اکتوبر 18, 2026

سیاسیات۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اپنے جوہری عزائم ترک کردے، بصورت دیگر اسے امریکا کی تباہ کن فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

امریکی ریاست ٹینیسی کی یونیورسٹی میں ریزرو آفیسرز ٹریننگ کور کے کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے کہا کہ ایران کو جلد فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات کی میز پر اپنے جوہری عزائم سے دستبردار ہوتا ہے یا امریکی فوجی کارروائی کا سامنا کرتا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ تہران فوجی کارروائی سے بچنے کے لیے روایتی میزائلوں کا بڑا ذخیرہ تیار کر رہا ہے جبکہ اس کے جوہری عزائم بھی برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالف قوتوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لیے امریکی فوجی طاقت ضروری ہے۔

ہیگسیتھ نے ایران پر حزب اللہ اور یمن کے حوثی گروپ کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام بھی لگایا۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے امریکی فوجیوں اور بحری جہازوں پر حملوں کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا لاطینی امریکا میں ایران، چین اور روس کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے وینزویلا میں امریکی آپریشن کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے طویل مدتی اثرات مرتب ہوں گے اور وینزویلا تیل کے ذخائر کے باعث امریکا کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

4 × five =