تحریر: بشارت حسین زاہدی
ایران، جو گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے، حالیہ برسوں میں ایک بار پھر داخلی بے چینی اور احتجاج کی لہروں کی زد میں نظر آتا ہے۔ مغربی میڈیا ان احتجاجوں کو "نظام کی تبدیلی” کی دستک قرار دیتا ہے، جبکہ تہران اسے "غیر ملکی سازش” کا نام دیتا ہے۔ لیکن حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے درمیان کہیں موجود ہے جسے سمجھنے کے لیے گہرائی میں اترنا ضروری ہے۔
1. معاشی حالات: کیا لوگ واقعی تنگ ہیں؟
اس سوال کا جواب ’ہاں‘ ہے، لیکن اس کی وجوہات کثیر الجہتی ہیں۔ ایران کی معیشت اس وقت تین بڑے دباؤ کا شکار ہے:
عالمی پابندیاں: امریکہ کی جانب سے لگائی گئی سخت ترین اقتصادی پابندیوں نے ایرانی تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی بینکاری نظام تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے افراطِ زر میں اضافہ ہوا ہے۔
کرنسی کی قدر میں کمی: ریال کی گرتی ہوئی قیمت نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
داخلی بدانتظامی: بعض حلقوں کا ماننا ہے کہ صرف پابندیاں ہی ذمہ دار نہیں، بلکہ بدعنوانی اور معاشی پالیسیوں میں تسلسل کا نہ ہونا بھی عوامی غصے کا باعث بنتا ہے۔
ایران میں ہونے والے احتجاج کو صرف "مہنگائی” تک محدود دیکھنا ادھوری تصویر ہوگی۔ اس کے پیچھے درج ذیل عوامل کارفرما ہیں:
نسلِ نو کے مطالبات: ایران کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جو عالمی دنیا سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ سماجی آزادیوں اور طرزِ زندگی میں تبدیلی کے خواہاں ہیں۔
ہائبرڈ وار فیئر : یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایران کے دشمن ممالک (خصوصاً اسرائیل اور بعض مغربی طاقتیں) ایران کے داخلی انتشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے معمولی احتجاج کو بڑے پیمانے کی "انقلابی تحریک” بنا کر پیش کرنا اس مہم کا حصہ ہوتا ہے۔
سیاسی پولرائزیشن: ایران کے اندر "اصلاح پسند” اور "اصولی پرست” دھڑوں کے درمیان جاری کشمکش بھی بعض اوقات عوامی احتجاج کو ہوا دیتی ہے۔
یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ اگرچہ معاشی پالیسیوں اور بعض انتظامی فیصلوں پر شدید تنقید موجود ہے، لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ایرانی عوام کی اکثریت موجودہ اسلامی جمہوری نظام کا خاتمہ چاہتی ہے۔
تاریخی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جب بھی ایران پر بیرونی حملہ یا شدید دباؤ آیا، ایرانی عوام اپنے اختلافات کے باوجود "ایرانیت” اور اپنے نظام کے دفاع کے لیے متحد ہو گئے۔ قاسم سلیمانی کی نمازِ جنازہ میں لاکھوں کا مجمع اس بات کی دلیل تھا کہ نظام کی جڑیں اب بھی عوام میں موجود ہیں۔4. حکومت کا چیلنج اور حل
ایرانی قیادت کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ معاشی اصلاحات کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرے۔ صرف سیکورٹی کے اقدامات سے احتجاج کو نہیں روکا جا سکتا۔ نظام کی بقا کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر نظر آتے ہیں:
شفافیت: بدعنوانی کے خلاف سخت کارروائی۔
معاشی تنوع: تیل پر انحصار کم کر کے مقامی صنعتوں کو فروغ دینا۔
عوامی مکالمہ: نوجوان نسل کے خدشات کو سننا اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا۔
ایران میں احتجاج محض مہنگائی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ معاشی بدحالی، سماجی خواہشات اور غیر ملکی مداخلت کا ایک پیچیدہ مرکب ہے۔ لوگ نظام سے زیادہ "حالات” سے تنگ ہیں۔ اگر حکومت معاشی ریلیف دینے اور انتظامی اصلاحات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو بیرونی مداخلت کے تمام حربے ناکام ہو جائیں گے۔ ایران کی طاقت کا اصل سرچشمہ اس کے عوام ہیں، اور ان کی معاشی خوشحالی ہی نظام کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








