جولائی 2, 2026

سیاسیات۔ نائب ایرانی وزیر خارجہ "کاظم غریب‌ آبادی” نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ٹویٹ کیا، جس میں انہوں نے لکھا کہ "آبنائے ہرمز” سینٹ کام کی بجائے ایران کے ماتحت ہے۔ اس لئے بحرین میں ہونے والا فوجی اجلاس، خلیج فارس کو قانونی اور سیکورٹی تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ علاقائی امن و امان امریکی عسکری چھتری سے قائم نہیں ہوگا بلکہ خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے، انخلاء، ممالک کی خودمختاری کے احترام اور نئی جغرافیائی سیاسی حقیقتوں کو قبول کرنے سے حاصل ہوگا۔ واضح رہے کہ مغربی ایشیاء میں دہشت گرد امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ بدھ کے روز اس نے بحرین میں علاقائی سیکورٹی کے حوالے سے مذاکرات کی سربراہی کی۔

بیان کے مطابق، اس اجلاس میں 12 ممالک کے نمائندوں نے علاقائی سیکورٹی، دفاعی تعاون اور آبنائے ہُرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر بات چیت کے لئے شرکت کی۔ شرکت کرنے والوں میں بحرین، مصر، اُردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن کی مستعفیٰ حکومت کے اعلیٰ فوجی افسران شامل تھے۔ مذکورہ اجلاس کی سربراہی سینٹ کام کے کمانڈر "بریڈ کوپر” نے کی۔ بیان میں سینٹ کام نے مزید کہا کہ اجلاس کے شرکاء نے آبنائے ہُرمز کے ذریعے آزاد تجارت کو برقرار رکھنے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

18 + eleven =