جولائی 3, 2026

تحریر: ​ابو محمد ارقم کوثری

وہ شہر کا ایک نامور سیٹھ تھا دولت اس کے گھر کی لونڈی تھی بینک بیلنس اس کے اعتماد کا ضامن تھا اور ملک کے بااثر ترین حلقوں میں اس کے گہرے مراسم تھے لیکن اس کا ایک عجیب مشغلہ تھا وہ ہر صبح ہاتھ میں جھاڑو پکڑتا مسجد پہنچتا اور بڑے خشوع و خضوع سے فرش صاف کرنا شروع کر دیتا وہ جب جھاڑو لگاتا تو کنکھیوں سے لوگوں کو دیکھتا اور اس کے چہرے پر ایک فاتحانہ مسکراہٹ ہوتی گویا وہ دل ہی دل میں کہہ رہا ہو:

"دیکھو! اتنا بڑا آدمی اور کتنی کسرِ نفسی سے نیکی کما رہا ہے”

​ایک دن مسجد کے بوڑھے امام صاحب نے اس کے ہاتھ سے جھاڑو پکڑ لیا امام صاحب کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی انہوں نے دھیمی آواز میں کہا

"سیٹھ صاحب! یہ جھاڑو لگانے کا ثواب کسی غریب کو کمانے دیں آپ کے پاس دولت کی ریل پیل اور صاحبِ اختیار لوگوں تک رسائی ہے، آپ کے لیے نیکی کمانے کے اور بہت سے بڑے ذریعے ہیں خدارا ان کی طرف جائیے”

​یہ ایک جملہ نہیں تھا یہ ایک فکری طمانچہ تھا

​ہم سب زندگی میں کسی نہ کسی جگہ ایسی نیکی کا سہارا لیتے ہیں جو اصل میں نیکی نہیں ہوتی بلکہ "بڑی نیکی” سے چھپنے کا ایک راستہ ہوتی ہے ہم وہ نیکی کرتے ہیں جو ہمیں سستی پڑتی ہے جو ہماری انا کو تسکین دیتی ہے اور جو ہمیں اس اصل ذمہ داری سے بچا لیتی ہے جو اللہ نے ہمارے کندھوں پر ڈالی ہے

​آپ معاشرے کے رویے ملاحظہ کیجیے ایک مالکِ مکان کسی غریب کرایہ دار کو دو دن کی مہلت دے کر خوشی سے پھولے نہیں سماتا وہ اسے اپنی بہت بڑی نیکی سمجھتا ہے لیکن وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ نے اسے اتنے وسائل دیے ہیں کہ وہ ایک ہاؤسنگ سکیم بنا کر قسطوں پر سینکڑوں بے گھر لوگوں کو چھت مہیا کر سکتا ہے وہ دو دن کی مہلت کو نیکی سمجھ کر اس "بڑے منصوبے” سے جان چھڑا رہا ہے

​اسی طرح ہمارے بااثر میڈیا پرسنز اور اینکرز کو دیکھیے

وہ شخص جس کی آواز ایوانوں میں زلزلے برپا کر سکتی ہے وہ اپنی پوری طاقت کسی بڑے عوامی مسئلے پر صرف کرنے کے بجائے سال میں ایک بار کسی دور افتادہ گاؤں جا کر ایک غریب خاندان کو راشن دیتے ہوئے ویڈیو بنا دیتا ہے جناب آپ کی اصل نیکی وہ "سوال” اٹھانا تھا جو پالیسی بدل سکتا تھا، نہ کہ وہ کیمرے کے سامنے دی گئی "امدادی تھیلی” جس کے پیچھے چھپ کر آپ اپنی صحافتی ذمہ داری سے فرار ہو رہے ہیں

​ہمارے پولیس افسران کا حال بھی مختلف نہیں ایک بڑا پولیس افسر جس کے ایک حکم سے پورے شہر کا کرائم ریٹ نیچے آ سکتا ہے وہ تھانے کے کرپٹ کلچر کو درست کرنے کے بجائے سرِ راہ کسی بوڑھی عورت کو سڑک پار کرواتے ہوئے تصویر بنواتا ہے اور اسے نیکی سمجھتا ہے۔ سڑک پار کروانا انسانیت ہے لیکن آپ کی اصل نیکی وہ "انصاف” ہے جو آپ کے ماتحت تھانوں میں بک رہا ہے اور آپ اس "سستی نیکی” کے پیچھے چھپ کر اس گندے نظام سے نظریں چرا رہے ہیں

​ہمارے سرکاری دفاتر کا حال دیکھیں ایک بااثر افسر کسی غریب کی جائز فائل مہینوں دبائے رکھتا ہے اسے چکر لگوا لگوا کر نڈھال کر دیتا ہے لیکن اسی دوران جب کوئی سائل دفتر آتا ہے تو وہ بڑے اخلاق سے اسے چائے پلاتا ہے اور بڑے تپاک سے ملتا ہے یہ اخلاق نیکی نہیں یہ اس فائل سے فرار ہے جو اس کی میز پر پڑی سسک رہی ہے اس کا اصل اخلاق اور نیکی اس فائل کو میرٹ پر حل کر کے اس غریب کا حق اسے دینا تھا نہ کہ اسے چائے پلا کر اپنی ضمیر کی عدالت میں سرخرو ہونا

​شہر کا نامور سرجن ہفتے میں ایک دن اپنی گلی میں چھوٹی سی کلینک کھول کر بیٹھ جاتا ہے اور اسے اپنی عاقبت کی نجات سمجھتا ہے جبکہ اللہ نے اسے وہ مقام دیا ہے کہ وہ پورے ملک کے سرکاری ہسپتالوں کا نظام درست کروانے کی تحریک چلا سکتا ہے۔ ایک پٹی کرنا نیکی ہے لیکن پورے طبی نظام کی خرابیوں کے خلاف لڑنا وہ "فرض” ہے جس سے وہ اس سستی نیکی کے پیچھے چھپ کر بھاگ رہا ہے

​یہی حال ہمارے شعبہ تعلیم کا ہے

ایک نامور پروفیسر صاحب جن کے علم کی دھاک پورے ملک میں ہے وہ یونیورسٹی میں اپنی کلاس لینے سے کتراتے ہیں تحقیق کے میدان میں ان کا حصہ صفر ہے لیکن وہ ہر جمعے کو بڑے اہتمام سے مسجد کے باہر کھڑے ہو کر غریب بچوں میں ٹافیاں اور کاپیاں بانٹتے ہیں جناب آپ کی اصل نیکی ٹافیاں بانٹنا نہیں آپ کی اصل نیکی وہ لیکچر ہے جس کے لیے طالب علم پیاسے بیٹھے ہیں آپ کی نیکی وہ نصاب ہے جو آپ نے اپنے تجربے سے درست کرنا تھا آپ کاپیاں بانٹ کر اس "فکری قحط” سے نظریں چرا رہے ہیں جس کے ذمہ دار آپ خود ہیں

​اس ملک کا سول اور فوجی بیوروکریٹ ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی خیراتی ادارہ کھولتا ہے تاکہ ثواب کما سکے، حالانکہ وہ دورانِ سروس اپنے ایک قلم کی جنبش سے پورے ملک کے نظام کو درست کر کے وہ عظیم ثواب کما سکتا تھا جس کا نعم البدل کوئی ہسپتال یا ٹرسٹ نہیں ہو سکتا اسی طرح اس ملک کا سیاستدان اپنی زندگی کی آخری اننگز میں جب سوانح عمری لکھتا ہے تو اس میں وہ تمام سچ بیان کر دیتا ہے جو بطور لیڈر حکمرانی کے وقت بولنا اور کرنا زیادہ ضروری تھا اقتدار میں رہ کر مصلحت کا شکار ہونا اور اقتدار سے باہر نکل کر کتابی حقائق بیان کرنا دراصل اس "بڑی نیکی” سے فرار ہے جو قوم کی تقدیر بدل سکتی تھی

​یہاں مجھے میرے ایک سوشل ورکر دوست کی بات یاد آ گئی وہ اکثر بڑی پتے کی بات کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارا ایک رشتہ دار ہسپتال میں مریض کے سرہانے پریشان بیٹھا ہوتا ہے اسے دوا کے لیے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے لیکن ہم گھر بیٹھے اسے فون کرتے ہیں اور بڑی ہمدردی سے کہتے ہیں

"بھائی ہم آپ کے مریض کے لیے بہت دعا گو ہیں، اللہ شفا دے”

​صاحبو یہ دعا نہیں یہ ذمہ داری سے فرار ہے دعا تو آپ نے ویسے بھی کرنی ہے وہ آپ کے اور رب کائنات کے درمیان ایک گفتگو ہے جو دعا کہلاتا ہے لیکن اس وقت اس شخص کو آپ کی دعا سے زیادہ آپ کے معاشی تعاون کی ضرورت تھی آپ نے "دعا” کا لفظ استعمال کر کے دراصل اپنے بٹوے کی زپ بند رکھنے کا جواز پیدا کر لیا

​ان سارے الفاظ کا خلاصہ یہ ہے کہ نیکی کا قد انسان کے وسائل کے مطابق ہونا چاہیے اگر اللہ نے آپ کو سمندر جتنا اختیار دیا ہے اور آپ قطرہ قطرہ بانٹ کر مطمئن ہیں تو یہ عاجزی نہیں یہ منافقت ہے جس دن ہم نے دعا کے پیچھے چھپ کر دوا کے پیسے بچانا چھوڑ دیے، راشن دینے کے پیچھے چھپ کر نظام کی اصلاح سے بھاگنا بند کر دیا اور جھاڑو کے پیچھے چھپ کر اپنی اصل ذمہ داری سے نظریں چرانا بند کر دیں اس دن یہ معاشرہ تبدیل ہو جائے گا

​ورنہ ہم سب اسی سیٹھ کی طرح جھاڑو ہاتھ میں پکڑے کنکھیوں سے لوگوں کو دیکھتے رہیں گے اور نیکی خود نیکی کے نام پر شرمندہ ہوتی رہے گی

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

11 − 6 =