تحریر: محمد ثقلین واحدی
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ طاقت، مزاحمت اور بالادستی کی کشمکش سے بھری پڑی ہے، مگر حالیہ برسوں خصوصاً 28 فروری کے بعد کی صورتحال نے ایک حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے: ایران اس خطے میں ایک ایسی قوت کے طور پر ابھرا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ اگر “فاتح” کی تعریف یہ ہو کہ کون دباؤ کے باوجود قائم رہا، اپنے اثر و رسوخ کو پھیلایا، اور اپنے مخالفین کو اسٹریٹجک توازن میں باندھ دیا—تو ایران اس تعریف پر پورا اترتا دکھائی دیتا ہے۔
ایران نے وہ راستہ اختیار کیا جو روایتی طاقتوں سے مختلف ہے۔ اس نے براہِ راست بڑی جنگوں کے بجائے ایک “سمارٹ اسٹریٹجی” اپنائی—علاقائی اثر و رسوخ، نظریاتی ہم آہنگی، اور غیر متوازن جنگی حکمت عملی, یہی وجہ ہے کہ عراق، شام، لبنان اور یمن جیسے محاذوں پر ایران کی موجودگی صرف مزاحمتی نہیں بلکہ سیاسی اور نظریاتی بھی ہے۔ یہ ایک ایسا جال ہے جس نے مخالف قوتوں کو منتشر اور دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔
28 فروری کے بعد کے واقعات نے ایران کی طاقت کو مزید واضح کیا۔ حملوں کے باوجود نہ صرف ایران کا دفاعی نظام برقرار رہا بلکہ اس نے اپنے دشمنوں کو یہ باور کرایا کہ کسی بھی جارحیت کا جواب محدود نہیں ہوگا۔ ایران کا میزائل اور ڈرون پروگرام آج اس کے دفاع کا ستون بن چکا ہے—ایک ایسا ہتھیار جو کم لاگت میں زیادہ اثر پیدا کرتا ہے اور دشمن کے لیے مستقل خطرہ بنا رہتا ہے۔
ایران کی سب سے بڑی کامیابی اس کی “ڈیٹرنس” ہے۔ یعنی دشمن حملہ کرنے سے پہلے کئی بار سوچتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ریاست حقیقی معنوں میں طاقتور بنتی ہے۔ ایران نے اپنے وسائل کے مطابق ایک ایسا نظام بنایا ہے جو نہ صرف اس کی حفاظت کرتا ہے بلکہ اسے جارح قوتوں کے مقابل کھڑا بھی رکھتا ہے۔
معاشی پابندیوں اور عالمی دباؤ کے باوجود ایران کا ڈٹے رہنا خود ایک فتح ہے۔ اس نے “مزاحمتی معیشت” کے ذریعے خود انحصاری کی راہ اپنائی اور یہ ثابت کیا کہ عالمی نظام سے جزوی علیحدگی کے باوجود ایک ملک اپنی بنیادیں مضبوط رکھ سکتا ہے۔ اگرچہ مشکلات موجود ہیں، مگر ان کے باوجود ایران کا نظام قائم ہے—اور یہی اس کی استقامت کی دلیل ہے۔
نظریاتی سطح پر بھی ایران نے ایک متبادل بیانیہ پیش کیا ہے—ایسا بیانیہ جو خطے میں خودمختاری، مزاحمت اور بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑا ہونے کی ترغیب دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک تحریک کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
آج کی حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران وہ واحد کھلاڑی ہے جس نے ہر محاذ پر اپنی موجودگی ثابت کی ہے—فوجی، سیاسی، نظریاتی اور اسٹریٹجک۔ یہی ہمہ جہتی برتری اسے دیگر قوتوں سے ممتاز کرتی ہے۔
لہٰذا اگر مشرقِ وسطیٰ میں “فاتح” کا تعین مزاحمت، بقا، اثر و رسوخ اور اسٹریٹجک کامیابی کی بنیاد پر کیا جائے تو ایران اس دوڑ میں سب سے آگے نظر آتا ہے—ایک ایسا فاتح جو صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ارادوں، حکمت عملی اور استقلال میں جیتا ہے۔








