تحریر: بشارت حسین زاہدی
27 اکتوبر کا دن کشمیری عوام کی تاریخ میں ‘یوم سیاہ’ (Black Day) کے طور پر جانا جاتا ہے۔ آج سے کئی دہائیاں قبل، اس دن بھارتی افواج نے کشمیر میں غیر قانونی طور پر داخل ہو کر اس کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بنیاد رکھی، جس کے بعد سے یہ خطہ مسلسل فوجی محاصرے، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبر کا شکار ہے۔
بیانیہ کے نکات:
غیر قانونی قبضہ اور وعدہ خلافی:
ہم واضح کرتے ہیں کہ 27 اکتوبر 1947ء کو بھارتی افواج کا کشمیر میں داخلہ غیر قانونی تھا اور یہ عمل کشمیری عوام کی خواہشات کے منافی تھا۔ یہ بھارت کی جانب سے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور خود اپنے وعدوں کی سنگین خلاف ورزی کی بنیاد ہے۔
انسانی حقوق کی پامالیوں کا خاتمہ ضروری:
گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کو فوجی جبر، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، اور بنیادی آزادیوں کی سلبیت جیسے مظالم کا سامنا ہے۔ ہم عالمی برادری اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان سنگین پامالیوں پر اپنی خاموشی توڑیں اور کشمیریوں کو تحفظ فراہم کریں۔
حق خود ارادیت کی حمایت:
مسئلہ کشمیر کا واحد اور پائیدار حل کشمیری عوام کو ان کا حق خود ارادیت (Right to Self-Determination) دینے میں پنہاں ہے۔ یہ حق بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بنیادی جزو ہے۔ کشمیریوں کو ان کا سیاسی مستقبل خود طے کرنے کا حق دیا جانا چاہیے۔
جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی:
5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اقدامات، جن کے ذریعے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کیا گیا، بین الاقوامی اصولوں اور مقامی قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی تھے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے اور ڈیموگرافک تبدیلیوں کے عمل کو فوری روکا جائے۔
عالمی برادری کی ذمہ داری:
یوم سیاہ کے موقع پر، ہم ایک بار پھر عالمی ضمیر اور بڑی طاقتوں کو ان کی اخلاقی اور انسانی ذمہ داری کی یاد دلاتے ہیں کہ وہ اس دیرینہ تنازع کے حل کے لیے غیر جانبدارانہ اور موثر کردار ادا کریں۔ مسئلہ کشمیر خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
آخر میں، ہم کشمیریوں کی جرات، استقامت اور حق پر مبنی جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں اور اس عہد کا اعادہ کرتے ہیں کہ جب تک کشمیری عوام اپنے مقدر کا فیصلہ خود نہیں کر لیتے، ہم ان کی بھرپور اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔






