جولائی 9, 2026

تحریر: عصمت اللہ شاہ مشوانی

بلوچستان ایک بار پھر خون میں نہلا دیا گیا۔ آئے روز معصوم اور بے گناہ شہری دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ہر نئے سانحے کے بعد کئی گھر اجڑ جاتے ہیں، ماؤں کی گودیں ویران ہو جاتی ہیں، بچوں کے سروں سے باپ کا سایہ اٹھ جاتا ہے اور خاندان زندگی بھر کے غم میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ مگر افسوس کہ ان المناک واقعات کے باوجود عوام آج بھی یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ آخر بلوچستان کو امن کب نصیب ہوگا؟

ریاست کی اولین ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ لیکن بلوچستان کے عوام کئی برسوں سے عدم تحفظ، خوف اور بے یقینی کی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ہر واقعے کے بعد مذمتی بیانات جاری کرتی ہیں، اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوتے ہیں اور تحقیقات کے اعلانات کیے جاتے ہیں، مگر زمینی حقائق یہ ہیں کہ دہشت گردی کے واقعات رکنے کے بجائے بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ اس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے اور ریاستی اقدامات پر سوالات جنم لیتے ہیں۔

یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ گیس، معدنیات، ساحلی وسائل اور جغرافیائی اہمیت نے اس صوبے کو ملک کی معیشت میں ایک نمایاں مقام دیا ہے۔ مگر افسوس کہ جس سرزمین نے پاکستان کو اتنا کچھ دیا، وہی سرزمین آج امن، ترقی اور بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی دیتی ہے۔

بدامنی کا سب سے زیادہ نقصان عام شہری کو ہوتا ہے۔ مزدور، تاجر، طالب علم، سرکاری ملازم اور مسافر—کوئی بھی خود کو مکمل طور پر محفوظ محسوس نہیں کرتا۔ سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے، ترقیاتی منصوبے سست پڑ جاتے ہیں، بے روزگاری میں اضافہ ہوتا ہے اور نوجوانوں میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ ایسے حالات کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔

وقت کا تقاضا ہے کہ بلوچستان میں امن کے قیام کے لیے صرف وقتی اقدامات نہیں بلکہ ایک جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔ دہشت گردی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی، انٹیلی جنس نظام کو مزید مؤثر بنانا، سرحدی نگرانی کو مضبوط کرنا، مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا اور نوجوانوں کو تعلیم، روزگار اور ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ امن صرف بندوق سے نہیں بلکہ انصاف، اعتماد اور ترقی سے بھی قائم ہوتا ہے۔

بلوچستان کے عوام محب وطن ہیں۔ وہ نفرت نہیں بلکہ محبت چاہتے ہیں، تشدد نہیں بلکہ امن چاہتے ہیں، محرومی نہیں بلکہ مساوی ترقی چاہتے ہیں۔ ان کی آواز کو سننا، ان کے جان و مال کا تحفظ کرنا اور انہیں ایک محفوظ مستقبل دینا ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اگر آج بھی بلوچستان کے مسئلے کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو اس کے اثرات صرف ایک صوبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے ملک کو متاثر کریں گے۔ ایک مضبوط، خوشحال اور متحد پاکستان کا خواب اسی وقت شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے جب بلوچستان امن، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بلوچستان کو ہمیشہ کے لیے امن، خوشحالی اور استحکام عطا فرمائے، ہمارے وطن کو ہر قسم کی دہشت گردی اور بدامنی سے محفوظ رکھے، اور ہمیں ایک ایسا پاکستان نصیب کرے جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر زندگی گزار سکے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

5 × one =