جون 19, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر 

23 ستمبر 2025 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کچھ عرب ممالک اور کینیڈا، آسٹریلیا، فرانس، پرتگال وغیرہ نے کہا ہے کہ فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرتے ہیں مگر منافقانہ طرز عمل بھی شامل حال ہے، فرانس کے میکرون نے کہا ہے کہ فلسطین کو علیحدہ ریاست بنا کر غیر مسلح کیا جائے اور مقبوضہ کشمیر کی طرح یرغمال بھی رکھا جائے، اردن کے سربراہ عبداللہ دوئم نے تو اسرائیل کی کھلم کھلا مخالفت کی ہے اور اس ناجائز ریاست کے ظلم و ستم کو اچھی طرح بے نقاب کیا ہے مگر یونہی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ختم ہوتا ہے تو مسلم عرب سربراہان نے ٹرمپ سے ملاقات کا شرف بھی حاصل کر لیا، غزہ میں بھوک و پیاس سے مرنے والوں کے لئے خوراک و دیگر امداد پہنچانے کا کوئی مطالبہ نہ کیا گیا اور لگتا ہے کہ نہ کچھ ہونے کی امید ہے، محض تقریریں اور منافقانہ بیانات ریکارڈ کروا کر مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی طرح مقبوضہ فلسطین کا تنازعہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے، حالانکہ غزہ کی تباہی کی بدترین مثال دنیا میں نہیں ملتی، دنیا کو بالخصوص مسلمانوں کو اسرائیل سے ڈرنا نہیں چاہئے، مگر انتہائی افسوس ہے کہ اقوام عالم بشمول مسلم امہ دور حاضر کے دجالوں سے تھر تھر کانپ رہے ہیں

مگر قابل فخر رہنما انقلاب آیت اللہ علی خامنہ‌ای نے سامراجی اور استعماری دجال کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عین اسی وقت پر جلال اور بارعب انداز سے تہران خطاب کیا جب دجال ٹرمپ اپنے دجالی دوست نیتن یاہو کے  اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قصیدے پڑ رہا تھا، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ‌ای نے پورے اقوام عالم کو پیغام دینا شروع کردیا کہ رہنما انقلاب کہہ رہا ہے کہ ہم نہیں جھکے اور کبھی نہیں جھکیں گے، اس معاملے میں اور ہر دوسرے معاملے میں ہم دباؤ کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔ موجود صورتحال کے پیش نظر امریکی حکومت کے ساتھ بات چیت ہمارے قومی مفادات میں نہیں، ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں رکھتی اور نہ ہی ہمارے کسی نقصان کو روکتی ہے، سب سے اہم بات یہ کی کہ شاید بیس تیس سال بعد حالات بدل جائیں  ،

رہنما انقلاب ایران نے بیس تیس سال کا تذکرہ کرتے ہوئے اشارہ دیا ہے کہ ایرانی چٹان کی طرح سامراجی قوتوں کے خلاف ڈٹے رہیں گے،

قارئین محترم

جب میں نے آقائے خامنہ‌ای کے اس بیان کو پڑھا کہ مزید بیس تیس سال تک ایرانی قوم حالت جنگ میں رہنے کے تیار ہے اور خود سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ پورے سامراجی نظام کو روندنے کا مستحکم ارادہ ہے جبکہ  IAEA والے مسلسل دباؤ بڑھا رہے ہیں اور کئی دہائیوں سے ایران پر اقتصادی پابندیاں اور بحران رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے اور حال ہی میں وال اسٹریٹ جرنل کے صحافی کا دعوی: سامنے آیا ہے کہ

تین یورپی ممالک سے 23 ستمبر 2025 کو عراقچی کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اسنیپ بیک میکانزم کے تحت ایران پر عائد ہونے والی پابندیوں کو اب نہیں روکا جاسکتا۔

اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے  بقول

ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی: ایران اپنے 60٪ یورینیم کی سختی سے حفاظت کر رہا ہے اور ان کا مقام معلوم نہیں ہے، یہ حتیٰ کہ فوجی حملے سے بھی ختم نہیں ہوگا۔

آخر کونسا عظیم عمل کار فرما ہے کہ ایرانی قوم مسلسل اپنے ایمان، قوت، جذبے، اور تمام جوہری توانائیوں سمیت پوری منصوبہ بندی سے اپنی منزل کی طرف گامزن ہے چاہے مزید بیس تیس سال اور لگ جائیں ایرانی رہنما متزلزل نہیں ہونگے، حالانکہ ان کے سائینسدان قتل کر دیئے جاتے ہیں، ملکی سربراہان کو قتل کر دیا جاتا ہے مگر نہ تو سائینسدان کم ہوتے ہیں نہ ہی ملکی سربراہان کے حوصلے پست ہوتے ہیں اس کی وجہ مجھے  ایرانیوں کی مدح و تعریف احادیث اور قرآنی آیات کی روشنی میں حاصل ہوئیں ہیں

سورہ محمد کی آیت نمبر 38

ہٰۤاَنۡتُمۡ ہٰۤؤُلَآءِ تُدۡعَوۡنَ لِتُنۡفِقُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۚ فَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یَّبۡخَلُ ۚ وَ مَنۡ یَّبۡخَلۡ فَاِنَّمَا یَبۡخَلُ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ الۡغَنِیُّ وَ اَنۡتُمُ الۡفُقَرَآءُ ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ﴿٪۳۸﴾

۳۸۔ آگاہ رہو! تم ہی وہ لوگ ہو جنہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو تم میں سے بعض بخل کرتے ہیں اور جو بخل کرتا ہے تو وہ خود اپنے آپ سے بخل کرتا ہے اور اللہ تو بے نیاز ہے اور محتاج تم ہی ہو اور اگر تم نے منہ پھیر لیا تو اللہ تمہارے بدلے اور لوگوں کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔

صاحب کشاف نے جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 331 میں کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قوم کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا ذکر مذکورہ آیت میں ہے تو سلمان فارسی نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھے تھے آپ نے ان کے کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا

؛  یہ اور اس کی قوم  ؛

جناب پیغمبرِاسلام نے پھر فرمایا کہ قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا( ستارے ) سے مربوط ہو، بندھا ہوا ہو تو فارس( ایران ) کے مرد اس کو ضرور لے آئیں گے۔

صاحب مجمع البیان نے امام محمد باقر علیہ السّلام سے روایت کی ہے کہ اس آیت مذکورہ میں قوم سے مراد موالی یعنی غیر عرب ہیں۔

جناب پیغمبرِاسلام محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی

 ۚ وَ اِنۡ تَتَوَلَّوۡا یَسۡتَبۡدِلۡ قَوۡمًا غَیۡرَکُمۡ ۙ ثُمَّ لَا یَکُوۡنُوۡۤا اَمۡثَالَکُمۡ﴿٪۳۸﴾

اگر تم نے منہ پھیر لیا تو اللہ تمہارے بدلے اور لوگوں کو لے آئے گا پھر وہ تم جیسے نہ ہوں گے

تو اصحاب رسول نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کون لوگ ہیں ؟

کہ اگر ہم پیچھے ہٹ گئے تو خدا ہمارے بدلے ان کو لے آئے گا  ؟

تو جناب رسول خدا نے سلمان فارسی کے کاندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا

؛ یہ اور  اس کی قوم ؛

حدیث میں دو معنی متفق علیہ ہیں

1 ۔ فارس اللہ تعالٰی کے نزدیک عربوں کے بعد اسلام اٹھانے میں دوسرا خط ہیں۔

2۔  اور یہ کہ وہ ایمان تک پہنچ جائیں گے چاہے ایمان جتنا بھی دور اور اس کا راستہ کتنا ہی دشوار کیوں نہ ہو۔

1۔ کیا عربوں کو جو یہ دھمکی دی گئی ہے کہ اللہ تعالٰی ان کو فارس سے تبدیل کر دے گا تو یہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم پر آیت کے نزول کے ساتھ مخصوص ہے یا یہ بات ہر نسل کے لئے جاری ہے یعنی یہ کہ اے عربو  !

جس نسل میں بھی تم بدلو گے تو اللہ تعالٰی تمہارے بدلے اسلام کے لئے فارس کو لے آئے گا ظاہر ہے کہ یہ عام اور ہر دور میں جاری حکم ہے کیونکہ مورد کا خاص ہونا وارد ہونے والے پیغام یا آیت کو خاص نہیں کر دیتا ۔ اور یہ کہ قرآنی آیات ہر دور میں سورج اور چاند کی طرح جاری ہیں جیسا کہ حدیث میں ہے کہ اس پر تمام مفسرین کا اتفاق بھی ہے

2۔  حدیث بتاتی ہے کہ فارس کے مرد علم و ایمان کو پالیں گے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ سب علم و ایمان کو پا لیں گے پس یہ ان کے نابغہ افراد کی تعریف ہے سب کی نہیں۔

لہذا مذکورہ بالا آیت اور احادیث کی روشنی میں عنوان ہے کہ عرب عمومی طور پر اسلام چھوڑ دیں گے اور اس طرح ان کے مقابلے میں خدا فارس کو لے آئے گا پس یہ قوم فارس کی تعریف ہے۔ اس حوالے سے کہ وہ نابغوں کی سرزمین ہے اور وہ نابغہ افراد کی اطاعت کرنے کی لیاقت رکھتے ہیں۔

کیا عرب اسلام سے پھر گئے ہیں اور خدا اہل فارس ( ایران ) کو ان کے بدلے میں لے آیا ہے یعنی اب اس کا وقت آگیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یا نہیں  ؟ جو منصف افراد ہیں انہوں نے یہ بات تسلیم کرلی ہے کہ اس تبدیلی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے یعنی ایرانی حاملین اسلام ہوں گے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

fourteen + 7 =