تحریر: محمد شاہد رضا خان
مقدمہ:
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی زیارت میں "اَللَّهُمَ والِ مَنْ والاهُ وَ عادِ مَنْ عاداهُ” کا جملہ ایک اہم دعا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے دن لاکھوں افراد کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کے لیے فرمایا۔ اس دعا کی اہمیت اور اعتبار اتنا مضبوط ہے کہ حافظ ذہبی جیسے اہل علم بھی اس کے صحیح ہونے پر اصرار کرتے ہیں۔ حافظ ذہبی اپنی کتاب "سیر اعلام النبلاء” میں اس دعا کی حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں اور اسے معتبر قرار دیتے ہیں (سیر اعلام النبلاء، جلد 4، صفحہ 480)۔ 13 رجب المرجب کو حضرت علی علیہ السلام کی ولادت ہوئی، جو نہ صرف اسلامی تاریخ کا ایک عظیم دن ہے بلکہ آپ کا مقام عالم اسلام میں بے نظیر ہے۔ آپ وہ واحد شخصیت ہیں جو خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے، اور یہ واقعہ تمام تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت علی علیہ السلام نہ صرف دین اسلام کے لیے ایک ستون کی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ آپ کی قربانیاں اور خدمات اسلامی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔
اس مضمون میں ہم اہل سنت کے معتبر منابع سے امیر المومنین کی زیارت کے بارے میں اہم نکات پیش کریں گے، تاکہ ان کے مقام و مرتبے کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے
1 : المواسی له بنفسه (لیلۃ المبیت):
لیلۃ المبیت کا واقعہ ایک اہم تاریخی حقیقت ہے، جب حضرت علی علیہ السلام نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بچانے کے لیے قربان کیا۔ جب مشرکین مکہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، تو حضرت علی علیہ السلام واحد شخصیت تھے جنہوں نے اپنی جان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان بچانے کے لیے خطرے میں ڈالی۔
شیخ مفید رحمۃ اللہ علیہ اس واقعہ کی اہمیت کو یوں بیان کرتے ہیں: "امیر المومنین علی علیہ السلام نے اپنی جان کو خدا کی راہ میں قربان کیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی محفوظ رہے اور اسلام کا پیغام جاری رہ سکے۔” (ارشاد، جلد 1، صفحہ 52)
اس لیے اگر حضرت علی علیہ السلام کی قربانی نہ ہوتی، تو شاید اسلام کا مشن جاری نہ رہتا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پوری دنیا میں نہ پہنچ پاتی۔
2 : راہ خدا میں جہاد کرنا:
حضرت علی علیہ السلام کی زندگی میں مختلف جہادی محاذ تھے جن میں انہوں نے اپنی شجاعت اور وفاداری کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام کو قاسطین، مارقین اور ناکثین کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ جنگیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد پیش آئیں، اور حضرت علی علیہ السلام نے ان جنگوں میں دشمنوں کا مقابلہ کیا۔
دمشق کے مشہور شافعی عالم ابن عساکر نے اپنی کتاب "تاریخ دمشق” میں ان جنگوں کی تفصیل بیان کی ہے اور حضرت علی علیہ السلام کی ان جنگوں میں شرکت کو ایک واضح و صحیح حقیقت کے طور پر ذکر کیا ہے۔ (تاریخ دمشق، جلد 45، صفحہ 359)
3 : السلام علی الصراط الواضح:
حضرت علی علیہ السلام کو قرآن و سنت کی روشنی میں "الصراط الواضح” یعنی واضح راستہ قرار دیا گیا۔ ایک حدیث میں ہے کہ اگر تم دیکھو کہ حضرت علی علیہ السلام ایک راستہ اختیار کر رہے ہوں اور باقی لوگ کسی اور راستے پر جا رہے ہوں، تو تمہیں حضرت علی علیہ السلام کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ وہ "واضح راستہ” ہیں۔
یہ حقیقت ابن عساکر اور حکیم الحسکانی کی کتب میں بھی ذکر کی گئی ہے، جہاں ان بزرگ علماء نے حضرت علی علیہ السلام کو "صراط مستقیم” یعنی راستہ حق کی علامت قرار دیا ہے۔ (تاریخ دمشق، جلد 45، صفحہ 362)
4: الَّذِي جَعَلْتَهُ مِنْ نَبِيِّكَ بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى:
حضرت علی علیہ السلام کو قرآن میں ایک اہم مقام حاصل ہے، اور انہیں حضرت موسیٰ کے بھائی ہارون کی طرح قرار دیا گیا ہے۔ اس آیت میں حضرت علی علیہ السلام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب اور معاون مانا گیا ہے۔ اس حدیث کو اہل سنت کے مختلف علماء نے نقل کیا ہے، اور اس کا مفہوم واضح طور پر حضرت علی علیہ السلام کے بلند مقام کو ظاہر کرتا ہے۔
5 : اَللَّهُمَ والِ مَنْ والاهُ وَ عادِ مَنْ عاداهُ:
یہ وہ دعا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم میں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں حضرت علی علیہ السلام کے حق میں کی۔ حافظ ذہبی نے اس دعا کو تسلیم کیا ہے اور اسے صحیح مانا ہے (سیر اعلام النبلاء، جلد 4، صفحہ 480)۔ اس دعا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی ان لوگوں کی مدد کرے جو حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ ہیں اور ان کا دشمن ہو جو ان کے دشمن ہوں۔
6 : أَشْهَدُ أَنَّكَ جَاهَدْتَ فِي اللَّهِ حَقَّ جِهادِهِ وَ عَمِلْتَ بِكِتَابِهِ وَ اتَّبَعْتَ سُنَنَ:
امام جعفر صادق علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ "میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، قرآن پر عمل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کیا۔” حضرت علی علیہ السلام کی زندگی میں مختلف جنگوں میں ان کی شجاعت اور کردار کو تاریخ نے ہمیشہ یاد رکھا ہے۔ ان کی خدمات اسلام کے لیے بے نظیر اور لازوال ہیں۔
7 : السلام علیک أیها الصدّیق الأکبر:
حضرت علی علیہ السلام کو "صدیق اکبر” کا لقب دیا گیا ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے صرف حضرت علی علیہ السلام ہی کا حق تھا۔ الخوارزمی نے اپنی کتاب "المناقب” میں حضرت علی علیہ السلام کے مختلف القابات کا ذکر کیا ہے، جن میں سے ایک "صدیق اکبر” بھی ہے۔ یہ لقب حضرت علی علیہ السلام کی سچائی اور وفاداری کو ظاہر کرتا ہے، اور یہ وہ لقب ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود دیا تھا۔
نتیجہ:
حضرت علی علیہ السلام کی زیارت کے مختلف پہلوؤں پر اہل سنت کے معتبر منابع میں جو روایات آئی ہیں، وہ ان کی عظمت و بلند مقام کو اجاگر کرتی ہیں۔ آپ نہ صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانثار اور مددگار تھے، بلکہ آپ کی زندگی اور قربانیاں اسلام کے استحکام اور اس کی فتح کا باعث بنی۔ حضرت علی علیہ السلام کی زیارت پر یہ عظیم حقیقتیں واضح کرتی ہیں کہ آپ کا مقام دین اسلام میں بے نظیر ہے، اور آپ کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لیے ایک روشن رہنمائی ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








