تحریر؛ بشارت حسین زاہدی
میرے پیارے ہم وطنو!
یکم نومبر، یومِ آزادی گلگت بلتستان، ہمارے لیے شجاعت، قربانی اور تاریخ کے ایک سنہری باب کی یاد دہانی ہے۔ ہم فخر کرتے ہیں اپنے اُن بہادر آباؤ اجداد پر جنہوں نے 1947 میں اپنی قوتِ بازو سے ڈوگرہ راج کی زنجیریں توڑیں اور پاکستان سے غیر مشروط محبت کا رشتہ جوڑا۔
خطے کی طاقت: مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد
آج اس عظیم دن پر، ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ:
ہم اپنے خطے کے سب سے قیمتی اثاثے—باہمی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی—کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔
گلگت بلتستان کی اصل طاقت اس کی رواداری میں ہے، جہاں تمام مکاتبِ فکر بھائی چارے اور محبت کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اتحاد و اتفاق کے ذریعے ہر اُس سازش کو ناکام بنائیں جو اس امن کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے۔ ہمارا اتحاد ہی ہمارے خطے کی پائیدار مضبوطی کا ضامن ہے۔
منزل: آئینی حقوق کا مکمل حصول
اتحاد و یکجہتی کی اسی قوت کے ساتھ، ہمیں اپنی اگلی بڑی منزل کی طرف بڑھنا ہے:
گلگت بلتستان کے عوام کے بنیادی آئینی حقوق کا مکمل اور غیر مشروط حصول۔
یہ ہر شہری کا جائز حق ہے کہ اسے ملک کے دیگر شہریوں کے برابر حقوق اور آئینی مقام ملے۔ ہم پُرامن اور مؤثر جدوجہد کے ذریعے، قومی دھارے میں مکمل شمولیت کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر کریں گے۔
آئیں، یومِ آزادی کو اتحاد کی نئی قوت اور آئینی حقوق کی جدوجہد کے نئے عزم کے ساتھ منائیں۔
آزادی زندہ باد! پاکستان پائندہ باد!
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






