جولائی 6, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر

آج کے خوش قسمت عازمین حج ذرا سوچیں اور کعبہ بیت اللہ کے اندر ہی اپنی سوچ کو نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السّلام کے قیام کی جانب گامزن کریں جو انہوں نے یزید بن معاویہ کے خلاف کیا تھا، سن 60 ہجری کو حج کو عمرے میں کیوں تبدیل کیا  ؟

کعبہ بیت اللہ کی حرمت بچانے کے قیامت تک کیا فوائد تھے  ؟

آج کے دور میں قبلہ اول بیت المقدس کی بے حرمتی دیکھ کر محمد و آل محمد علیہم کا ردعمل کیا ہوتا  ؟

موجودہ دور کے حکمران غزہ و فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت کیوں نہیں کر رہے  ؟

جن لوگوں  نے 60 ہجری کو حج کو ترجیح دی اور نواسہ رسول حضرت امام حسین علیہ السّلام کے حکم کو نظرانداز کیا  آیا ان کا حج قبول تھا یا امام حسین علیہ السّلام کا عمرہ مبارک قبول تھا  ؟

آج  اگر 2025 میں امام حسین علیہ السلام یا حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے لیکر بارہویں امام مہدی تک کوئی بھی معصوم علیہ السّلام کعبہ بیت اللہ میں آجائیں کیا وہ آج کے مسلمانوں کو حج کی ترغیب دیں گے یا غزہ و فلسطین کی جانب اعلان جہاد کی ترغیب دیں گے  ؟

یقینی طور پر محمد و آل محمد علیہم غزہ و فلسطین کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت کو ترجیح دیں گے تو اے حاجیو  !

یہ ضرور دعا کرنا کہ اے اللہ ہم لاکھوں روپے خرچ کر کعبہ بیت اللہ میں حاضر تو ہوگئے ہیں مگر ہمارا اور ہمارے وقت کے حکمرانوں کا ضمیر مردہ ہو گیا ہے کہ ہم اس وقت نہ تو جانی قربانی پیش سکتے ہیں اور نہ مالی معاونت فراہم کر سکتے ہیں، غزہ و فلسطین کے مسلمان چاہے بے دردی سے قتل ہوتے رہیں، ہم تو تیری بارگاہ میں لاکھوں روپے خرچ کر کے آگئے ہیں ہمارا حج قبول کرنا  !

اے اللہ گواہ رہنا تیرے گھر میں حج کی رونق دن بدن دوبالا ہورہی ہے اور غزہ و فلسطین میں تباہی و بربادی کے ڈھیر اور کھنڈرات بن چکے ہیں، ہم بے ضمیر ہو کر اپنے آپ کو کمزور اور نحیف سمجھ کر موت سے ڈرتے ہوئے غزہ و فلسطین کی طرف رخ نہیں کر رہے، اپنے مال و دولت کو اب بھوکے پیاسوں اور بے گھروں کو دینے کی بجائے بیت اللہ شریف کی زیارت کرنے کے لئے خرچ کر چکے ہیں ہمارے مال ودولت ،عزت و آبرو کی حفاظت فرمانا اور ہماری عمریں دراز فرمانا !

اے اللہ ہم بھول چکے ہیں کہ واقعہ کربلا کے بعد جو لوگ پچھتا رہے تھے کہ کاش ہم بھی نواسہ رسول کے ہمراہ شہید ہوجاتے اور جنت کے حقدار ٹھہراتے،  !

اے اللہ ہم بھول چکے ہیں کہ جب جنگ صفین میں فرار ہونے والوں کو مولا علی علیہ السلام نے تنبیہ کی تھی کہ اگر آپ واپس نہ آتے تو ان مفرورین کی سزا ابدی اور سنگین تھی  ،

اے اللہ ہم حاجی بننے کے لئے آگئے ہیں محمد و آل محمد علیہم السّلام کی تمام تعلیمات، غزوات، جہاد، اقربا پرروری ، مظلوم کی حمایت اور ظالم کی مخالفت بھول چکے ہیں، ہم سب حاجیو کو معاف کر دینا اور بس ہمارا حج قبول کر لینا، !

ہماری حالت زار کی عکاسی مرزا غالب  نے یوں کی ہے کہ

ایمان مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر  ،

کعبہ میرے پیچھے  ہے کلیسا میرے آگے ہے،

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

three × 3 =