تجزیہ و تحلیل: ایس این حسینی
وطن عزیز پاکستان سیاسی اور معاشی نیز دیگر مختلف پہلووں خصوصاً امن و امان کے لحاظ سے بری شہرت کا حامل ہے۔ مغربی سرحدی پٹی خصوصا قبائلی سرحدی علاقوں میں طالبان اور دیگر شرپسندوں نے سر اٹھایا ہے، وطن عزیز اور اس کے باسیوں کو مسائل سے دوچار کیا ہے۔ وزیرستان، باجوڑ، خیبر، اورکزئی اور کرم جیسے قبائلی اضلاع تو کیا دیگر اضلاع جیسے کرک، ٹانک، ڈی آئی خان بھی اس فتنہ خوارج سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا ہے۔ اس وقت ضلع کرم کے دو تحصیل سنٹرل کرم اور لوئر کرم اس فتنے سے بری طرح متاثر ہیں۔ مشرقی سنٹرل کرم میں طالبان کے خلاف آپریشن کی خاطر علاقہ کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا ہے۔ اہلیان علاقہ کو ٹل اور ہنگو میں وقتی طور پر کیمپوں میں رکھا گیا ہے۔ شدید سردیوں میں عوام کا اپنے ہنستے بستے گھروں کی بجائے خیمہ بستیوں میں رہنا نہایت ہی مشکل امر ہے۔ انہیں کھانے پینے کے علاوہ ایندھن کی بھی شدید ضرورت ہوتی ہے۔ دوسری جانب عوام کو اپنے گھروں کی فکر بھی لاحق ہوتی ہے کہ انکے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے گا۔
آپریشن کے اسباب:
سنٹرل کرم میں یہ دوسرا گرینڈ آپریشن ہے۔ اس سے پہلے 2010ء میں آپریشن ہوا تھا، جس کی وجہ سے علاقہ کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا تھا، ہمیں یاد ہے، بندہ متاثرہ علاقوں میں گیا اور متاثرین خصوصاً عمائدین سے مل کر ان کے تاثرات جانے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ اپنی مال مویشی اور دیگر گھریلو اشیاء مجبوراً اونے پونے بیچنے پر مجبور ہیں، کیونکہ وہ انہیں اپنے پاس کیمپ میں تو نہیں رکھ سکتے۔ جس پر ہم نے انہیں سمجھایا کہ یہ سب کچھ آپ ہی کا کیا دھرا ہے۔ اگر آپ طالبان اور شرپسندوں کو اپنے پاس نہ ٹھہراتے، سہولیات فراہم نہ کرتے تو حکومت کی آپ کو علاقے سے نکالنے کی مجال بھی نہ ہوتی۔ اس پر انہوں نے کہا کہ کوئی طالب والب نہیں۔ رات کو یہی لوگ آکر زبردستی ہمارے گھروں میں گھس کر رات بسر کرتے ہیں۔ دن کو لباس بدل کر کل والے مسئلے کا حساب مانگتے ہیں۔ اس وقت جو آپریشن چل رہا ہے، اس حوالے سے بھی عمائدین کے تاثرات سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ وہ آج بھی وہی مذکورہ شکایات کر رہے ہیں۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ طالبان ہمارے علاقوں میں آسمان سے تو نازل نہیں ہو رہے۔ نہ ہی ہوائی جہازوں اور ہیلی کاپٹرز میں اترتے ہیں۔
یہ لوگ باقاعدہ سرکاری روڈ پر سے اور سرکاری چیک پوسٹوں سے گزر کر یہاں آتے ہیں۔ چنانچہ حکومت اس حوالے سے اگر سنجیدہ ہوتی تو وہ راستے ہی میں انہیں روک لیتی، مگر وہ ایسا نہیں کرتی۔ بہر صورت علاقے میں موجود بدامنی کا ایک سبب خود وہاں کے عوام ہیں، جو شرپسندوں کو پناہ دیتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتے۔ دوسری جانب حکومتی پالیسی بھی اہم سبب ہے۔ حکومت کی خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ ہمسایوں کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رکھتی۔ بیرونی دباو کا شکار ہوکر اپنے ہمسایوں کی دشمنی مول لیتی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ سب مل کر اندر عدم استحکام اور شرپسندی کو ہوا دیتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ حکومت کی گڈ اور بیڈ طالبان کی اصطلاح وطن عزیز نہیں بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہے۔ عوام کا خیال ہے کہ طالبان کا ایک طبقہ (گڈ طالبان) سرکاری جبکہ دوسرا طبقہ غیر سرکاری ہے، جبکہ مصیبت یہ ہے کہ عوام یہ تمیز کیسے کریں کہ کون گڈ ہیں اور کون بیڈ۔ گڈ کو بیڈ سے علیحدہ کرنے کا طریقہ خود ان کے پاس نہیں۔ ہاں اگر اس کے لئے حکومت ہی کوئی مناسب راہ حل نکالے، جو کہ ناممکن ہے۔ چنانچہ شرپسندی اور بدامنی کے اسباب دونوں جانب سے لاحق ہیں۔
آپریشن کے نتائج:
فوجی آپریشن کے نتائج بڑے بھیانک ہوتے ہیں۔ بازار، مساجد، مزارات بلکہ پوری آبادیاں ملیامیٹ ہوتی ہیں۔ عوام بے گھر ہو جاتے ہیں۔ ان کی عزت، معاش، روزگار، صحت اور تعلیم سب کچھ تباہ ہو جاتی ہے اور جو علاقے ایک دفعہ خالی ہو جاتے ہیں۔ وہ بیس سالوں تک آباد نہیں ہوسکتے۔ اگر کبھی آباد بھی ہوئے تو کہیں 10 فیصد ہی آباد ہوتے ہیں۔ کروڑوں مالیت کے مکانات، آسائشات، حیوانات اور سہولیات بھی ہاتھ سے چلی جاتی ہیں۔ ان کے مکانات و مافیہا سب کچھ اوروں کے رحم و کرم پر رہ جاتا ہے۔ متاثرین کو اپنے بچھڑے اسباب کی فکر ہی کھا جاتی ہے اور وہ بقیہ زندگی ذہنی تناو کی وجہ سے ہسپتالوں میں گزارتے ہیں۔ قبائلی علاقوں کی کل آبادی کا نصف حصہ اس وقت اپنے علاقوں سے مہاجر ہیں۔
مسئلے کا حل اور علاج:
دنیا بھر میں نظر دوڑائیں، شرپسندی، دہشتگردی، دھماکے، فسادات وغیرہ کے مراکز اسلامی دنیا ہی میں نظر آئیں گے اور اس کے پیچھے ڈائریکٹ عوامل بھی آپ کو اسلامی بنیاد پرستی ہی کی شکل میں نظر آئے گی، جبکہ ان کے پیچھے ان ڈائریکٹ عوامل مغربیت دکھائی دینگے۔ جس میں سرفہرست امریکہ اور اس کے بعد یورپ، اسرائیل اور دیگر عالم کفر ہی نظر آئے گا۔ اب اس کا علاج یہ ہے کہ عالم اسلام امریکہ اور مغرب پر اپنا انحصار کم کرلے۔ اس کی جگہ اپنے ہمسایوں خصوصاً عالم اسلام کے ساتھ تعلق بہتر کرلے۔ طالبان اور کسی بھی ایسے گروہ کو جو زندگی میں کبھی بھی ملک دشمن رہا ہو، کو مسترد کر دے۔ ان کے ساتھ کسی قسم کا تعلق رکھنے کی بجائے ان کا تعاقب کرے۔ مشاہدے کی بات ہے کہ جو طالبان جیلوں میں قید ہیں، انہیں موبائل، نیٹ اور دیگر ہر طرح کی سہولیات فراہم ہیں۔
چنانچہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ "ازماست کہ برماست۔” یعنی ہم پر جو کچھ بیت رہا ہے، وہ سب اپنے ہاتھوں پیدا کردہ ہے۔ مسئلے کا دوسرا حل یہ ہے کہ قبائل سمیت کوئی بھی شہری کسی بھی دہشتگرد کو پناہ دینے سے گریز کرے۔ اپنے علاقوں میں ایسے کسی بھی مشکوک شخص کو پناہ نہ دے، جس کی وجہ سے انہیں برے ایام دیکھنا پڑیں۔ دوسری جانب حکومت اس بات کا بھی خیال رکھے کہ طالبان کی حمایت کی پاداش میں پورے علاقے کو سزا دے، بلکہ جو لوگ خصوصاً علاقے کے موثر افراد پر ہاتھ ڈالے۔ ان کی مراعات واپس لے۔ ان کے پاسپورٹ، شناختی کارڈ اور بینک اکاونٹ بلاک کرے۔ یوں مستقبل میں کوئی بھی ایسی غلطی نہیں کرے گا۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






