدر عظیم جنازہ جو کہ شہادت کے کئی ماہ بعد ہوا تایخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا کا تو اصول ہے کہ دوچار دنوں میں ہی کسی کی وفات کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن خامنہ ای ؒ کون ہیں جنھوں نے پوری دنیا بالخصوص پورے عالم اسلام کا دل جیت لیا ہے ۔ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں ایک تو انھوں نے تمام دنیا کے مظلومین بالخصوص فلسطین کی بھرپور حمایت کی۔ دوسرے عالم اسلام کی وحدت کے لئے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ لیکن صرف یہی نہیں اس کے پیچھے تربیت اور خدمات کا ایک عظیم سلسلہ ہے جو انھیں صحیح معنوں میں باعمل بناتا ہے۔چند دن پہلے ان کے اثاثے ظاہر کئے گئے جس میں ایک پک اپ کے سوا ان کی ملکیت میں کوئی چیز نہیں تھی۔ حتٰی کہ ان کا بینک اکاونٹ تک نہیں تھا۔اس قدر منکسرالمزاج شخصیت جن کے پاس اربوں روپے آتے لیکن وہ سادہ سی زندگی گزارتے ۔ مجھے یاد ہےکئی سالوں پہلے ایک ٹوٹی چپل کے ساتھ ان کی کسی سربراہ مملکت کے ساتھ میٹنگ کی تصویر بہت مشہور ہوئی تھی۔ اس سادگی میں ان کے والدین کی تربیت کا بڑا ہاتھ تھا۔ خود حضرت خامنہ ای شہید اپنے والد صاحب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ” میرے والد ، مشہورو معروف عالم دین اور بہت ہی متقی و پرہیزگارتھے وہ اکثرخلوت پسند اور گوشہ نشیں رہتے تھے ہماری زندگی بہت سخت گزرتی ، بعض اوقات ہمارے گھر رات کا کھانا نہیں بنتا تھا ! میری والدہ بڑی مشقت سے ہمارے لئے رات کا کھانا مہیا کرتیں اور یہ رات کا کھانا” روٹی اور کشمش “ہوتا تھا ” جہاں میں پیدا ہوا وہ گھرساٹھ یا ستر میٹر مربع جگہ پر مشتمل تھاجو مشہد کے غریب لوگوں کا محلہ تھا۔اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ سادگی ان کے آخر وقت تک جاری رہی۔
اگرچہ ان کی پوری زندگی کے بارے میں تحریر شائع ہونے کے لئے محدودیت کی وجہ سے یہاںممکن نہیں ہے لیکن شہید رہبر کے پرانے ساتھی حجت السلام والمسلمین محمدی گلپایگانی نے ان کی ذاتی زندگی کے بارے جو باتیں بتائیں ان کو سن کر بھی دل اور نگاہیں آیت اللہ خامنہ ای شہیدؒ کے لئے عقیدت سے جھک جاتے ہیں۔
آغا گلپایگانی فرماتےہیں کہ وہ ایک غیر معمولی اور صاحبِ حکمت عالم اور انتہائی قابل خطیب تھے۔ان کی ذاتی زندگی ہم سب کے لیے سبق آموز ہے۔ ان کی زندگی اتنی سادہ تھی کہ وہ مجھے کہتے تھے: "میری ذاتی زندگی کا سارا سامان (کتابوں کے علاوہ) ایک پک اپ ٹرک میں آ سکتا ہے، کچن اور فریج سمیت۔” دنیا کی کشش نے بہت سوں کو گمراہ کیا، لیکن جب پوری دنیا ان کی طرف متوجہ تھی، وہ اسے پیچھے دھکیل دیتے تھے۔ انہوں نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کے قول پر عمل کیا کہ "اے دنیا، میں نے تجھے تین طلاقیں دے دی ہیں”۔ دنیا بھر سے ان کے لیے قیمتی تحائف آتے، لیکن وہ ان کی طرف دیکھتے بھی نہیں تھے۔ معمولی ضرورت کے مطابق لیتے اور باقی سب امدادی کمیٹی یا غریبوں کے لیے بھیج دیتے۔
وہ اس بات کے پابند تھے کہ اگر وہ کسی کا نکاح پڑھائیں گے تو حق مہر 14 سونے کے سکوں سے زیادہ نہیں ہوگا۔آیت اللہ گلپایگانی فرماتے ہیں میری بہوشہید، جو ان کی بڑی بیٹی ہیں،کے رشتے کے وقت میں نے کہا کہ آقا حق مہر کے لیے جو چاہیں لکھ دیں۔ انہوں نے فرمایا: "یعنی جس چیز کی میں لوگوں کو تلقین کرتا ہوں، اپنے لیے اس سے زیادہ مقرر کروں؟ نہیں، میری بیٹی کا حق مہر بھی وہی 14 سکے ہوگا۔”ان کے چاروں بیٹے عالمِ دین ہیں اور دو بیٹیاں ہیں۔ میری پوتی زیادہ تر ان کی گود میں ہوتی تھی۔ انہیں اس بچی سے بہت انس تھا۔ ایک بار ان کی خدمت میں شہادت کا ذکر ہوا۔ ان پر گریہ طاری ہوگیا۔ انہوں نے کہا: "انشاءاللہ ہم سب ایک ساتھ شہید ہوں گے۔”
آیت اللہ فرماتے ہیں سرکاری ملاقاتوں میں، میں اکثر میں ان کے ساتھ ہوتا تھا، وہ سب سے نمایاں اور بالاتر نظر آتے تھے۔ وہ چند الفاظ بولتے تو چھا جاتے تھے۔ روس کے صدر پیوٹن صاحب جن کی ان سےپہلی ملاقات تھی، ملاقات کے بعد مجھے نصیحت کر رہے تھے کہ "آغا کا خیال رکھنا۔
رہبر شہید کا حافظہ بہت استثنائی اور مضبوط تھا۔ دور ماضی کی یادیں ان کے ذہن میں محفوظ تھیں، اور وہ علمِ رجال میں بے مثال تھے۔ وہ قرآن کے ساتھ بہت مانوس تھے۔ ہر رمضان میں دو بار قرآن کی مکمل تلاوت فرماتے۔ وہ قرآن مجید پر مکمل عبور رکھتے ہیں۔
گلپایگانی فرماتے ہیں پچھلے دو تین مہینوں میں مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ خود کو تیار کر رہے ہیں۔ جب بھی کوئی فوجی افسر آکر رپورٹ دیتا، تو وہ پوری شجاعت کے ساتھ کہتے: "کچھ نہیں ہے، آپ اطمینان رکھیں کہ آپ کی فتح ہوگی۔” ان کی یہ بات فوجی افسروں پر بہت اثر کرتی تھی۔ وہ خود مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے فرائض انجام دیتے تھے آج ان کی قیادت کی بدولت ہماری افواج اس مقام پر ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل کانپ رہے ہیں۔
اللہ پر توکل اوراہل بیتؑ سے توسل انھوں نے ہمیشہ قائم رکھا۔ چودہ معصومین علیھم السلام میں سے ان کی سب سے زیادہ توجہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا، امام حسین علیہ السلام اور حضرت امام مہدی (عج) کی طرف تھی۔مسجدِ جمکران میں وہ خلوت میں طویل سجدے کرتے اور گریہ کرتے تھے۔ وہ حضرت امام خمینیؒ کے سچے عاشق تھے۔ رسول اللہ (ص) کا فرمان ہے کہ "ایک عالم کی موت، ایک پورے قبیلے کی موت سے زیادہ بھاری ہے”، اور وہ تو ایک بہت جلیل القدر عالم تھے۔ امام خمینیؒ اپنا کام کر کے چلے گئے، اور ان کے بعد آغا نے ان کاموں کو ایک ایک کر کے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔
پاکستانی حکام نے حالیہ مزاکرات اور امن کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس عظیم رہبر کی شہادت پر پاکستان کے تمام حلقوں اور مسالک کے عوام کی ان سے شدید عقیدت اوران کی شہادت پررد عمل ویسے ہی نہیں ہے۔آیت اللہ خامنہ ایؒ بھی پاکستانی عوام کے ساتھ بہت محبت کرتے تھے اپنی زندگی میں اس کا اظہار برملا کرتے رہے ۔ کشمیر کے معاملے پر بھی انھوں نے سخت ردعمل دیا۔ ایک مرتبہ جب پاکستان میں شدید سیلاب آیا تو وہ روپڑے تھے اور حکام کو پاکستان کے سیلاب زدگان کے لئے ہر ممکن امداد کی تاکید کی۔حضرت اقبالؒ سے انتہائی عقیدت رکھتے تھے ان کا کہنا تھا کہ میں اقبالؒ کا مرید ہوں۔ اور انھیں حضرت اقبالؒ کے 2000 اشعار زبانی یاد تھے۔ انقاب اسلامی ایران سے پہلے انھوں نے حضرت اقبالؒ پر کتاب بھی لکھی۔ اگرچہ ان کی سیاسی رہنمائی نمایاں تھی لیکن وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے۔ ہر سال مشہد کے سفر میں وہ ایک دن خاص طور پر پرانے اور نمایاں شعرا کے ساتھ ملاقات کے لیے مختص کرتے تھے۔ وہ دو تین گھنٹے ان کے ساتھ گزارتے، شعر پڑھتے اور سنتے تھے۔ کئی پاکستانی شاعروں کو بھی ان محافل میں مدعو بھی کرتے تھے۔ان باتوں کا ہمیں اس لئے زیادہ علم نہیں کہ ان کی سیاسی رہبری کی ذمہ داری نے ان کی دیگر بے مثال خوبیوں (شاعر، خطیب، حکیم، فقیہ) کو چھپا دیا تھا۔
آیت اللہ خامنہ ایؒ نے 4 دہائیاں قبل پاکستان کا دورہ بھی کیا جب وہ ایران کے صدر تھے۔جو نہ صرف ایک سیاسی سفر تھا بلکہ روح و قلب کے ایک نورانی کارواں کا جلوہ بھی تھا۔ اس وقت ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ یہ عجیب عقیدت بھرا استقبال تھا جس میں لاہور کے مضافات سے کئی عمر رسیدہ مردوعورتیں چالیس کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کرکے صرف اس امید پر آئے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی زیارت نصیب ہو جائے۔ حضرت اقبالؒ کے شہر کی سڑکیں، "لبیک خامنہ ای” کے نعروں سے گونج رہی تھیں۔ اندازہ تھا کہ مزارِ اقبال تک پہنچنے میں 45 منٹ لگیں گے، لیکن محبت کی روانی نے اس راستے کو چار گھنٹوں میں طے ہونے دیا۔آج وہی محبت و عقیدت ان کے جنازے میں بھی نظر آرہی ہے جہاں جہاں ان کا جنازہ پہنچا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ اور بالآخر مشھد مقدس میں اپنے جد حضرت امام علی ابن موسٰی الرضا علیہ السلام کے حرم میں ان کی آخری آرام گاہ قرار پائی جس حرم کے وہ ایک عرصہ متولی بھی رہے۔امام رضا علیہ السلام نے بھی بڑھ کر ان کو اپنی آغوش میں لے لیا ہوگا ۔ اللہ پاک عالم اسلام کے اس عظیم شہید لیڈر کو اپنے خاص جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے جس کی ساری زندگی سے دشمن خوف زدہ رہے اور اب ان کی شہادت سے ان ظالمین کے ایوان لرزیدہ ہیں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








