تحریر: بشارت حسین زاہدی
پاکستان کی نظریاتی اساس "کلمہ توحید” ہے، جس کا اولین تقاضا یہ تھا کہ یہاں بسنے والے تمام مکاتبِ فکر ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے۔ لیکن بدقسمتی سے، دہائیوں سے جاری فرقہ وارانہ لہروں اور بیرونی مداخلتوں نے اس خواب کو دھندلا دیا۔ اس سنگین اور پرآشوب صورتحال میں قائدِ ملتِ جعفریہ علامہ ساجد علی نقوی کا کردار ایک ایسے مصلح اور مدبر کے طور پر ابھرا جنہوں نے اشتعال انگیزی کے بجائے "وحدت” اور "قانون کی بالادستی” کو اپنا شعار بنایا۔
مثبت فکر اور عملی اتحاد کا وژن
علامہ ساجد علی نقوی کی پوری جدوجہد کا محور "پاکستانیت” اور "بین المسلمین ہم آہنگی” رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ مسلکی اختلافات علمی سطح تک محدود رہنے چاہئیں اور انہیں سڑکوں پر نفرت کا ایندھن نہیں بننا چاہیے۔ ان کی شخصیت ایک ایسی فکری ڈھال ثابت ہوئی ہے جس نے ملک کو کئی بار خانہ جنگی کے دہانے سے بچایا۔ ان کی اس مثبت فکر کے دو بڑے عملی ثبوت درج ذیل ہیں:
ملی یکجہتی کونسل: اس فورم کے ذریعے انہوں نے تمام مسالک کو ایک ایسے ضابطہ اخلاق پر اکٹھا کیا جہاں ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام لازم قرار پایا۔ یہ ان کی بصیرت ہی تھی جس نے فرقہ وارانہ خلیج کو پاٹنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
متحدہ مجلسِ عمل (MMA): علامہ ساجد علی نقوی نے سیاسی میدان میں بھی اتحاد کی شمع روشن کی۔ ایم ایم اے کے قیام میں ان کا فعال کردار اس بات کی گواہی ہے کہ وہ صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ سیاسی سطح پر بھی امتِ مسلمہ کو ایک پلیٹ فارم پر دیکھنا چاہتے ہیں۔
ریاستی ’بیلنس پالیسی‘ اور تضاد
حیرت اور افسوس کا مقام تب آتا ہے جب ریاست کی جانب سے نام نہاد "بیلنس پالیسی” کے تحت امن پسند اور شر پسند کو ایک ہی ترازو میں تول دیا جاتا ہے۔ تحریک جعفریہ ایک ایسی محبِ وطن، قومی اور جمہوری جماعت رہی ہے جس نے ہمیشہ تشدد کی ہر سطح پر مذمت کی، رول آف لا (Rule of Law) کی بات کی اور قومی دھارے میں رہ کر سیاست کی۔
لیکن انتظامی مصلحتوں کے تحت، جب ایک ایسی قیادت کو—جو ملک میں وحدتِ امت کی سب سے توانا آواز ہو—ان تنظیموں کے ساتھ "واچ لسٹ” یا کالعدم فہرستوں میں رکھا جاتا ہے جن کا ایجنڈا ہی تفرقہ رہا ہو، تو یہ صریحاً ناانصافی ہے۔ یہ محض ایک جماعت کی نہیں، بلکہ اس "مثبت وژن” کی بے توقیری ہے جو پاکستان کی بقا اور ملکی سالمیت کے لیے ناگزیر ہے۔ ریاست کا کام حق اور باطل کے درمیان واضح لکیر کھینچنا ہوتا ہے؛ ظالم اور مظلوم کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنا نہ صرف عدل کے تقاضوں کے منافی ہے بلکہ مخلصانہ کوششوں کی تذلیل بھی ہے۔
وقت کی ضرورت: اعترافِ خدمت اور اصلاح
موجودہ حالات میں جب پاکستان کو داخلی اور خارجی سطح پر بے پناہ چیلنجز کا سامنا ہے، علامہ ساجد علی نقوی جیسے معتدل اور دور اندیش رہنماؤں کی قدر کرنا ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان کی پالیسیاں ثابت کرتی ہیں کہ وہ ملک میں "انارکی” کے بجائے "نظام” اور "نفرت” کے بجائے "قومی یکجہتی” کے خواہاں ہیں۔
وقت کا اہم تقاضا یہ ہے کہ ریاست اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرے اور تحریک جعفریہ جیسی معتدل و محبِ وطن جماعت کو اس ‘بیلنس پالیسی’ کی فہرست سے فوری طور پر الگ کیا جائے۔ ایسا کرنا اس لیے ضروری ہے تاکہ یہ جماعت اپنی مثبت خدمات اور تعمیری سوچ کے ذریعے ملک و قوم کی خدمت کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری رکھ سکے۔ امن کی کوششوں کو انتظامی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھانا محبِ وطن طبقوں میں مایوسی پیدا کرتا ہے، جو ملک کے مستقبل کے لیے کسی صورت سودمند نہیں ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ "اتحاد بین المسلمین” کے اصل معماروں کو وہ مقام اور توقیر دی جائے جس کے وہ حقیقی معنوں میں مستحق ہیں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








