جولائی 6, 2026

تحریر: بشارت حسین زاہدی

جب پاکستان کی تاریخ کا ورق پلٹا جاتا ہے تو کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو دلوں پر نقش ہو جاتے ہیں۔ قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی ان ہی میں سے ایک تھے۔ ان کی شخصیت، ان کی تقریریں اور ان کی جدوجہد آج بھی پاکستانی شیعہ کمیونٹی کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ وہ مردِ مجاہد تھا جس نے تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے پلیٹ فارم سے ملت کو ایک نئی سمت دی۔ ان کا مقصد حقوق تشیع کا تحفظ تھا، اور وہ چاہتے تھے کہ پاکستانی شیعوں کو ان کے آئینی حقوق ملیں اور انہیں قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔

یہ حقیقت ہے کہ مینارِ پاکستان میں منعقدہ قرآن و سنت کانفرنس کے موقع پر قائد شہید نے سیاست میں قدم رکھنے کا اعلان کیا، لیکن اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے کا اہم فریضہ بعد میں آنے والی قیادت نے انجام دیا۔ ان کی شہادت کے بعد جب ملت جعفریہ ایک بڑے بحران کا شکار تھی، تو تحریک کے زعما، علماء اور بزرگوں نے دستور کے مطابق علامہ سید ساجد علی نقوی کو قائد ملت منتخب کیا۔ یہ ایک انتہائی دانشمندانہ فیصلہ تھا جس نے ملت کو ٹوٹنے سے بچا لیا۔

قائد محترم علامہ سید ساجد علی نقوی نے نہایت حکمت عملی کے ساتھ قائد شہید کے دیے ہوئے دستور اور آئین کے مطابق مرکزی پلیٹ فارم کی حفاظت کی اور ملت کی تمام میدانوں میں بہترین قیادت کی۔ ان کی قیادت میں ملت جعفریہ ایک مضبوط طریقے سے آگے بڑھ رہی تھی، جو دشمنوں کو پسند نہیں آیا۔ اسی لیے کچھ مفاد پرست عناصر کو استعمال کرتے ہوئے قوم میں دراڑ ڈالنے کی سازشیں کی گئیں۔ ان عناصر نے قومی جماعت، جو شہید کی امانت تھی، کے ساتھ خیانت کی اور قوم کو کئی حصوں میں تقسیم کر دیا۔

یہ قائد محترم کی دور اندیشی اور بلند حوصلہ تھا کہ انہوں نے ان تمام داخلی اور خارجی مشکلات اور خیانتوں کا مقابلہ صبر و تحمل اور حکمت کے ساتھ کیا۔ ان کا وژن یہ ہے کہ ملک کو تمام بحرانوں سے نکالنے کا واحد حل قانون کی حکمرانی (Rule of Law) ہے۔ وہ صرف شیعہ حقوق کی بات نہیں کرتے بلکہ ملک میں موجود تمام اقوام کے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں اور اسی کو ملک کی ترقی اور امن کی ضمانت سمجھتے ہیں۔ آج بھی ملک میں اگر شیعہ قوم کی کوئی توانا آواز ہے تو وہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی دانشمندانہ اور دور اندیش قیادت کا ہی نتیجہ ہے۔

قائد شہید کا خواب ایک متحدہ اور مضبوط قوم تھا۔ آج ہمیں یہ سوچنا ہو گا کہ کیا ہم نے ان کے اس خواب کو پورا کیا ہے؟ یا ہم نے اپنی غلطیوں سے اس کی توہین کی ہے؟ اگر ہم آج بھی ٹکڑیوں میں بٹے رہے تو ہم اپنی قومی شناخت کھو دیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم دوبارہ علامہ عارف حسین الحسینی کے دستور کی طرف لوٹیں اور علامہ ساجد علی نقوی کی قیادت میں ایک بار پھر ایک مٹھی بن جائیں ورنہ یہ تقسیم ہمیں ہماری ہی تاریخ کے صفحات سے مٹا دے گی۔۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

11 − 9 =