تحریر: اختر عباس اسدی
حضرت آدمؑ کے بیٹوں کی مشہور قربانی جسے انسانیت کی تاریخ میں سب سے پہلی قربانی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور سورۂ مائدہ کی آیت نمبر ۲۷ سے لے کر ۳۰ تک اسے تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدمؑ کے دونوں بیٹے جناب ہابیل اور قابیل بھیڑ، بکریوں اور کھیتی باڑی کا کام کرتے تھے اور کافی تعداد میں ان کے ہاں بھیڑ، بکریاں موجود تھیں، حضرت آدمؑ نے انہیں خدا کی راہ میں قربانی کا حکم دیا، تاریخ میں ملتا ہے کہ جناب ہابیل نے اپنے بہترین اونٹ یا بھیڑ، بکری میں سے کسی ایک کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے انتخاب کیا اور قابیل نے بھی کچھ مقدار پرانی گندم کو قربانی کے لئے انتخاب کیا اور دونوں کی قربانیوں کا نتیجہ یہ ہوا کہ جناب ہابیل کی قربانی بارگاہ خداوندی میں قبول ہو گئی اور قابیل کی قربانی کو خلوص نہ پائے جانے کہ وجہ سے رد کر دیا گیا لہذا قابیل نے اپنی قربانی قبول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بھائی سے حسد کرنا شروع کر دیا جس کے نتیجہ میں شیطانی وسوسہ نے اسے اپنے بھائی کو قتل کرنے پر تیار کر دیا لہذا اس نے جناب ہابیل کو قتل کر ڈالا۔ قرآن مجید میں اس تاریخی واقعہ کو یوں بیان کیا گیا ہے: اذ قربا قربانا فتقبّل من احدهما و لم یتقبل من الاخر (مائده/۲۷) یعنی جب انہوں (جناب آدمؑ کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل) نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک (یعنی ہابیل) کی قربانی قبول ہو گئی اور دوسرے (قابیل) کی قربانی ردّ کر دی گئی۔
حضرت ابراہیم خلیلؑ کا اپنے بیٹے اسماعیل کی قربانی پیش کرنا جسے سورۂ صافات کی آیت نمبر ۱۰۲ سے لے کر ۱۰۷ تک بیان کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ، اپنے بیٹے اسماعیلؑ کو لے کر قربان گاہ میں پہنچے اور اپنے لخت جگر کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کا مصمم ارادہ کیا اور قربانی کرتےجناب اسماعیلؑ کی پیشانی کو زمین پر رکھا اور تیز چاقو کے ذریعے ان کا گلا کاٹنے کے لئے ان کی گردن پر چھری پھیری لیکن چھری نے گردن کو نہیں کاٹا۔ جب خدا نے باپ اور بیٹے کے اخلاص کو دیکھا تو ان کی قربانی کو قبول کیا اور جبرائیلؑ کے ساتھ ایک دنبہ کو اسماعیلؑ کے بدلے قربانی کیلئے بھیجا۔ یوں حضرت ابراہیمؑ نے اس حیوان کی قربانی خدا کی راہ میں پیش کی۔
وَ فَدَیْنٰهُ بِذِبْحٍ عَظِیْمٍ(الصافات۱۰۷) اور ہم نے ایک عظیم قربانی سے اس کا فدیہ دیا ۔
تفسیر آیات
ہم نے ایک عظیم ذبیحہ سے ابراہیم کے فرزند کا فدیہ دیا۔ بظاہر عظیم تو وہ فرزند تھے جن کا فدیہ دیا گیاہے۔لیکن قرآن اس ذبیحہ کو عظیم قرار دے رہا ہے۔
خصال صدوق میں روایت ہے کہ قیامت تک ہونے والی منیٰ کی قربانیاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ ہیں۔
بحارالانوار اور عیون اخبار الرضا میں آیا ہے: حج کے علاوہ ہر قربانی بھی اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ ہے۔ حضرت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کا ذبح عظیم کے مصداق ہونے پر متعدد روایات موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو تاویل الایات الظاھرۃ صفحہ ۴۸۷ کہ ان تمام قربانیوں سے سبط رسولؐ کی قربانی عظیم ہونے میں کسے تأمل ہو سکتا ہے۔
اس واقعہ سے قربانی کی سنت مرسوم ہوئی اور آج قربانی کرنا حج کے واجب ارکان میں سے ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اپنی بساط و طاقت کے مطابق اس سنت پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے ہوئے قربانی پیش کرتے ہیں۔
حضرت موسیؑ کے زمانہ میں یہودیوں کے عقیدہ کے مطابق دو قسم کی قربانیاں پائی جاتی تھیں ایک خونی اور دوسری غیر خونی۔ خونی قربانی کی بھی تین قسمیں تھیں: ایک وہ قربانی جسے آگ کی نظر کر دیا جاتا تھا اور اس کی چمڑی کے علاوہ کچھ باقی نہیں چھوڑتے تھے، دوسری وہ قربانی جسے وہ گناہوں کی تلافی کے لئے پیش کرتے تھے اور اس کے ایک حصہ کو جلا دیتے اور ایک حصہ کو پادریوں کے لئے باقی رکھتے۔ تیسری وہ قربانی جسے وہ اپنی تندرستی کے لئے پیش کرتے تھے اور اس کا گوشت کھانے میں وہ صاحبِ اختیار تھے۔ غیر خونی قربانی کا مطلب یہ تھا کہ وہ لوگ حیوانوں کو جنگل میں چھوڑ دیتے تھے۔ عربوں نے بھی بنی اسرائیل کی تقلید کی اور اس طرح کی قربانی کے ذریعہ وہ بتوں کا تقرب حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن اسلام نے اس طرح کی ناپسندیدہ رسوم کو حرام قرار دیا اور یہ وہی قربانی ہے جسے سورۂ مائدہ میں بحیرہ اور سائبہ کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔
عیسائی دین میں بھی عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ صرف جناب عیسیؑ نے قربانی پیش کی اور ان کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیؑ نے خود کو سولی پر چڑھایا اور انہوں نے پوری انسانیت کی خاطر خود کو فدا کر دیا۔ اسی وجہ سے عیسائیوں کے دین کے فروعات میں سے ایک یہ ہے کہ مہینہ یا سال میں ایک مرتبہ پادری کے پاس جائیں اور اپنی بساط کے مطابق اس کی خدمت میں کچھ رقم پیش کریں اور اس دوران انہوں نے جو گناہ انجام دئے ہیں ان کا بھی اقرار کریں تا کہ وہ پادری ان گناہوں کو بخش دے کیونکہ ان کے عقیدہ کے
مطابق اس کے اندر غفاریت کا ایک پہلو پایا جاتا ہے۔
عربوں میں بھی یہ رواج پایا جاتا تھا کہ جاہلیت کے دور میں جب قبائل کے روساء مکہ آتے تھے تو اہل مکہ ان کی میزبانی کرتے تھے اور ان کی آمد پر وہ اونٹ، گائے، بھیڑ، بکریوں وغیرہ کی قربانی پیش کرتے تا کہ اس طریقہ سے وہ اپنے بتوں کا تقرب حاصل کریں اور فقراء و مساکین کو کھانا بھی کھلائیں۔
خداوندمتعال نے قرآن میں بھی قربانی کو تقویٰ کے مصادیق میں سے شمار کیا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے” لَنْ یَنالَ اللَّهَ لُحُومُها وَ لا دِماؤُها وَ لکِنْ یَنالُهُ التَّقْوى مِنْکُمْ کَذلِکَ سَخَّرَها لَکُمْ لِتُکَبِّرُوا اللَّهَ عَلى ما هَداکُمْ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنینَ” (حج/۳۷) خدا تک ان جانوروں کا نہ ہی گوشت جانے والا ہے اور نہ خون۔ اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقوی جاتا ہے، اور اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارا تابع بنا دیا ہے کہ خدا کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی کبریائی کا اعلان کرو اور نیک عمل والوں کو بشارت دے دو۔
جو افراد حج کرنے نہیں گئے ان کے لئے قربانی واجب نہیں بلکہ مستحب ہے لیکن پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ اطہارؑ کی جانب سے اس سلسلہ میں بہت تاکید کی گئی ہے، ایک روایت میں ذکر ہوا ہے کہ ام المومنین امّ سلمہ(رض) پیغمبر اکرمؐ کے پاس آئیں اور کہا: اے رسول خداؐ عید قربان آ رہی ہے اور میرے پاس قربانی کے لئے رقم موجود نہیں کیا ایسی صورت میں مجھے قرض لے کر قربانی کرنا چاہئے؟ آپؐ نے فرمایا: قرض لو کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جو ادا کیا گیا ہے۔
روایات میں ذکر ہوا ہے کہ رسول خداؐ نے دو بکروں کی قربانی پیش کی ان میں ایک کو اپنے ہاتھون ذبح کیا اور اس کے بعد آپؐ نے فرمایا: اے خدا یہ میری اور میرے اہلبیتؑ میں سے ان افراد کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی اور اس کے بعد آپؐ نے دوسرے کو ذبح کیا اور فرمایا: اے خدا یہ میری اور میری امّت میں سے ان افراد کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔
لغت کے اعتبار سے ہر اس چیز کو قربانی کہا جاسکتا ہے جو خدا کے تقرب کا ذریعہ بنے اور اس کے قریب ہونے کا سبب بنے۔ عید قربان کے دن خداوندمتعال کی خوشنودی اور اس کی قربت کے حصول کے لئے کچھ مخصوص اور جامع الشرائط حیوانوں کو ذبح کرنے کو قربانی کہا جاتا ہے۔ اس دن قربانی کرنا حاجیوں پر واجب ہے لیکن دوسرے مسلمانوں پر اس دن قربانی کرنا مستحبّ مؤكّد ہے یہاں تک کہ بعض فقہاء کے نزدیک صاحب استطاعت افراد پر اس کا انجام دینا واجب ہے۔ اسی طرح نماز کی ادائیگی کے بعد اسی قربانی کے گوشت سے کھانا بھی مستحب ہے۔ قربانی کرتے وقت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقولہ اس دعا کا پڑھنا مستحب ہے: وَجَّهْتُ وَجْهِی لِلَّذی فَطَرَ السَّمواتِ وَ الارْضَ، حَنیفاً مُسْلِماً وَ ما أنَا مِنَ الْمُشْرِكینَ، إنَّ صَلاتی وَ نُسُكی وَ مَحْیای وَ مَماتی لِلّهِ رَبِّ الْعالَمینَ، لا شَریكَ لَهُ، وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَ أَنَا مِنَ الْمُسْلِمینَ. اَللّهُمَّ مِنْكَ وَلَكَ، بِسْمِ اللّهِ وَاللّهُ اَكْبَرُ. اَللّهُمَّ تَقَبَّلْ مِنّی۔
حدیث میں ذکر ہوا ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے فرمایا: امام سجادؑ اور امام محمد باقرؑ قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم فرماتے تھے: ایک حصے کو ہمسایوں میں دوسرے حصے کو نیازمندوں میں تقسیم کرتے تھے اور تیسرے حصے کو اہل خانہ کے لئے رکھتے تھے۔
قربانی مناسکِ حج کاحصہ ہےاس کےکرنےسےہی حج قبول ہوتاہے قربانی صرف ان حاجیوں پر واجب ہوتی ہے جو حج کےمناسک اداکرنےکےلئے سرزمین منیٰ میں تشریف لے جاتے ہیں اور ان لوگوں پر واجب نہیں جو ایام حج میں اپنے ممالک میں رہتے ہیں۔ حقیقت میں عید قربان کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان اپنی تمام خواہشات نفسانی کو بارگاہ الہیٰ میں قربان گاہ میں لے جائے اور اپنے معبود کے سامنے انہیں قربان کر دے، کیونکہ دین اسلام کے مطابق سب سے زیادہ گمراہ وہ ہے جو خدائی ہدایت کو چھوڑ کر اپنے نفس کی پیروی کرے ایسے شخص پر خدا کی ہدایت کا راستہ بھی بند ہو جاتا ہے۔ نو ذی الحجہ کو ہم امام حسینؑ سے منسوب دعائے عرفہ میں خدا کی معرفت کے قریب ہوتے ہیں اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تا کہ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو ہم اپنے نفس اور دنیوی آرزوؤں کی قربانی پیش کریں اور اس کے نتیجہ میں ہم خداوندمتعال کی قربت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔
لمحہ فکریہ
سوچنایہ ہےکہ سال میں ایک بارجانوروں کوقربان کرنےسےکیاہم اللہ تعالیٰ کوراضی کرلیں گے۔۔۔۔
دراصل کامیاب وہ ہےجس نےسال بھراللہ کی اطاعت کی اس کےاحکامات کوتسلیم کیااورلمحہ بھرکےلئےبھی احکامات خداوندی کےمقابلہ میں اپنےنفس کی اتباع نہیں کی۔
ہم خودکوقربان کب کریں گے؟
اللہ تعالیٰ بحقِ محمدوآلِ محمدعلیہم السلام ہمیں رزقِ حلال اورپاکیزہ کردارعطافرمائےتاکہ ہمیں وہ قربانی دینےکی توفیق عطاہوجومالک کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہے۔








