اکتوبر 18, 2026

​تحریر: ڈاکٹر شیخ عباس کنعان۔لبنان

​بے شک انسانی زندگی کے حالات متعدد سطحوں پر مزید پیچیدگیوں کی طرف بڑھ رہے ہیں، خصوصاً ان بڑے تحولات کے بعد جو ڈیجیٹل دنیا میں رونما ہوئے ہیں، اور بالخصوص الذکاء الاصطناعي (مصنوعی ذہانت/AI) کے نتیجے میں سامنے آنے والی انتہائی پیش رفتہ تخلیقی صلاحیتوں (Generative Capabilities) یا اس کے کنٹرول اور خود کار ترقی (Self-development) کی صلاحیت نے عملی زندگی میں بہت سے خدشات اور اندیشے پیدا کر دیے ہیں۔

​اسی وجہ سے تعلیمی نصاب کے منتظمین اور ماہرین کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ وہ سائنس کی اس لہر اور چھلانگ پر غور کریں جو واقع ہو چکی ہے یا جو آنے والے قریب ترین وقت میں تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہے۔ لیکن یہاں ایک سوال خود بخود ابھرتا ہے: ہم ان تحولات کے سایے میں کس قسم کا علم یا کس ادراکی و علمی سطح پر نصاب کی تدوین و ڈیزائننگ کرنا چاہتے ہیں؟

​1. تعلیمی نصاب: نقلِ معلومات سے تعمیرِ انسان تک

​اس تناظر میں نصاب کے بنیادی وظیفے (فنکشن) کے بارے میں سوال اٹھایا جاتا ہے: کیا نصاب کا کام صرف متعلم (طالب علم) کو معلومات فراہم کرنا ہے؟ یا یہ کہ اس کی حدود نقلِ علم (Knowledge Transfer) سے آگے بڑھ کر "صناعتِ علم” (Knowledge Creation) کے دائرے تک پہنچتی ہیں؟

​یقیناً اس سوال کے جواب پر غور کرنے والے کو انسانی زندگی میں علم اور تعلیم کے بنیادی کردار کی طرف لوٹنا ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ علم اور تعلیم کو انسان کی تعمیر اور زندگی کی تشکیل کے فریم ورک کا حصہ ہونا چاہیے۔ انسان کا فطری اور علمی تجسس اسے اپنی ضرورت کا تعین کرنے اور پھر اسے پورا کرنے کی سعی پر ابھارتا ہے؛ چاہے وہ اپنے ارد گرد کی موجودات کو جاننا ہو، یا لذت و الم اور خوشحالی و بدحالی کی حقیقت کو سمجھنا ہو۔ پھر یہ خواہش مزید پروان چڑھتی ہے تاکہ وہ حقیقتِ وجود، اس کے اسباب، فلسفہٴ حیات، اور اس کائنات کے خالق و مدبر کو پہچان سکے۔

​انسان محض ان علوم سے آراستہ ہونے یا مختلف موضوعات پر معلومات حفظ کر لینے پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ وہ اس قابل بننا چاہتا ہے کہ اپنی ذات، اپنے خالق، تخلیق کے مقصد، وجود، اور دیگر موجودات کے ساتھ اپنے تعلقات کی نوعیت کو سمجھے، جو اس کی زندگی کے خدوخال کو سنوارنے، اس کے کمال اور ارتقا میں معاون ہوتے ہیں۔

​وہ فرق جو ہم "حفظ شدہ علم” اور "انسان کی معنوی و عملی زندگی پر اثر انداز ہونے والے علم” کے درمیان دیکھ سکتے ہیں، وہ اسی قدر ہے جس قدر یہ علم انسان کے مختلف حیاتياتی و معنوی ابعاد کو بہتر بنانے کے کام آ سکے۔

​نصابِ تعلیم، متعلم و تربیت پانے والے کی شخصیت اور اس کی عقلی، ادراکی اور معنوی صلاحیتوں کی تعمیر کا ایک راستہ اور ذریعہ ہے۔ یہ اس کی فطرت میں رکھی گئی اور ودیعت کی گئی پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔

​”ہمارے تصور میں تعلیمی نصاب سے مراد: ثابت حقائق، معاہیر، اور قدروں کا ایک کامل نظام ہے، جس میں انسان کے متغیر تجارب، علوم اور مہارتیں شامل ہیں۔” —

​لہٰذا نصاب کے واضعین، ڈیزائنرز، اور اس کے اجزاء کے انجینئرز کو اس گہرائی اور ہمہ گیری کا لحاظ رکھنا چاہیے۔

​2. علم کو گہرا کرنے کے بجائے سطحی بنانا

​منہاجی طور پر "علم کو سطحی بنانے” (Knowledge Flattening) سے ہماری مراد یہ ہے کہ جو نصاب تیار کیے جاتے ہیں، وہ محض سادہ عقلی اور علمی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کرتے ہیں؛ جیسے طالب علم کا صرف معلومات سے آگاہ ہو جانا، انہیں سمجھ لینا، ان کی تشریح یا حفظ کر لینا، اور ان کے سادہ مفاہیم کو جان لینا۔

​جبکہ ایک ایسا نصاب تیار کرنا جو سائنسی حقائق و دانش کی دریافت، حقائق کے اسرار میں غوطہ زنی، جدت، تخلیق، تنقید، تجزیے، اور پوشیدہ پہلوؤں کو ظاہر کرنے پر مبنی ہو—وہی متعلمین میں "ادراکی علم” کو گہرا کرتا ہے۔

​اس کے برعکس، علم کو ٹکڑوں میں بانٹنا اور اسے اس کے مادی/ظرفی سياق، اور عصرِ حاضر کے واقعی سوالات و مسائل سے الگ تھلگ کر دینا، بہت سے پیچیدہ سائنسی مسائل کو محض تیار شدہ اور راست (ڈائریکٹ) جوابات تک محدود کر دیتا ہے۔

​تعلیمی و تربیتی عمل کے دوران ڈیزائن شدہ نصاب میں جو یہ خلا اور مسئلہ ہم دیکھتے ہیں، اس کی کئی وجوہات ہیں:

​حفظ اور یادداشت کی دہرائی پر مبنی اندازِ قدر (Evaluation/Assessment) کا غلبہ۔

​تدریسی وقت کی محدودیت کے مقابلے میں مواد (Syllabus) کی کثرت۔

​تعلیم میں سوالات اور واقعی مسائل کے استعمال میں کمی، یا طالب علم کو یہ صلاحیت دینے میں کمزوری کہ وہ حاصل کردہ علم کو اپنی عملی زندگی میں استعمال کر سکے۔

روایتی تعلیمی ماڈلز پر انحصار۔

​خود معلم/مربی کی تربیت میں گہرے تفکر کی تعمیر کا فقدان (بعض اوقات)۔

​3. ادراکی گہرائی: ہم متعلم کی شخصیت میں کیا تعمیر کرنا چاہتے ہیں؟

​ادراکی گہرائی (Cognitive Depth) سے مراد متعلم اور طالب علم کی مندرجہ ذیل صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے:

​نصوص اور متن کی علمی دلالتوں کو گہرائی سے سمجھنا، نہ کہ صرف حفظ کرنا اور یاد رکھنا۔

​تجزیہ، تشریح، اور نتائج کا استخراج (Inference) کرنا۔

​معلومات کے متعدد اجزاء میں ربط قائم کرنا، اور عقلی و علمی نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا۔

​مختلف تعلقات اور پیٹرنز (Patterns) کی دریافت۔

​تنقید، جائز ہ، اور اصلاح/تقویم (Evaluation & Assessment)۔

​نئے علم کی تخلیق، اور ایسے مسائل کا حل جن کے لیے فکرِ ثاقب یا اعلیٰ عقلی عمل (Higher-order Thinking) کی ضرورت ہو۔

​جزوی سے کلی کی طرف منتقل ہونا، اور مظاہر کا تجزیہ کر کے ان کے عناصر، اثرات، اور اسباب کی نشاندہی کرنا۔

​یہ وہ ہندسی ساخت (Structure) ہے جس کے مطابق اگر نصاب کی تشکیل و ڈیزائننگ کی جائے ، تو وہ متعلمین میں ادراکی گہرائی پیدا کرتی ہے۔ اس طرح نصاب اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ مطلوبہ انسان کی تشکیل کر سکے—ایسا انسان جو اپنی ذات، زندگی، اور وجود کے مقصد کو سمجھتا ہو؛ اپنے آپ، اپنے خالق، اور اپنے ارد گرد کے ماحول کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے قابل ہو؛ جو زندگی کے تمام شعبوں میں فعال اور ارتقاء پذیر ہو۔

​اس مقصد کے لیے مندرجہ ذیل تحولات (Shift) ضروری ہیں:

​مواد کی کثرت (Density) سے مواد کی کوالٹی (Quality) کی طرف منتقل ہونا۔

​صرف معلومات مانگنے والے سوالات کے بجائے، فکر کو بیدار کرنے والے سوالات کی طرف بڑھنا۔

​محض حفظ سے فہم، تجزیہ، ترکیب، اور تطبیق (Application) کی طرف پیش رفت۔

​الگ تھلگ تعلیمی مضامین کے بجائے، مختلف علوم اور شعبہ ہائے علم کے مابین کامل ربط و تکامل (Integration) قائم کرنا۔

​واحد جواب کی پابندی سے تحقیق، استدلال، اور دلائل کی طرف منتقل ہونا۔

​نصاب میں عملی زندگی کے مسائل اور پروجیکٹس کو شامل کرنا جو حقیقی چیلنجز سے مربوط ہوں، نیز تحقیق اور تلاش کا عنصر شامل کرنا۔

​جائزے/امتحان کے انداز میں بحالی تاکہ وہ فہم کی گہرائی کو ماپ سکے (اور نصاب کی تبدیلی کے نتائج کا مشاہدہ کر سکے)، نہ کہ صرف حفظ کردہ معلومات کی مقدار اور دہرانے کی صلاحیت کو۔

​”جدید اور مبتکرانہ نصاب ایک مکمل نظام کی نمائندگی کرتا ہے جس میں اہداف، مواد، تدریسی طریق کار، اور جائزے کے اساليب سب شامل ہوتے ہیں۔” —

​نتیجہ

​ادراکی و علمی گہرائی کے نقطہ نظر سے تعلیمی نصاب کی ازسرِ نو تشکیل اور ڈیزائننگ، لازمی طور پر پورے تعلیمی اور تربیتی عمل کو درست سمت فراہم کرے گی۔ کیونکہ تعلیمی عمل اور اس کے تمام اجزاء میں نصاب کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔ یہی چیز نصاب کو موجودہ دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے قابل بنائے گی اور اسے مستقبل میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور ارتقا کا ساتھ دینے کے لیے تیار کرے گی۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

13 + 12 =