جولائی 4, 2026

تحریر: محمد ثقلین واحدی

نواسہ رسول امام حسن مجتبی علیہ السلام کی امامت کا دورانیہ دس سال (40-50ھ) پر محیط ہے۔ حضور اکرم آپ سے بے انتہا پیار کرتے تھے۔ آپ نے اپنی عمر کے سات سال اپنے نانا کے ساتھ گزارے، بیعت رضوان اور نجران کے عیسائیوں کے ساتھ مباہلہ میں اپنے نانا کے ساتھ شریک ہوئے۔

شیعہ اور اہل سنت منابع میں امام حسنؑ کے فضائل اور مناقب کے سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں۔ آپؑ اصحاب کساء کے چوتھے رکن ہیں آپؑ کے متعلق آیہ تطہیر نازل ہوئی آیات اطعام، مودت اور مباہلہ بھی انہی ہستیوں کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔ امام حسن مجتبی علیہ السلام نے دو دفعہ اپنی ساری دولت اور تین دقعہ اپنی دولت کا نصف حصہ خدا کی راہ میں عطا کیا۔ آپؑ کی اسی بخشندگی کی وجہ سے آپؑ کو "کریم اہل بیت” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپؑ نے 20 سے زائد بار پیدل حج ادا کیا۔

21 رمضان 40ھ کو امام علیؑ کی شہادت کے بعد آپؑ امامت و خلافت کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی دن تقریبا 40 ہزار سے زیادہ لوگوں نے آپؑ کی بیعت کی۔ جب حاکم شام تک یہ خبر پہنچی کہ امام حسنؑ مسند خلافت پر بیٹھ گئے ہیں تو اس نے جنگ کی تیاری شروع کر دی۔ تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ اس نے ایک لاکھ پچاس ہزار کے لشکر کو امامؑ کے خلاف جنگ کے لئے روانہ کر دیا۔ امام حسنؑ نے سپاہ شام کی پیش قدمی روکنے کے لئے لشکر اسلام کو عبید اللہ ابن عباس کی قیادت میں شام کی طرف روانہ کیا۔ دونوں فوجوں کا آمنا سامنا "مسکن” کے مقام پر ہوا۔ ابھی کچھ دن ہی گزرے تھے کہ امامؑ تک خبر پہنچی کہ عبید اللہ دس لاکھ درہم کے عوض اپنے آٹھ ہزار فوجیوں کے ساتھ سپاہ شام میں شامل ہو گیا ہے۔ عبید اللہ کے بعد لشکر کی سپہ سالاری قیس بن سعد کے پاس آ گئی۔ معاویہ نے قیس کو بھی دھوکے اور لالچ کے ذریعے سے اپنی طرف بلانے کی کوشش کی لیکن قیس بن سعد نیک اور با بصیرت انسان تھے، لالچ کے چنگل میں نہ آئے۔

حاکم شام نے فقط اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ امامؑ اور اس کے ساتھیوں کے درمیان شگاف ڈالنے کے لئے سر توڑ کوششیں کیں۔ وہ اپنے جاسوسوں کے ذریعے سے مختلف افواہیں پھیلاتا رہا ۔ کبھی کہا جاتا کہ قیس امام کا ساتھ چھوڑ کر حاکم شام کے ساتھ مل گیا ہے۔ کبھی افواہ پھیلائی جاتی کہ امام حسنؑ نے حاکم شام کے ساتھ صلح کر لی ہے۔ حاکم شام نے کچھ افراد کو امام حسنؑ سے ملاقات کے لئے بھیجا۔ وہ لوگ امامؑ سے ملاقات کے بعد جب خیمہ سے باہر آئے تو انہوں نے اعلان کر دیا کہ امام حسنؑ نے صلح کے لئے آمادگی کا اظہار کر دیا ہے۔ اس افواہ کو سنتے ہی لوگ سخت غصہ میں آ گئے۔ انہوں نے امامؑ پر حملہ کر دیا یوں امام ؑکی فوج تقسیم ہو گئی۔ اس طرح امام حسنؑ کے دور حکومت کی مشکلات کا آغاز ہوا۔

امام حسن علیہ السلام کے دور حکومت کی سب سے بڑی مشکل خود حاکم شام تھا جو شام کی حکومت پر زبردستی مسلط تھا۔ وہ امیرالمومنین بننے کے خواب دیکھ رہا تھا اور اپنی بادشاہت قائم کرنا چاہتا تھا۔ تاریخ میں حاکم شام کے بہت سے سیاہ کارناموں کا ذکر ہے۔ ہم فقط دو اہم ترین کو یہاں بیان کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام پر لعن طعن کرنے کا سرکاری حکم تھا۔ شام میں خطباء اور مولوی کھلے عام امیرالمومنینؑ پر لعن کرتے تھے۔ یہ لوگ اس عمل کو ثواب سمجھ کر انجام دیتے۔ اس لعن طعن کا نتیجہ آج بھی ہم دیکھ سکتے ہیں جو داعش اور تکفیریت کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔

اس کا دوسرا سیاہ کارنامہ یہ تھا کہ اس نے جعلی حدیثوں کی فیکٹری لگائی ہوئی تھی۔ حاکم شام ایسے لوگوں کو بہت بڑی رقم دیتا تھا جو جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ ایسی حدیثیں جو اہل بیت کی شان میں تھیں ان کو بنی امیہ کی طرف نسبت دی جاتی۔ یہ ایک بہت بڑا ظلم تھا جو اس نے تاریخ میں انجام دیا۔ افسوس یہ کہ لوگوں نے بھی ایسی بدعتوں کو قبول کیا۔ حال یہ تھا کہ حاکم شام نے جمعہ کی نماز بدھ کو پڑھا دی اور لوگوں نے کوئی اعتراض نہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومتی مشینری اور اس زمانے کے ذرائع ابلاغ کس قدر لوگوں پر اثر انداز تھے کہ لوگ حکومت اور معاویہ کے ہر کام کو عین اسلام سمجھتے تھے۔

اس نے امام حسن علیہ السلام کی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے کئی اقدامات انجام دیے جن میں سے ایک امام کے لشکر کے سپہ سالاروں کو فریب اور لالچ کے ذریعے سے اپنے ساتھ ملانا تھا۔آپؑ نے امام علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد ایک بلیغ خطبہ دیا اور لوگوں کو شام کے باغیوں کے خلاف جنگ کے لئے تیار کیا۔ جنگ کی سپہ سالاری عبید اللہ ابن عباس کے سپرد کی اور اسے شام کی طرف پیش قدمی کرنے کا حکم دیا تاکہ دشمن کی فوج کا راستہ روکا جا سکے۔ عبید اللہ ابن عباس وہ تھے جن کے دو بیٹوں کو حاکم شام کے ایک سپاہی نے امیرالمومنین کے دور میں بڑی بے دردی سے شہید کر دیا تھا۔ حاکم شام کو جب خبر پہنچی کہ امام حسنؑ نے سپہ سالاری عبید اللہ کو سونپ دی ہے۔ اس نے عبید اللہ کو ایک خط لکھا۔ اسے دس لاکھ درہم کی پیشکش کر دی۔ عبید اللہ لالچ میں آ گیا اور اس کی پیشکش قبول کر لی۔ عبید اللہ شب کی تاریکی میں اپنے سپاہیوں کے ساتھ شام کی فوج سے جا ملا۔ صبح امامؑ کا لشکر دیکھتا ہے کہ ان کا سپہ سالار ہی موجود نہیں۔

دوسرا کام جو حاکم شام نے انجام دیا وہ منافقین اور جاسوسوں کے ذریعہ سے امام کی حکومت کو کمزور کرنا تھا۔ جب امام، دشمن کے خلاف اپنے لشکر کو تیار کر رہے تھے۔ ادھر حاکم شام کے جاسوس بھی اپنے کام میں مصروف تھے جو منافقین کے ذریعہ سے امام کی فوج کو تقسیم اور کمزور کر رہے تھے۔

تیسرا کام جو حاکم شام نے انجام دیا، زبردستی صلح کے لئے امام کو مجبور کرنا تھا۔ جب وہ، امام کے خلاف جنگ کے لئے تیار بیٹھا تھا۔ امامؑ کے بعض قریبی ساتھی واضح کہتے تھے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔

اہل سنت کے معروف مورخ ابن اثیر اپنی کتاب "اسد الغابہ” میں نقل کرتے ہیں کہ امام حسنؑ نے ایک خطبے میں لوگوں کو حاکم شام کے خلاف جنگ و جہاد کی دعوت دی اور فرمایا: اگر جنگ و جہاد کے لئے تیار ہو تو اپنی تلواروں کو نیام سے نکالو اور اگر دنیاوی زندگی پسند کرتے ہو تو واضح بتا دو آپ لوگ کیا چاہتے ہو؟ اکثریت نے بلند آواز سے کہا: "البقیة البقیة” یعنی ہم باقی رہنا چاہتے ہیں۔ بہر حال ایسی صورت حال میں امام مجبور تھے کہ حاکم شام کے ساتھ صلح کریں جب امامؑ کے حقیقی چاہنے والوں اور پیروکاروں کی تعداد بہت محدود تھی۔

شیخ مفید اپنی کتاب "الارشاد” میں فرماتے ہیں: امامؑ کے پاس صلح کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ امام کے ساتھی بابصیرت اور وفادار نہیں تھے۔ یہ لوگ تیار تھے کہ امامؑ کو حاکم شام کے حوالے کر دیں حتی امامؑ کے قریبی رشتہ دار اور فوج کے سپہ سالار عبید اللہ ابن عباس نے بھی امامؑ کو دھوکہ دے دیا اور معاویہ کے ساتھ مل گیا۔

امامؑ کے پاس دو راستے تھے یا اس کے خلاف جنگ کرتے جس میں کامیابی کی کوئی امید نہ تھی یا صلح کر لیتے۔ امامؑ نے مصلحت اسلام کے تحت حاکم شام کے ساتھ مجبوراً صلح کر لی تاکہ اس ذریعہ سے اس کے چہرے سے نقاب اتاریں اور اس کی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ آخر کار جب امامؑ نے دیکھا کہ اس صورت حال میں صلح کے علاوہ چارہ نہیں۔ امامؑ اس وقت کے حالات کے مطابق مجبوراً صلح کے لئے تیار ہو گئے۔ صلح کی شرائط درج ذیل تھیں۔

1۰ حکومت معاویہ بن ابی سفیان کے سپرد اس شرط پر کی جائے گی کہ وہ کتاب و سنت اور خلفائے راشدین کی سیرت پر عمل کرے گا۔

2۰ معاویہ کے بعد حکومت امام حسن اور پھر امام حسین کا حق ہو گی۔

3۰ معاویہ منبروں پر امام علی علیہ السلام پر لعن طعن کو بند کرائے گا۔

4۰ عراق، شام، حجاز، یمن اور ایران کے لوگوں کو امن و امان سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو گا۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ امام حسنؑ حاکم شام کی کرتوتوں سے واقف تھے اس کے باوجود صلح کو کیوں قبول کر لیا، جب کہ امامؑ کو معلوم تھا کہ وہ صلح کی شرائط پر کبھی بھی عمل نہیں کرے گا۔ امامؑ دراصل اس ذریعے سے اس کی اسلام کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے۔ امامؑ نے اپنی صلح کو صلح حدیبیہ سے تشبیہ دی اور فرمایا میری اس سے صلح اس طرح ہے جس طرح رسول اللہ نے مشرکین کے ساتھ صلح کی تا کہ اسلام کی حفاظت کی جا سکے۔

صلح کے بعد آپؑ سنہ 41ھ کو مدینہ واپس آئے اور زندگی کے آخری ایام تک یہیں پر مقیم رہے۔ مدینہ میں آپؑ علمی مرجعیت کے ساتھ ساتھ سماجی اور اجتماعی طور پر بھی قدر و منزلت کے حامل تھے۔ مدینہ میں امامؑ نے لوگوں کی ہدایت اور تربیت کے لئے چند بنیادی اقدامات انجام دیے۔

1) امامؑ نے حاکم شام کے اسلام کے مقابلے میں حقیقی اسلام ناب محمدی کی ترویج اور اشاعت فرمائی۔

2) امامؑ حاکم شام کی بدعتوں کو لوگوں کے سامنے آشکار کرتے اور اس کی سیاسی پالیسیز پر تنقید فرماتے۔

3) امامؑ نیازمندوں اور محتاجوں کی مدد فرمایا کرتے۔

4) امامؑ لوگوں کے سامنے حقیقی اسلام کو بیان فرماتے اور حاکم شام کی کارستانیوں سے لوگوں کو آگاہ فرماتے۔

5) مدینہ میں امام کے شاگردوں میں کئی عظیم صحابی بھی شامل تھے جن میں جابر بن عبداللہ انصاری، حبیب ابن مظاہر، حجر بن عدی، زید بن ارقم، سلیمان بن صرد خزاعی، کمیل بن زیاد، میثم تمار اور ابوالاسود دوئلی کے نام قابل ذکر ہیں۔ ابو مخنف نے کربلا سے متعلق اپنی کتاب میں عبداللہ ابن جعفر طیار، عبداللہ ابن عباس، عبد الرحمن ابن عوف اور محمد بن اسحاق کے نام بھی ذکر کئے ہیں۔

امام حسنؑ کو انکی زوجہ جعدہ کے ذریعے زہر دلا کر شہید کرایا گیا۔ آپؑ نے اپنے نانا رسول خداؑ کے جوار میں دفنائے جانے کی وصیت کی تھی لیکن مروان بن حکم اور بنی امیہ کے بعض دوسرے لوگ رکاوٹ بنے اور یوں آپ کو جنت البقیع میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

5 × one =