تحریر: رونق علی رضوانی
جو لوگ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور لبنان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ لبنان اور خطے کی ان دو تابناک اور شاندار فتوحات کو بھول گئے ہیں۔
مقاومت کا اسلحہ کبھی لبنانی عوام کے خلاف استعمال نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ دشمن کے خلاف استعمال اور لبنان کے دفاع کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
لبنان کے چند پارلیمانی اراکین اور سیاستدانوں نے 20 اگست 2025 کو حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم کے خلاف شکایت درج کرائی۔ شیخ نعیم قاسم نے اپنے حالیہ خطاب میں حکومت لبنان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ لبنانی حکومت وطن عزیز کو اسرائیل کے سامنے جھکانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اخبار رای الیوم کے ایڈیٹر عبدالباری عطوان کے مطابق، یہ اقدام صرف قانونی یا سیاسی کارروائی نہیں ہے، بلکہ لبنان میں خانہ جنگی کے لیے قانونی چھتری کے تحت سازش ہے۔ اس کا مقصد صدر اور وزیراعظم کے فیصلے کو قانونی جواز فراہم کرنا اور حزب اللہ کو فوج کے ذریعے غیر مسلح کرنا ہے، جو امریکی اور اسرائیلی منصوبے کے تحت اس سال کے اختتام تک انجام پانا ہے۔
شیخ نعیم قاسم کے خلاف شکایت بیروت کے علاقے الاشرفیہ میں سابق وزیر اور موجودہ پارلیمانی رکن اشرف ریفی کے دفتر میں کی گئی۔
اجلاس میں شرکاء نے شیخ نعیم قاسم کے خطاب پر غور کیا اور حزب اللہ پر الزام لگایا کہ وہ فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو بڑھا کر لبنان کو خانہ جنگی میں دھکیل رہا ہے۔
بعد ازاں اس معاملے کو عدلیہ کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور مختلف پارلیمانی اراکین اور پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت کر کے مزاحمت مخالف محاذ بنانے کی کوشش کی گئی۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقاومت کا اسلحہ معاہدہ طائف کے تحت مکمل قانونی ہے، جس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مزاحمت کا ہتھیار برقرار رکھا جائے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، لبنان کو جس صورتحال کا سامنا ہے، وہ ایک نئی داخلی جنگ کی کوشش ہے، جس میں سیاسی اور پارلیمانی عناصر اور عدلیہ حزب اللہ کے ہتھیار چھیننے کے لیے شامل ہیں، جیسا کہ امریکی نمائندہ توماس باراک نے لبنان کی حکومت، صدر اور پارلیمنٹ کو پیش کیا ہے۔
اس منصوبے کے تحت مقاومت کے اسلحہ کو جرم قرار دینے اور اس کے مالی و عسکری ذرائع کو محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، خاص طور پر شامی راستے کے ذریعے۔
یہ اتفاق نہیں کہ نئے سیاسی محاذ اور خانہ جنگی کی ابتدائی جھڑکیاں الاشرفیہ سے شروع ہو رہی ہیں، کیونکہ لبنان کی پہلی خانہ جنگی بھی اسی علاقے سے شروع ہوئی تھی۔ پہلی جنگ داخلی فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے لیے تھی، لیکن اب ہدف حزب اللہ ہے، جس نے دو بار اسرائیل کو لبنان میں شکست دی:
پہلی بار جنوبی لبنان کی آزادی کے دوران اور دوسری بار جولائی 2006 میں۔
شیخ نعیم قاسم اور حزب اللہ کے مخالفین ان دو تاریخی فتوحات کو بھول گئے ہیں۔
مزاحمت کے ہتھیار کبھی لبنانی عوام کے خلاف نہیں ہوئے، بلکہ ہمیشہ دشمن کے خلاف استعمال ہوئے۔ یاد رہے کہ حزب اللہ اور تحریک امل ہی وہ تھے جنہوں نے صدر جوزف عون کو بعبدا محل ( صدارتی محل) تک پہنچایا، اور حکومت کی تشکیل میں مدد دی، جس میں موجودہ وزیراعظم نواف سلام بھی شامل ہیں، جو اب حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں میں سب سے آگے ہیں۔
شیخ نعیم قاسم کے مطابق، جو بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کرے گا، وہ ایک "کربلائی جنگ” کے لیے تیار رہے، یعنی یا فتح یا شہادت۔
مقاومت کا اسلحہ مقدس ہے اور اسے صرف مقدس مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس میں سب سے اہم لبنان اور اس کی حاکمیت کا دفاع ہے۔
انشاء اللہ شیخ نعیم قاسم لبنان کو منظم کریں گے اور جنوب لبنان کو اسرائیل کے شکنجے سے آزاد کروائیں گے
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








