جولائی 6, 2026

تحریر: اختر عباس اسدی

جب امام حسین علیہ السلام ، حج کو عمرہ میں تبدیل کر کے عراق کی جانب روانہ ہونے کا عزم کر چکے تو وہاں مکہ میں لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا:

*”الْحَمْدُ لِلَّهِ وَ ما شاءَ اللَّهُ‏ وَ لا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ‏، وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ وَ آلِهِ‏ وَ سَلَّمَ، خُطَّ الْمَوْتُ عَلَى وُلْدِ آدَمَ مَخَطَّ الْقِلَادَةِ عَلَى جِيدِ الْفَتَاةِ، وَ مَا أَوْلَهَنِي إِلَى‏ أَسْلَافِي اشْتِيَاقَ يَعْقُوبَ إِلَى يُوسُفَ، وَ خُيِّرَ لِي مَصْرَعٌ أَنَا لَاقِيهِ، كَأَنِّي بِأَوْصَالِي تَقَطَّعُهَا عُسْلَانُ الْفَلَوَاتِ‏ ، بَيْنَ النَّوَاوِيسِ وَ كَرْبَلَاءَ فَيَمْلَأَنَّ مِنِّي أَكْرَاشاً جُوفاً، وَ أَجْرِبَةً سُغْباً لَا مَحِيصَ عَنْ يَوْمٍ خُطَّ بِالْقَلَمِ، رِضَى اللَّهِ رِضَانَا أَهْلَ الْبَيْتِ، نَصْبِرُ عَلَى بَلَائِهِ وَ يُوَفِّينَا أُجُورَ الصَّابِرِينَ، لَنْ تَشُذَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ لَحْمَةٌ هِيَ مَجْمُوعَةٌ لَهُ فِي حَظِيرَةِ الْقُدْسِ تَقَرُّ بِهِمْ عَيْنُهُ، وَ يُنَجَّزُ لَهُمْ‏ وَعْدُهُ، مَنْ‏ كَانَ بَاذِلًا فِينَا مُهْجَتَهُ وَ مُوَطِّناً عَلَى لِقَاءِ اللَّهِ‏ نَفْسَهُ، فَلْيَرْحَلْ فَإِنِّي رَاحِلٌ مُصْبِحاً، إِنْ شَاءَ للَّهُ‏”*

"تمام تعریفیں اللہ کےلیے ہیں۔ وہی ہوتا ہے جو اللہ وہ چاہتا ہے۔ اللہ کے سوا قدرت کارگر نہیں۔ درود وسلام اللہ کے رسول صلی اللہ و آلہ و سلم پر۔

انسانوں کیلئے موت اسی طرح لازم کر دی گئی ہے جس طرح دوشیزہ کے گلے پر گردن بند کا اثر لازم ہوتا ہے۔ مجھے اپنے اسلاف اور اجداد سے ملاقات کا اتنا ہی اشتیاق ہے ، جتنا شوق یعقوب علیہ السلام کو یوسف علیہ السلام سے ملنے کا تھا۔ میری قتل گاہ معین ہوچکی ہے، جہاں میں پہنچ کے رہوں گا۔ گویا میں خود دیکھ رہا ہوں کہ صحرا اور بیابان کے بھیڑیے ( یزیدی لشکر کی جانب اشارہ ہے) سر زمین کربلاء اور نواویس کے درمیان میرے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اپنے بھوکے پیٹ اور خالی تھیلے بھر رہے ہیں۔ خدا کے لکھے سے فرار ممکن نہیں۔ جس بات سے اللہ راضی ہوتا ہے، ہم اہل بیت علیہم السلام بھی اسی سے راضی ہوتے ہیں۔ ہم اس کے امتحان اور آزمائش پر صبر کریں گے۔ اور وہ ہمیں صابروں کا اجر عنایت فرمائے گا۔ رسول صلی اللہ و آلہ و سلم اور ان کے جگر گوشوں کے درمیان جدائی ممکن نہیں، بلکہ بہشت بریں میں سب اکھٹے کیے جائیں گے، جنھیں دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ و آلہ و سلم کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔ اور آنحضرت صلی اللہ و آلہ و سلم ان سے کیے ہوئے وعدے کو پورا کریں گے۔جان لو ! کہ تم میں سے جوبھی ہمارے اوپر خون نچھاور کرنا چاہتا ہو، اور اللہ سے ملاقات کیلئے تیار ہو، وہ ہمارے ساتھ چلے۔ میں ان شاء اللہ کل صبح روانہ ہوجاؤں گا۔

حضرت امام حسین علیہ السلام ٥شعبان سے٨ذوالحجہ تک پانچ ماہ تین دن مکہ میں رہےاورمسلسل امربالمعروف ونہی عن المنکرکرتےرہے

٨ذوالحجہ مکہ مکرمہ بیت اللہ کےپاس حاضرہوکرحج کااحرام باندھاجاتاہےلہذاہرحاجی کاوہاں ہونالازم ہوتاہےتعدادجتنی بھی تھی مگرسب کےسب وہاں موجودتھے

اورامام نےسب کوصورتحال سےآگاہ بھی فرمادیا۔

قابلِ غوربات یہ بھی ہےکہ رسول اللہ(ص) کےچالیس سال بعد امام حسن علیہ السلام کومدینہ منورہ میں زہرسےشہیدکیاگیااورپھرجنازےپرتیربرساکررسول اللہ کےحرم کی اوراولادکی توہین کی گئی اورپچاس سال بعدمکہ میں حاجیوں کےلباس میں فرزندِ رسول(ع)کےقاتل آچکےتھے۔

امام حسین علیہ السلام کعبہ کی حرمت بچاتےہوئےاپنےاہل خانہ اوربنی ہاشم کےساتھ مکہ سےنکل گئےتاکہ حج باقی رہ سکے۔

اس وقت حقیقی مسلمان کم اورمسلم نمازیادہ تھےاسی مناسبت سےاب بھی دیکھاجاسکتاہےکہ مسلمان کتنےہیں اورمسلم نماکتنے۔

اس سوال کاجواب مانگاجاتارہےگاکہ اہلبیتِ رسول(ع)کو چھوڑکرحج کوعبادت

سمجھنےوالےکس درجہ کےمسلمان تھے۔۔تھے بھی یانہیں۔۔؟

اوریہ بات بھی خودکوسمجھانی پڑےگی کہ اہلبیتِ رسول(ع) کی اہمیت اسلام میں کتنی ہے۔۔۔تاکہ ہمیں اپنےکردارکاتعین ہوسکے

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 − seven =