تحریر: سید اعجاز اصغر
ٹرمپ کے حالیہ بیان نے سابقہ امریکی صدور اور اسٹیبلشمنٹ کی مذموم عزائم کی عکاسی ہے، ٹرمپ نے کہا کہ یوکرائن جنگ میں امریکہ کو بہت زیادہ مالی فائدہ پہنچا ہے، امریکی اسلحہ اور بارود یوکرائن جنگ میں استعمال ہورہا ہے اور امریکی معیشت مضبوط ہورہی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے امریکہ کمزور ممالک میں بدامنی، قتل و غارت گری، دہشت گردی اپنا اسلحہ بیچنے کی خاطر کرتا رہتا ہے، اب سوچی سمجھی سازش کے تحت غزہ میں نسل کشی جاری ہے اس حوالے سے
اسرائیل کے وزیرِ مالیات بیزلیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ غزہ پٹی ایک "ریئل اسٹیٹ بونانزا” (جائدادِ غیر منقولہ کا سنہری موقع) بن رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایک کاروباری منصوبہ (business plan) پیش کیا گیا ہے، اور یہ منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میز پر ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے اس جنگ کے لیے بہت زیادہ پیسے خرچ کیے ہیں، اس لیے اب یہ فیصلہ کرنا ضروری ہے کہ بعدِ جنگ زمین کی تقسیم کے فیصد کیسے ہوں گے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں "تباہ کرنے کا مرحلہ” پہلے ہوچکا ہے (demolition phase)، جو شہری علاقوں کی تجدیدِ شہر کی عام شروعات ہوتی ہے، اور اب اگلے مرحلے یعنی تعمیر کرنے کا وقت ہے کیونکہ یہ "زیادہ سستا” ہوگا۔
یہ بیان عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بنا ہے، خاص طور پر بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے، جس میں مقامی آبادی کے حقوق، غیر مسلح شہریوں کے تحفظ، اور انسانی حقوق کے اصول شامل ہیں۔
حقوقِ انسانی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر یہ منصوبہ زمین کا منافع کمائی کے مقصد سے ہو اور شہریوں کی بے دخلی یا نقل مکانی پر مبنی ہو، تو وہ قانونی اور اخلاقی حدود کو پار کرتا ہے۔
گریٹر اسرائیل کا حدود اربعہ جس میں مدینہ منورہ، عراق، شام، یمن اور لبنان شامل ہیں، یہ سب ڈونلڈ ٹرمپ کی یہود نواز سوچ کی عکاسی ہے، صدر ٹرمپ کا ریئل اسٹیٹ کاروباری منصوبہ اپنے منطقی انجام کے قریب ہے مگر خوش قسمتی اور اللہ تعالٰی کی غیبی مدد کا نتیجہ ہے کہ حالیہ سعودی عرب اور پاکستان کا دفاعی معاہدہ قوی امکان ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے میزائل اسرائیل کی سرحد کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، حرمین شریفین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ امریکہ و اسرائیل کے ریئل اسٹیٹ کاروباری منصوبے اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے چکنا چور ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






