تحریر: محمد ثقلین واحدی
پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان حالیہ شدید جھڑپیں محض سرحدی حادثہ نہیں، ایک واضح پیغام ہیں۔ سوال اب یہ نہیں کہ کیا ہوا۔۔۔۔۔ سوال یہ ہے کہ آگے ریاستِ پاکستان کیا کرے گی؟ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاستیں ابہام کا شکار ہوں تو سرحدیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ پاکستان نے برسوں تحمل کا مظاہرہ کیا۔ لاکھوں مہاجرین کی میزبانی، سفارتی سہارا، تجارتی راستوں کی فراہمی۔۔۔ یہ سب کسی کمزور ملک کا طرزِ عمل نہیں تھا، بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی پالیسی تھی۔ مگر اسی حسنِ سلوک کو کمزوری سمجھا جائے، اگر افغان سرزمین پاکستان مخالف عناصر کے لیے محفوظ ٹھکانہ بنے اور اگر سرحدی چوکیاں نشانہ بنیں تو پھر خاموشی جرم بن جاتی ہے۔
پاک فوج نے دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑی ہے۔ شمالی وزیرستان سے خیبر تک، جوانوں نے اپنے خون سے امن کی قیمت ادا کی ہے۔ کیا ہم دوبارہ اسی آگ کو سرحد پار سے بھڑکنے دیں۔؟ ریاست کا پہلا فرض اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔۔۔۔ اور اس فرض کی ادائیگی میں مصلحت پسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ کابل کو یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ پاکستان کی خود مختاری کوئی قابلِ گفت و شنید شے نہیں۔ اگر سرحد پار سے حملے ہوں گے تو جواب بھی سرحد پار تک جائے گا۔ سفارت کاری اپنی جگہ، مگر سفارت اسی وقت مؤثر ہوتی ہے، جب اس کے پیچھے ریاستی طاقت کا واضح اظہار ہو۔ دنیا میں احترام کمزوروں کو نہیں، سنجیدہ اور فیصلہ کن ریاستوں کو ملتا ہے۔
اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان چند دوٹوک اقدامات کرے:
اوّل، سرحدی نگرانی کو غیر معمولی سطح تک بڑھایا جائے اور ہر حملے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے۔
دوم، تجارت اور ٹرانزٹ کے معاملات کو قومی سلامتی سے مشروط کیا جائے۔
سوم، عالمی برادری کے سامنے واضح سفارتی ڈوزیئر رکھا جائے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
یہ جذباتی نعرے بازی کا وقت نہیں، مگر کمزوری دکھانے کا وقت بھی نہیں۔ اگر کابل سنجیدگی اختیار کرے تو خطہ امن کی طرف جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اشتعال انگیزی جاری رہی تو پاکستان کے پاس ہر آپشن موجود ہے۔۔۔۔ اور قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہوگی۔۔ سرحد کی آگ کو بجھانا کابل کی ذمہ داری ہے۔ ورنہ جو شعلہ بھڑکے گا، وہ صرف باڑ کے ایک طرف نہیں رکے گا۔ تاریخ ایسے لمحات میں فیصلوں کو یاد رکھتی ہے۔۔۔۔ اور یہ لمحہ فیصلہ کن ہے
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








