جولائی 26, 2026

تحریر: محمد ثقلین واحدی

بھارت کے وزیرِاعظم نریندر مودی کا تل ابیب پہنچنا محض ایک سفارتی سفر نہیں بلکہ عالمی سیاست میں بدلتے اتحادوں کی ایک واضح علامت ہے۔ یہ وہ وقت ہے، جب مشرقِ وسطیٰ جنگوں، طاقت کے نئے توازن اور عالمی صف بندیوں کے مرحلے سے گزر رہا ہے اور ایسے ماحول میں بھارت کا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہونا کئی سیاسی پیغامات رکھتا ہے۔ سب سے پہلے اس دورے کو بھارت کی بدلتی خارجہ پالیسی کے تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ایک وقت تھا، جب دہلی فلسطینی کاز کے قریب سمجھا جاتا تھا، مگر اب بھارت کھل کر اسرائیل کے ساتھ دفاعی، تکنیکی اور اسٹریٹیجک تعاون بڑھا رہا ہے۔ یہ تبدیلی کسی جذباتی فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ طاقت کی سیاست کا تقاضا ہے۔

بھارت اب خود کو ایک ابھرتی عالمی قوت کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے اسے جدید ٹیکنالوجی، عسکری تعاون اور مغربی بلاک تک رسائی درکار ہے۔۔۔ جس کے لئے اسرائیل ایک اہم دروازہ ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے لیے بھی یہ دورہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ غزہ جنگ کے بعد اسے عالمی سطح پر تنقید اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں دنیا کی سب سے بڑی (نام نہاد) جمہوریت کا وزیرِاعظم تل ابیب میں موجود ہو تو یہ اسرائیل کے لیے سفارتی سہارا اور سیاسی علامت دونوں بن جاتا ہے۔ اسرائیل یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ عالمی تنہائی کا شکار نہیں بلکہ بڑی طاقتیں اس کے ساتھ کھڑی ہیں۔

اس دورے کا سب سے اہم پہلو دفاعی تعاون ہے۔ بھارت پہلے ہی اسرائیلی ڈرونز، نگرانی نظام اور میزائل ٹیکنالوجی کا بڑا خریدار ہے۔ چین کی بڑھتی فوجی طاقت اور پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے باعث دہلی کو جدید دفاعی شراکت کی ضرورت ہے، جبکہ اسرائیل کو ایک مستحکم خریدار اور ایشیا میں سیاسی اتحادی چاہیئے۔ اس طرح یہ تعلق محض سفارتی نہیں بلکہ مفادات کا اتحاد بنتا جا رہا ہے۔ تاہم اس دورے کا ایک حساس پہلو بھی ہے۔ بھارت کو اسرائیل کے قریب جاتے ہوئے عرب دنیا، ایران اور اپنے کروڑوں مسلم شہریوں کے جذبات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔ دہلی کی کوشش یہی ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات بڑھاتے ہوئے خلیجی ممالک کے ساتھ معاشی اور توانائی روابط برقرار رکھے۔ یہی سفارتی توازن مودی حکومت کی اصل آزمائش ہے۔

اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو مودی کا تل ابیب پہنچنا ایک بڑے جغرافیائی پیغام کی نمائندگی کرتا ہے: دنیا اب نظریات سے زیادہ مفادات پر چل رہی ہے۔ اتحاد مذہب، نظریہ یا تاریخ کی بنیاد پر نہیں بلکہ دفاع، تجارت اور ٹیکنالوجی کے محور پر تشکیل پا رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل کا قریب آنا اسی نئے عالمی رجحان کی علامت ہے۔ یہ دورہ ختم ہو جائے گا، معاہدے بھی ہو جائیں گے، تصویریں بھی اخبارات کی زینت بنیں گی، مگر اصل سوال باقی رہے گا: کیا یہ تعلق محض اسٹریٹیجک مفاد تک محدود رہے گا یا مستقبل میں ایک بڑے سیاسی اتحاد کی شکل اختیار کرے گا۔؟ آنے والے دن اس سوال کا جواب دیں گے۔۔۔۔۔۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 − four =