تحریر: بشارت حسین زاہدی
پاکستان میں ملتِ تشیع کی تاریخ قربانیوں اور جدوجہد سے عبارت ہے۔ جب بھی قوم پر کڑا وقت آیا، انگلیاں ہمیشہ قیادت کی جانب اٹھیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ ہم مشکل وقت میں قیادت کو تنقید کا نشانہ تو بناتے ہیں، لیکن جب وہ پکارتی ہے تو صفوں میں وہ اتحاد نظر نہیں آتا جس کا تقاضا وقت کرتا ہے۔
زمینی حقائق اور بے جا موازنہ
اکثر معترضین پاکستان کی قیادت کا موازنہ ایران، عراق یا لبنان کے حالات سے کرتے ہیں۔ یہ موازنہ نہ صرف غیر منطقی ہے بلکہ ناانصافی پر مبنی ہے۔ ہر ملک کے اپنے سیاسی، سماجی اور جغرافیائی حالات ہوتے ہیں۔ ایران میں ایک قائم نظام ہے، جبکہ عراق اور لبنان کی طاقت کا ڈھانچہ مختلف ہے۔ پاکستان میں ایک اقلیت کے طور پر ریاست کے قانون کا احترام کرتے ہوئے حقوق کی جنگ لڑنا ایک نہایت ہی پیچیدہ عمل ہے۔ یہاں کا سفر "جذبات کی رو” میں بہنے کا نہیں بلکہ "تدبر اور بصیرت” کے ساتھ قدم پھونک پھونک کر رکھنے کا نام ہے۔
خاموشی یا مصلحت؟
قیادت پر ایک اعتراض یہ ہوتا ہے کہ وہ "جذباتی ردعمل” کیوں نہیں دیتی۔ یاد رکھیے، قیادت کا کام ہجوم کو اشتعال دلانا نہیں بلکہ قوم کو کسی بڑے حادثے سے بچانا ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں میں قیادت نے جو فیصلے کیے، وقت نے ثابت کیا کہ وہ درست تھے۔ اگر وقتی طور پر وہ فیصلے کڑوے لگے، تو ان کے نتائج نے ملت کو بڑی آزمائشوں سے محفوظ رکھا۔
قائد کا سلیقہ بمقابلہ عوامی خواہش
اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہر خاص و عام یہ سوال اٹھاتا نظر آتا ہے کہ "قائد کو یہ کرنا چاہیے تھا” یا "قائد کو ایسا ہونا چاہیے تھا”۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا قائد کو ہر ایرے غیرے کے ذاتی سلیقے یا خواہش کے مطابق چلنا چاہیے؟ اگر قائد عوامی جذبات کے تابع ہو جائے تو وہ ‘رہبر’ نہیں بلکہ ‘پیروکار’ بن جاتا ہے۔ قائد کا وظیفہ حالات کی نزاکت کو سمجھ کر وہ فیصلہ کرنا ہے جو قوم کی بقا کے لیے ضروری ہو، نہ کہ وہ جو مجمع کو خوش کرنے کے لیے ہو۔
اپنا وظیفہ اور ہماری کوتاہیاں
افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم قیادت کی ذمہ داریوں کا تعین تو بڑھ چڑھ کر کرتے ہیں، لیکن اپنے "وظیفے” یعنی اپنی ذمہ داریوں پر عمل کرنے کی زحمت نہیں کرتے۔ ایک قوم کا وظیفہ نظم و ضبط، اطاعت اور عملی تعاون ہوتا ہے۔ جب ہم خود اپنے حصے کا کام نہیں کرتے، اپنے صفوں میں اتحاد پیدا نہیں کرتے اور اپنے انفرادی کردار کی اصلاح نہیں کرتے، تو ہمیں قیادت پر انگلی اٹھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں پہنچتا۔
خواص کا کردار: وقت کی پکار
اس تمام صورتحال میں "خواص” (علماء، دانشور اور بااثر شخصیات) کا کردار کلیدی ہے۔ خواص کو چاہیے کہ:
۱. وہ عوام کی ذہن سازی کریں کہ تبدیلی نعروں سے نہیں بلکہ تدبر اور اطاعت سے آتی ہے۔
۲. وہ قیادت اور عوام کے درمیان مضبوط پل کا کردار ادا کریں اور قائد کے وژن کی درست ترجمانی کریں۔
۳. وہ عوامی سطح پر کردار سازی پر توجہ دیں تاکہ قائد کو ایک ایسی منظم قوم میسر آئے جو صرف مشورے نہ دے بلکہ میدانِ عمل میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہو۔
حاصلِ کلام
ہماری قیادت مدبر بھی ہے اور تجربہ کار بھی۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم جذباتی نعروں اور بے جا تنقید کے بجائے ہوش مندی اور بصیرت کا مظاہرہ کرے۔ یاد رکھیے، اگر قائد اکیلا میدان میں ہو اور قوم پیچھے بیٹھ کر صرف تماشہ دیکھے یا مشورے دے، تو منزل کبھی قریب نہیں آتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے حصے کی شمع روشن کریں اور قیادت کے فیصلوں پر لبیک کہیں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








