جولائی 6, 2026

تحریر: ارشاد حسین ناصر

اربعین گذر چکا ہے، بائی روڑ براستہ ایران جانے والے زائرین تاحال زیارت سے محروم ہیں، بہت تھوڑے ایسے ہیں جنہوں نے ویزے لگنے کی صورت میں فوری دگنا رقم دے کے بائی ایئر کا راستہ اختیار کیا اور زیارت سے مشرف ہونے پہنچ سکے، یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ اربعین کیلئے زیادہ تر زائرین براستہ کوئٹہ تفتان جاتے ہیں، ریمدان گوادر کا راستہ بھی اختیار کیا جاتا ہے مگر بہت کم بالخصوص اربعین کے موقعہ پہ کوئٹہ سے کانوائے تشکیل دیئے جاتے ہیں، حکومت نے اس برس بھی کانوائیوں کا شیڈول دیا تھا جو بلوچستان کی شیعہ قیادت کیساتھ ہم آہنگی سے دیا جاتا ہے، جب وزیر داخلہ محسن نقوی نے اچانک بائی روڑ سفر پہ پابندی کا اعلان کیا تو اس وقت تک لوگ اپنا سامان سفر باندھ چکے تھے اور بہت سے لوگ کراچی اور کوئٹہ بھی پہنچے ہوئے تھے، اس اچانک گرائے جانے والے بم کے خلاف پوری قوم سراپا احتجاج تھی۔

ایسے میں دونوں بڑی قومی جماعتوں مجلس وحدت مسلمین اور شیعہ علماء کونسل کے قائدین نے اپنے اپنے طور پہ اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کیا، پریس کانفرنسز کیں، کچھ ایریاز میں مظاہرے بھی ہوئے، احتجاجی کال بھی دی گئی، سب سے اہم بات یہ ہے کہ مجلس وحدت مسلمین چونکہ پارلیمانی جماعت بھی ہے دونوں ایوانوں میں اس کی نمائندگی موجود ہے لہذا اس نے بھرپور طریقہ سے اسمبلی کے فلور پہ مسئلہ کو اٹھایا، اس کے تعلقات چونکہ پی ٹی آئی کیساتھ بھی ہیں اس لیے اس کی طرف سے بھی مسئلہ زائرین کو بھرپور طریقہ سے سامنے لایا گیا، چند عام اراکین پارلیمان نے بھی بہت اچھی طرح اس ایشو پہ آواز بلند کی، گویا مسئلہ مکمل ہائی لائٹ ہوا، ایسا نہیں تھا کہ خبریں دبا دی گئیں، دوسری طرف پانچ اگست کو پی ٹی آئی کی احتجاجی کال تھی، مجلس وحدت نے چھ اگست کو کراچی سے گوادر مارچ کا اعلان کیا، جس کیلئے مرکزی قیادت کراچی پہنچ چکی تھی۔

اس دوران شیعہ علما ء کونسل سے بھی روابط کا سلسلہ جاری رہا تاکہ ایک اہم ایشو پہ مشترکہ موقف سامنے آئے اور پوائنٹ اسکورنگ کی بجائے مسئلہ کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جاسکیں، عملی طور پہ جب مجلس وحدت مسلمین کی طرف سے احتجاجی مارچ شروع کیا گیا تو اس وقت بہت ہی مایوس کن صورت حال دکھائی دے رہی تھی، بہت تھوڑے لوگ نکلے تھے، ایسا لگتا تھا یہ شیعیان حیدر کرار کا ایشو نہیں بلکہ مجلس وحدت مسلمین کا ایشو ہے جس کیلئے اس کے ساتھ منسلک تنظیمی افراد نے ہی شریک احتجاج ہونا ہے، مارچ کے آغاز میں کہیں بھی دوسری بڑی شیعہ جماعت شیعہ علما کونسل دکھائی نہیں دی گویا ان کے نزدیک بھی یہ ایشو مجلس وحدت مسلمین کا ہی تھا۔

یہ احتجاجی مارچ ابھی انچولی سے نکل کے شاہراہ پاکستان پہ پہنچا تھا کہ مزاکرات کی باتیں سامنے آنے لگیں اور گورنر کامران ٹیسوری جو مرکز کا نمائندہ ہوتا ہے نے بات چیت کا پیغام دیا، اس بات چیت کے مرحلہ میں شیعہ علما کونسل کو بھی شامل کیا گیا، احتجاج کا رخ و روٹ موڑ دیا گیا اور مجلس وحدت کے دفتر میں گورنر کیساتھ مزاکرات ہوئے، احتجاجی شرکاء کو راستے میں پڑاؤ کا کہا گیا، جو کچھ مزاکرات کے نتیجہ میں سامنے آیا وہ سب کے سامنے ہے، کچھ وعدے وعید اور طفل تسلیاں دی گئیں، گویا لالی پاپ بھی کہا جا سکتا ہے، اس لیے کہ ان وعدوں اور طفل تسلیوں میں سے کسی ایک بات پہ تاحال عمل درآمد نہیں ہو سکا ہے، اس حوالے سے ایک مشترک زائرین کمیٹی بنائی گئی تھی جس کے دو اجلاس اسلام آباد میں ہو چکے ہیں۔

اب یہ خبریں تواتر سے آرہی ہیں کہ حکومت زائرین کے پرانے طریقہ کاروانوں، سالاروں کو مکمل تبدیل کر رہی ہے، کاروانوں کو بطور ٹور آپریٹر رجسٹرڈ کیا جا رہا ہے، درخواستیں موصول کی جا رہی ہیں، عملی طور پہ لائسنس ہولڈر کاروان لے کے جانے کے مجاز ہونگے، جب نئے نظام کی باتیں سامنے آئی ہیں تو اربعین کے زائرین کا ایشو اب داخل دفتر ہو چکا ہے، وہ غریب زائرین جنہوں نے بائی روڈ جانے کیلئے اپنی جمع پونجی اکٹھی کرکے قافلہ سالار کو جمع کروائی تھی اس کا خواب، اس کی تڑپ، اس کی تمنا، اس کی آرزو کون پوری کرے گا؟ وہ زائرین جو گھروں سے امام ضامن باندھ کے کوئٹہ پہنچ چکے تھے، بسوں کیساتھ، ان کا نقصان کون پورا کرے گا؟ کوئی بتا سکتا ہے کہ اتنے اہم شیعہ ایشو پہ ایسے ہی احتجاجی تحریکیں چلائی جاتی ہیں۔

کیا ہماری تاریخ ایسی ہی ہے یا اس سے کچھ مختلف ہے، آخر کس وجہ سے ہماری قومی جماعتوں نے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کیلئے منصوبہ بندی نہیں کی، زائرین کا ایشو، ایام عزا، شیعہ پہلے سے مجالس و جلوسوں میں مصروف تھے، گویا گھروں سے نکالنا نہیں تھا بلکہ مجالس میں اس پیغام کو عام کرنا تھا، لوگوں کو ساتھ ملانا تھا اس مقصد کیلئے تنظیمی نیٹ ورکنگ اور مقامی یونٹس و سیٹ اپ نے ورکنگ و فعالیت دکھانا ہوتی ہے مگر یہ اسی صورت میں ہوتا ہے جب آپ گراس روٹ لیول تک موجود ہوں، جب آپ کے اضلاع ہی عہدیداروں سے خالی پڑے ہوں۔

قائدین حلقہ یاراں تک محدود ہوں تو پھر کسی بھی احتجاجی تحریک کی کامیابی دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے، ویسے بھی قائدین نے اپنی سیٹیں کروا رکھی تھیں انہیں بھی زیارات پہ ہر سال جانا ہوتا ہے اس صورت میں کون احتجاجی تحریک کو آگے لے جاتا، بعض لوگوں کا یہ کہنا بھی درست معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پہ یہ ایشو اسلام آباد سے متعلق تھا، اس کیلئے کراچی سے گوادر جانے کی بات کرنا ہی غلط فیصلہ تھا، اگر مارچ کرنا تھا اگر احتجاج کرنا تھا، اگر موومنٹ چلانی تھی، زائرین کا مسئلہ حل کروانا تھا تو مرکزی حکومت کو اسلام آباد میں جھنجھوڑتے جہاں پارلیمان میں پہلے سے مسئلہ سامنے لایا جا چکا تھا اور میڈیا میں بھی ماحول بن چکا تھا۔

آج جب اربعین گذر چکا ہے، ایام عزا اپنے اختتام کی جانب بڑھ چکے ہیں، ایسے میں کسی کو معلوم نہیں کہ شیعہ قوم کی قومی قیادتوں نے حکمرانوں پہ اعتماد کر کے کیا حاصل کیا ہے، بہت سے شہروں میں تو اربعین کے موقع پہ مشی کے عنوان سے بھی سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، کئی جگہوں پہ پرچے درج ہوچکے ہیں، شیعہ علما کونسل کے سربراہ نے دفتر کی جان سے جاری کردہ پریس ریلیزز پہ ہی اکتفا کیا ہوا ہے، اتنے بڑے بڑے مسائل سامنے آنے کے بعد بھی کبھی میڈیا ٹاک نہیں کرتے، یہ بات اکثر اوقات سننے کو ملتی ہے کہ اگر زائرین کے ایشو پہ وہ خود میدان میں نکلتے تو یقینی طور پہ صورتحال اس سے بہت مختلف ہوتی۔ اب صورت حال بقول شاعر کچھ ایسے دکھائی دے رہی ہے۔

کیا شَمع کے نہیں ہیں َہوا خواہ اہلِ بَزم
ہو غَم ہی جاں گُداز تو غَم خوار کیا کریں

کیا اس مسئلہ کے حل کیلئے مزید کوئی احتجاج ہوگا یا احتجاجی تحریک چلائی جا سکتی ہے کہ حکومت نے دھوکہ دیا، وعدہ خلافی کی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی؟ایسا لگتا ہے کہ یہ مسئلہ بھی نصاب کے مسئلہ کی طرح قوم کے گلے میں ہڈی کی طرح پھنسا دیا گیا ہے، جس کی ذمہ داری  ہمیشہ ایک دوسرے پہ ڈال دی جائے گی، اور اگر کچھ بہتری کی صورتحال نکل آئی تو ڈنکے بجائے جائیں گے، ڈھول پیٹے جائیں گے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

19 − 13 =