اگست 18, 2026

تحریر: بشارت حسین زاہدی

تاریخِ انسانیت میں چند ہی ایسی شخصیات گزری ہیں جن کی زندگی کا ہر ورق ایک مستقل درس گاہ ہے۔ حضرت علی بن ابی طالبؑ وہ واحد ہستی ہیں جن کی ولادت خانہ کعبہ کی عظمتوں میں ہوئی اور شہادت مسجد کے محراب میں سجدہِ خالق کے دوران۔ آپ کی شخصیت کسی خاص فرقے یا گروہ تک محدود نہیں، بلکہ آپ رہتی دنیا تک کے لیے عدل، شجاعت، علم اور بندگی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہیں۔

شخصیت کے نمایاں پہلو

1. علم و حکمت کا دروازہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں”۔ آپ کی فصاحت و بلاغت کا شاہکار "نہج البلاغہ” آج بھی دنیا کے دانشوروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ آپ نے پیچیدہ فلسفیانہ مسائل سے لے کر سماجی و معاشی الجھنوں تک کا حل اس وقت پیش کیا جب دنیا جہالت کے اندھیروں میں تھی۔

2. پیکرِ شجاعت و استقامت
میدانِ کارزار ہو یا حق کی خاطر صبر کا مرحلہ، علیؑ کا ثانی کوئی نہیں۔ خیبر کے قلعے ہوں یا خندق کا معرکہ، آپ کی تلوار نے ہمیشہ باطل کو پچھاڑا۔ لیکن آپ کی شجاعت صرف دشمن کو زیر کرنے میں نہیں تھی، بلکہ اپنے نفس پر قابو پانے میں بھی بے مثال تھی۔

3. عدلِ علوی: حکمرانی کا معیار
جب آپ منصبِ خلافت پر فائز ہوئے، تو آپ نے واضح کر دیا کہ حکومت آپ کے نزدیک ایک پھٹے ہوئے جوتے سے بھی کم تر ہے، اگر اس کے ذریعے حق قائم نہ کیا جائے اور باطل کو مٹایا نہ جائے۔ آپ نے بیت المال کی تقسیم میں برابری اور اقربا پروری کے خاتمے کی وہ مثالیں قائم کیں جو آج کے حکمرانوں کے لیے ایک چیلنج ہیں۔

4. عبادت اور زہد
آپ راتوں کو خالق کے سامنے گریہ و زاری کرتے اور دن کو خلقِ خدا کی خدمت میں گزارتے۔ آپ کا زہد ایسا تھا کہ پیوند لگے کپڑے پہنتے اور جو کی سوکھی روٹی تناول فرماتے، حالانکہ پوری اسلامی ریاست کے وسائل آپ کے زیرِ تصرف تھے۔

پیغامِ فکر: امتِ مسلمہ اور شیعیانِ علیؑ کے نام

آج 13 رجب کے مبارک موقع پر، جب ہم مولودِ کعبہ کا جشن مناتے ہیں، ہمیں محض نعروں اور عقیدت کے اظہار سے آگے بڑھ کر ان کے کردار کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی ضرورت ہے۔

امتِ مسلمہ کے لیے:
حضرت علیؑ کی زندگی اتحاد کا درس دیتی ہے۔ آپ نے اسلام کی بقا اور امت کی شیرازہ بندی کے لیے اپنے حقوق کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ آج عالمِ اسلام کو فرقہ واریت سے نکل کر اسی "حبل اللہ” (اللہ کی رسی) کو تھامنے کی ضرورت ہے جس کے عملی نمونے مولا علیؑ تھے۔

شیعیانِ علیؑ کے لیے خصوصی پیغام:
"شیعہ” ہونے کا دعویٰ تبھی سچا ہے جب ہمارے کردار سے علیؑ کی خوشبو آئے۔
اگر علیؑ علم کا دروازہ ہیں، تو ہمیں علم و تحقیق میں دنیا کی قیادت کرنی چاہیے۔اگر علیؑ عدل کے علمبردار ہیں، تو ہمیں اپنے گھروں اور معاشرے میں ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
صرف محبتِ علیؑ کافی نہیں، بلکہ اتباعِ علیؑ اصل امتحان ہے۔ آپ کا طرزِ زندگی سادگی، امانت داری، اور مظلوم کی حمایت میں پوشیدہ ہے۔

حاصل کلام
حضرت علیؑ کی شخصیت ایک ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں۔ آپ کی زندگی کا پیغام واضح ہے: "حق کے ساتھ رہو، چاہے تم اکیلے ہی کیوں نہ رہ جاؤ”۔ آئیے آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں کو عدل، علم اور تقویٰ کے ان سانچوں میں ڈھالیں گے جو علی بن ابی طالبؑ نے ہمیں سکھائے ہیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔
https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

5 − one =