تحریر: محمد ثقلین واحدی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت چین میں موجود ہیں، جہاں ان کی ملاقاتیں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ جاری ہیں۔ بظاہر یہ دورہ تجارت، ٹیرف اور امریکہ چین تعلقات کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس پوری سفارت کاری کے پیچھے ایک اہم نام مسلسل موجود ہے: ایران۔
آج دنیا کی سیاست اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں مشرقِ وسطیٰ کے بغیر کوئی بڑی عالمی حکمتِ عملی مکمل نہیں ہوتی، اور مشرقِ وسطیٰ میں ایران کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے دورۂ چین میں بھی ایران ایک خاموش مگر مرکزی موضوع کے طور پر موجود ہے۔
چین جانتا ہے کہ مستقبل کی توانائی، تجارت اور علاقائی استحکام میں ایران کی حیثیت بنیادی ہے۔ حالیہ امریکی و اسرائیلی جارحیت کے باوجود ایران نے نہ صرف اپنی سیاسی خود مختاری برقرار رکھی بلکہ عالمی طاقتوں کو یہ پیغام بھی دیا کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ یہی استقامت آج ایران کو ایک مضبوط سفارتی قوت بناتی ہے۔
ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ اقتدار میں ایران کے خلاف “زیادہ سے زیادہ دباؤ” کی پالیسی اپنائی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ ایران اقتصادی طور پر ٹوٹ جائے اور عالمی سطح پر تنہا ہو جائے۔ مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ایران مزید مضبوط علاقائی اتحادوں کی طرف بڑھا، جبکہ چین اور روس نے بھی تہران کے ساتھ اپنے تعلقات کو نئی اہمیت دی۔
بیجنگ میں آج ہونے والی ملاقاتوں سے یہ حقیقت مزید واضح ہو رہی ہے کہ امریکہ اب یکطرفہ فیصلے مسلط کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ چین ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت ہے اور وہ ایران کے ساتھ اپنے اقتصادی و تزویراتی تعلقات قربان کرنے پر تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کو بھی اب نئی عالمی حقیقتوں کے مطابق بات کرنا پڑ رہی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی میڈیا اور سفارتی حلقے بھی اس دورے کو صرف تجارتی ملاقات نہیں سمجھ رہے بلکہ اسے ایک بڑے جیوپولیٹیکل توازن کی کوشش قرار دے رہے ہیں، جہاں ایران، روس اور چین کا بڑھتا ہوا تعاون واشنگٹن کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
ایران نے ثابت کیا ہے کہ قومی خودمختاری صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ سیاسی عزم سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ پابندیاں، دھمکیاں، سفارتی دباؤ اور بمباری تہران کو جھکا نہیں سکے۔ آج اگر ٹرمپ بیجنگ میں بیٹھ کر عالمی طاقت کے نئے فارمولے تلاش کر رہے ہیں تو اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ دنیا اب امریکہ کی مرضی سے نہیں بلکہ باہمی مفادات کے تحت چل رہی ہے۔
وقت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ایران کو الگ تھلگ کرنے کی ہر کوشش نے اسے مزید اہم بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ بیجنگ کی اس سفارت کاری میں ایران غیر حاضر رہ کر بھی سب سے زیادہ موجود دکھائی دیتا ہے۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q








