تحریر: سید اعجاز اصغر
میری عمر اس وقت 49 سال ہوچکی ہے ۔ زندگی کا طویل عرصہ گزر چکا ہے ۔ اپنی زندگی میں کامل انسان فقط محمد و آل محمد علیہم السلام کو پایا ہے ۔ افلاطون ، سقراط اور ارسطو جیسے فلاسفر و دانشور بھی انسان کو متاثر نہیں کر سکے جس طرح کامل اور اکمل ہستیاں جن کو اللہ تعالیٰ نے وجہہ تخلیق کائنات گردانا ہے ۔ ان پاک و مطہر ہستیوں کے سامنے دنیا کے تمام فلاسفر و دانشور اپنے سر جھکانے پر مجبور و ناتواں ہیں ۔ قرآن و ناطق قرآن کا مطالعہ دین و دنیا کی کامیابی کا بہت بڑا راز ہے ۔ مگر افسوس کہ ہم جیسے نادان لوگ فضول اور بے مقصد کتب کا مطالعہ کرنے میں وقت گزار رہے ہیں ۔ اکثریت تو مطالعہ کرنے کا عادی ہی نہیں بلکہ ٹک ٹاک ، فیس بک اور یوٹیوب پر قیمتی وقت ضائع کرتے ہوئے کسی نہ کسی بڑے حادثہ کی نذر ہوتے جارہے ہیں ۔ بے ہنگم اور غیر منظم انداز میں زندگی گزر رہی ہے ۔ اگر یہی روش گھروں میں والدین کی ہے تو لازماً اولادیں بھی بے راہ روی، غیر منظم اور بے ہنگم ٹریفک کی نذر ہو کر بہت بڑے حادثہ کا شکار ہوتی جا رہی ہیں ۔ اگر مطالعہ کرنا نہیں آتا تو کم از کم کسی با کردار ، با علم و با عمل دوست کی صحبت اختیار کر لی جائے تو زندگی خطرناک حادثوں ، لڑائی جھگڑوں سے محفوظ رہ سکتی ہے ۔
میری ناقص عقل و گزری ہوئی زندگی میں جو کامیاب ، با عزت و با وقار لوگ نظر آئے ہیں ان کے تجرباتی رہنما اصول رقم طراز کرنے کی جسارت کر رہا ہوں ہو سکتا میری اس رقمطرازی سے کسی دوست ، عزیز اور رشتہ دار کی زندگی میں انقلاب آ جائے اور میری بخشش کا ذریعہ بن جائے ۔
با عزت و با وقار و پُرامن اور پر سکون زندگی کے رہنما اصول ملاحظہ فرمائیں !
زندگی کے مفید 24 لازمی اصول
- ادھار دو، مگر واپس مت مانگو۔
کسی دوست کو مشکل میں ادھار دے کر بعد میں واپسی کا تقاضا کرنا تعلقات کے لیے زہر ثابت ہوتا ہے۔ اگر دینا ہی ہے تو یہ سمجھ کر دو کہ شاید واپس نہ آئے۔
- کاروبار اور دوستی الگ رکھو۔
چاہے سگا بھائی ہو یا بہترین دوست، کاروباری شراکت میں رقم ڈالنا تعلقات میں تلخی اور ندامت کا باعث بن سکتا ہے۔
- منفی لوگوں سے جان چھڑاؤ۔
زندگی مختصر ہے، اسے مثبت لوگوں کے ساتھ گزارو۔ اگر کوئی کہے کہ ہاتھی اُڑ سکتا ہے، تو بحث میں پڑنے کے بجائے کہہ دو، ’’ہاں، میں نے تار پر بیٹھے دیکھا ہے!‘‘
- سوشل میڈیا پر بھی ماحول صاف رکھو۔
انتہا پسند اور متعصب لوگوں سے فاصلہ رکھو، چاہے وہ سیاسی ہوں، مذہبی ہوں یا نظریاتی۔ متوازن سوچ والے لوگوں کے ساتھ جُڑو۔
- سب کو خوش کرنے کی فکر چھوڑ دو۔
لوگ کام نکلوانے کے بعد بھول جاتے ہیں۔ اپنی توانائی صرف خود پر اور اپنے اہلِ خانہ پر خرچ کرو۔
- جذباتی فیصلے نقصان دہ ہوتے ہیں۔
کوئی بھی بڑا فیصلہ فوراً نہ لو۔ جذبات وقتی ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات زندگی بھر رہ سکتے ہیں۔
- تعلقات میں برابری ضروری ہے۔
دوستی یا کسی بھی رشتے میں خود کو ٹشو پیپر نہ بناؤ۔ جو عزت دو، وہی واپس ملے گی۔
- جو تمہاری خوشی میں خوش نہ ہو، اس کی پروا مت کرو۔
اخلاص، مروت اور احساس اب صرف کتابی الفاظ بن چکے ہیں، حقیقت میں ان کا زیادہ اثر نہیں رہا۔
- مذہب اور سیاست پر حد سے زیادہ بات کرنے والوں سے دور رہو۔
یہ وہ موضوعات ہیں جن پر ہر کسی کی الگ رائے ہوتی ہے، اور اکثر ان بحثوں کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
- دوسروں پر انحصار مت کرو۔
لوگ تمہاری مدد کریں گے، مگر بعد میں سب کو بتائیں گے۔ اپنی راہ خود تلاش کرو، کیونکہ ’’بھوک سے بڑا کوئی موٹیویشنل سپیکر نہیں۔‘‘
- عزتِ نفس پر سمجھوتہ نہ کرو۔
وقتی فائدے کے لیے عزتِ نفس بیچنے والے آخرکار عزت کھو بیٹھتے ہیں۔
- واضح اور دو ٹوک انکار کرو۔
اگر کسی کی مدد نہیں کر سکتے، تو جھوٹے وعدے کرنے کے بجائے صاف منع کر دو۔
- دنیا کسی کے لیے نہیں رکتی۔
چاہے تم کتنی ہی تکلیف میں ہو، لوگ تمہارے ساتھ نہیں روئیں گے، لیکن خوشیوں میں ضرور شامل ہوں گے۔
- مدد کرو، مگر بھیک مانگنا نہ سکھاؤ۔
مستحق افراد کی ایسی مدد کرو جو انہیں خود کفیل بنائے، نہ کہ مزید محتاج۔
- خوشی باہر سے نہیں، اندر سے آتی ہے۔
مہنگے مالز میں شاپنگ کرو یا دھوپ میں بیٹھ کر چائے پیو، خوشی تمہارے اندر کے ’’موسم‘‘ پر منحصر ہے۔
- امیر کے سامنے غربت، غریب کے سامنے امارت کا ذکر مت کرو۔
یہ تمہیں دوسروں کی نظروں میں گرا سکتا ہے، چاہے نیت کچھ بھی ہو۔
- خاندانی معاملات میں بغیر بلائے مت کودو۔
ورنہ مسئلے حل ہونے کی بجائے مزید بگڑ سکتے ہیں۔
- اپنی اہمیت خود پہچانو۔
کسی کو ضرورت سے زیادہ عزت دو گے تو وہ تمہیں نظرانداز کرنا شروع کر دے گا۔
- اگر بہتر مواقع میسر ہوں تو ملک چھوڑنے میں ہچکچاہٹ نہ کرو۔
انسان کا اصل وطن وہ ہے جہاں اسے معاشی، قانونی اور جانی تحفظ حاصل ہو۔
- زندگی کو منظم طریقے سے گزارو۔
ضد، انا اور فضول بحثیں وقت کا زیاں ہیں۔
- قسمت کا انتظار بے وقوفی ہے۔
حقیقت پسندانہ تجزیہ کرو اور خود کو بہتر بناؤ۔
- کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں۔
محنت کرو، دوسروں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے خود کو مضبوط بناؤ۔
- غیر ضروری لوگوں اور باتوں کو نظر انداز کرو۔
ہر بے مقصد بحث میں پڑنا ذہنی سکون برباد کرنے کے مترادف ہے۔
- بڑے فیصلے سوچ سمجھ کرؤ۔
ہر فیصلہ لینے سے پہلے دیکھو کہ اگلے دس سال میں اس کے کیا اثرات ہوں گے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








