تحریر: بشارت حسین زاہدی
تاریخِ انسانیت میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کا ذکر صرف کسی خاص زمانے یا فرقے تک محدود نہیں ہوتا، بلکہ وہ رہتی دنیا تک انسانی اقدار کی محافظ بن جاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک عظیم المرتبت شخصیت حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیھا کی ہے، جنہیں تاریخ ’عقیلہ بنی ہاشم‘ اور ’شریکتۃ الحسینؑ‘ کے القابات سے یاد کرتی ہے۔
آج جب ہم آپؑ کے یومِ وفات کی مناسبت سے سوگوار ہیں، تو ہمیں محض آنسو بہانے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ اس ’اسوہِ صبر و مقاومت‘ سے وہ سبق سیکھنا چاہیے جو آج کے پُرآشوب دور میں ہماری بقا کا ضامن ہے۔
حضرت زینبؑ صرف امام حسینؑ کی بہن نہیں تھیں، بلکہ وہ مشنِ کربلا کی تکمیل کا نام ہیں۔ اگر میدانِ کربلا میں امام حسینؑ نے خون دے کر دین کو بچایا، تو کوفہ و شام کے بازاروں اور درباروں میں حضرت زینبؑ نے اپنے خطبوں سے اس خون کی حفاظت کی۔ آپؑ نے ثابت کیا کہ حق کی فتح صرف تلوار سے نہیں بلکہ سچائی کی طاقت اور باطل کے سامنے نہ جھکنے والے ارادے سے ہوتی ہے۔
2. صبر کا مفہوم: بے بسی نہیں، بلکہ طاقت
جدید نسل اکثر ’صبر‘ کا مطلب خاموشی یا بے بسی لیتی ہے۔ لیکن جنابِ زینبؑ کا صبر ’فعال صبر‘ تھا۔ مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کے باوجود جب دربارِ یزید میں آپؑ سے پوچھا گیا کہ "تم نے اپنے بھائی کے ساتھ خدا کا سلوک کیسا دیکھا؟” تو آپؑ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
”ما رأیت الا جمیلاً” (میں نے خوبصورتی کے سوا کچھ نہیں دیکھا)۔
یہ جملہ آج کے نوجوانوں کے لیے ایک نفسیاتی درس ہے کہ مشکل ترین حالات میں بھی اللہ کی رضا پر شاکر رہنا اور اپنے مقصد پر نظر رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
3. نسلِ نو کے لیے پیغام: شعور اور مزاحمت
آج کی نسل کو سوشل میڈیا، فکری یلغار اور اخلاقی پستی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے میں سیرتِ زینبؑ ہمیں تین اہم سبق دیتی ہے:
خودداری : قید و بند کی صعوبتوں میں بھی آپؑ نے اپنی چادر اور اپنے وقار پر آنچ نہ آنے دی۔ یہ سبق ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی ناموافق ہوں، اپنے اصولوں اور اقدار پر سمجھوتہ نہ کریں۔
باطل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا: یزید کے بھرے دربار میں اس کی طاقت کو للکارنا بتاتا ہے کہ سچا انسان کبھی خوفزدہ نہیں ہوتا۔ آج کے دور کے ’یزیدی نظریات‘ (ظلم، جھوٹ اور مادہ پرستی) کے خلاف آواز اٹھانا ہی زینبی کردار ہے۔
علم اور دانائی: آپؑ کو ’عالمہ غیر معلمہ‘ کہا جاتا ہے۔ آپؑ کا ہر عمل علم اور شعور پر مبنی تھا۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ جذباتی فیصلوں کے بجائے علم اور بصیرت کو اپنا ہتھیار بنائیں۔
حضرت زینبؑ کی زندگی کا سورج ظاہری طور پر غروب ہو گیا، لیکن ان کی فکر کی روشنی آج بھی ہر اس شخص کے دل میں موجود ہے جو ظلم کے خلاف سینہ سپر ہے۔ آپؑ کی وفات کا دن ہمیں اس عہد کی تجدید کی دعوت دیتا ہے کہ ہم بھی اپنے دور کے امامؑ کے وفادار سپاہی بنیں اور معاشرے میں حق و انصاف کا علم بلند کریں۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








