جون 18, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر 

6 فروری 2026 سانحہ ترلائی  مسجد خدیجتہ الکبریٰ سلام اللہ علیہا  نے میرے خیال میں پہلی مرتبہ وطن عزیز کی مذہبی و سیاسی قیادت کو ایک مثبت سوچ دیکر قوم کو احساس اور ہمدردی کی نہج دکھائی دی ہے ۔ اس سانحہ ترلائی کی تکلیف اور ہمدردی ہم وطنوں کو بہت زیادہ ہوئی ہے جس کا ادراک اہل دانش اور معتدل سوچ کے حامل افراد بہتر انداز سے کر سکے ہیں ۔

ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اس سانحہ میں جاں بحق ہونے والے بہت تھے۔ جن میں معصوم بچے بھی تھے جو حالت سجدہ میں خالق حقیقی سے جا ملے وہ معصوم بچے اس ملک کا مستقبل تھے۔ بہر کیف غم کے ان گھنے بادلوں میں اطمینان کی ایک کرن جھانک رہی ہے۔ قاتل قوم کی وحدت کو شکست نہ دے سکا جو اس کا اصل ہدف اور مقصد تھا وہ ناکام ہوا ملک دشمن عناصر کو سب سے بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور قاتل کے مذموم عزائم کے برعکس قوم نے مذہب کے نام پر تقسیم ہونے سے انکار کر دیا۔

چند فرقہ پرستوں کی  شر پسند سوچ اپنی جگہ‘ قوم نے شیعہ سنی کے عنوان سے تقسیم ہونا قبول نہیں کیا۔ اہلِ دانش ہوں یا عام شہری‘ کوئی سنیوں کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار نہیں دے رہا۔ سب اپنے حقیقی دشمن کو پہچان رہے ہیں۔ انہیں اندازہ ہے کہ ان کی مذہبی شناخت کا صرف ایک حوالہ ہے اور وہ  سیدنا محمدﷺ کی ذات اقدس ہے۔ امت مسلمہ ہونا ہی ہی ہماری پہچان ہے۔ ہم سب مصطفوی ہیں۔ سب مسلمان ہیں ۔  یہی وجہ ہے کہ ہم سب علامہ اقبال سے متفق ہیں کہ ‘آبروئے ما زنامِ مصطفی است‘۔ ہم اس راز کو پا چکے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس ترلائ حادثے کی کوکھ سے شیعہ سنی منافرت جنم نہیں لے سکی۔ صرف شیعہ راہنما ہی نہیں‘ اہلِ سنت کے علما بھی اس کی مذمت میں پیش پیش ہیں۔ یہ حادثہ دراصل ناکام ہو گیا ہے۔

منفی سوچ کے حامل افراد نے  اگر چہ اس دل خراش سانحہ کو فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہا تو ان کی مجبوری سمجھ میں آتی ہے کہ اسی تعصب اور تنگ نظری کے فروغ سے ان کی دال روٹی چلتی ہے۔ اس وقت تو یہی لگتا ہے کہ عوام نے ان شر پسند عناصر کو نظر انداز کر دیا ہے۔ قوم ان کے مذموم تعصب میں آنے پر آمادہ نہیں ہوئے۔ عام آدمی بھی آگاہ ہے کہ فساد جب گلی بازار اور چوکوں میں پھیل جائے تو کوئی بھی سلامت نہیں رہ سکتا۔ امام بارگاہ سے مسجد زیادہ دور نہیں۔ عوام تو یہ بھی سمجھ چکے کہ مسجد اور چرچ بھی ایک دوسرے سے دور نہیں ہیں۔ عبادت گاہ سب کے لیے لائق احترام ہیں۔ یہ بات مسلمانوں کو ان کے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بتائی ہے اور دیگر مذاہب اور ادیان کے پیرو کاروں کو ان کے حقیقی مذہبی راہنماؤں نے ہر ایک کے مقدس مقامات اور مقدسات کا احترام کرنا سکھایا ہے ۔اب پاکستان میں شیعہ سنی تقسیم تو درکنار‘ مسلم اور غیر مسلم میں اتحاد اور یک جہتی نظر آئی ہے۔ سب نے  قائد اعظم کی نصیحت کو قبول کر لیا ہے ہے کہ مذہب سب کا انفرادی معاملہ ہے۔ سب آزاد ہیں‘ وہ مندر جائیں یا مسجد جائیں۔ کوئی کسی پر قدغن نہیں لگا سکتا ۔

پاکستانی معاشرہ کی اسلامی پہچان اس  نظریہ سے متصادم نہیں ہے۔ سانحہ ترلائی کے موقع پر

سیاسی و مذہبی قیادت نے  بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ہے ۔ آج دہشت گردی کے خلاف مرکز اور خیبرپختونخوا کی حکومتیں ایک پیج پر ہم آہنگ ہیں۔ ہر ایک  کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے کہ اقتدار کی سیاست اسی وقت کامیاب ہو گی جب ملک میں امن و امان قائم ہو گا۔ امن و امان کی صورت میں معیشت رواں دواں ہو گی۔ امن و امان کے قیام کے بعد ہم اپنی اپنی سیاسی وابستگی میں آزاد اور مستحکم ہوں گے۔ جو بات ہمیں اعتدال پسند مبلغ کی زبان سے سمجھ نہیں آ رہی تھی‘ اسے دہشت گردوں نے سمجھا دیا۔ ‘مسلمان کو مسلمان بنا دیا سامراج اور استعمار کی مسلم مخالف سازشوں نے‘ الحمد اللہ پاکستانیوں کو خبردار رہنے کی ضرورت پر آمادہ کر دیا ہے ۔ اندرونی اور بیرونی دشمن کی شناخت ہوتی جا رہی ہے ۔ کیوں کہ سوشل میڈیا کو آج بھی فتنہ فساد کے لیے استعمال کرنے کو شش کی جا رہی ہے۔  دشمن کو عوامی شعور میں اضافے کی وجہ سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان سے کھلی جنگ لڑنا آسان نہیں رہا اس لئے دشمن نے متبادل محاذ کے  لئے سوشل میڈیا کو اختیار کیا ہے ۔ لہذا ہر پاکستانی کو دشمن کی اس متبادل چال اور سازش کو سمجھنا از حد ضروری ہے ۔ہمیں اس چال سے خبردار رہنا چاہئے ۔

سوشل میڈیا پہ فساد پھیلانے والے عناصر بہت ہیں۔ سوشل میڈیا کا ہتھیار دونوں طرف استعمال  ہوتا ہے۔ جب مذہبی قیادت نیم خواندہ کم پڑھے لکھے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے تو اس کا انجام نہ مذہب کے حق میں ہوتا ہے نہ معاشرے کے حق میں ہوتا ہے۔ ۔ یہ مذہب کے نام پر جہالت کو فروغ دیتے ہیں۔ ‘ فرقہ وارانہ جذبات سے کھیلتے ہیں اور اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اس وقت ہر  ذی شعور کو سمجھنا چاہیے کہ سوشل میڈیا پہ مذہبی تاجروں کی بھرمار ہے۔ یہ اختلاف کو بھڑکا رہے ہیں ۔ اللہ کا شکر ہے شیعہ راہنماؤں میں بالغ نظر اور  معتدل علما موجود ہیں۔ وہ آگے بڑھ کر راہنمائی کا منصب سنبھال  رہے ہیں تاکہ کم علم اور تاجرانہ مزاج کے لوگ اس طرح کے حادثات کو ملک میں قوم کو کسی مستقل فساد میں مبتلا  نہ کر دیں ۔

پاکستان مسلم اکثریتی ملک ہے۔ ہماری قومی قیادت میں سو عیب سہی مگر  سیاسی و مذہبی جماعتیں مسلکی اور  سیاسی حوالے سے کسی تنگ نظری میں مبتلا نہیں ہیں۔ پاکستان نے بطور ریاست خود کو مسلکی پہچان سے دور رکھا ہے۔ پاکستان کا آئین بھی قرآن وسنت کی حکمرانی کو مانتا ہے‘۔  ہم سب سمجھ لیں کہ مشرقِ وسطیٰ کے حالیہ بحران میں‘ پاکستان  جس طرح ایران کو عالمی فتنوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مثبت کردار ادا کر رہا ہے‘ وہ اس بات کی گواہی ہے کہ ہماری ریاستی قیادت مسلکی تقسیم سے مبرا ہے۔ آج بھی پاکستان کی سر توڑ  کوشش ہے کہ ایران پر کوئی حملہ نہ ہو۔ باوجود اس کے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے میں جنگ مسلط کرنے کی کوشش  کی جا رہی ہے۔ پھر بھی مذہبی قیادت ہر وقت آگاہ اور چوکس یے  تاکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے پاکستان کو ایسے تنازعات میں الجھایا  نہ جا سکے کیونکہ مشرق وسطیٰ کی جنگ ہمارے ملک کے لیے انتہائی خطرناک اندیشے کی حامل ہے۔

ہمیں بطور قوم اندرونی اور بیرونی سنگین صورتحال کے پیش نظر اپنے  باہمی اختلافات کو پس پشت ڈالنا ہوگا اور ہر سیاسی ومذہبی گروہ کی غیر مشروط وابستگی اور ہم آہنگی ناگزیر بنانا ہوگی کیونکہ ‘  قائداعظم نے  اتحاد‘ ایمان اور تنظیم کے اصول دیے تھے۔ ہم ان اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے‘ قومی یک جہتی اور سلامتی کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔  ورنہ ان اصولوں سے روگردانی ملک دشمن عناصر کو تقویت دینے میں ممد و معاون  ثابت ہوگی۔

کوئی شک نہیں کہ حادثات نے ہمیں بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ تاہم اب بھی بہتری کی بہت ضرورت ہے۔ آئین و قانون کے ساتھ ہمیں معاشرتی رویوں اور سیاسی ومذہبی سرگرمیوں کو بھی ایک قومی حکمتِ عملی کے تحت لانا ہو گا۔ جس طرح سانحہ ترلائی کے معاملے میں سیاسی و مذہبی قیادت نے بالغ نظری ، حکمت عملی ، حوصلہ اور تدبر کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح چند شر پسند عناصر کو شکست دینے کے لئے اعتدال پسند معاشرے کو ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور مذہبی و سیاسی قیادت کے بالغ نظری پر مبنی فیصلوں کو مثبت انداز میں درک کرنے کی ضرورت پر زور دینا چاہیے کیونکہ پاکستان اور مشرق وسطیٰ کے حالات کی سنگینی کے پیش نظر مذہبی و سیاسی کشیدگی کا سامنا کرنے کےلئے ہم سب متحمل نہیں ہیں ۔  ہم پاکستانیوں کو  بھارت ، افغانستان اور اسرائیل کے خطرناک عزائم کو سمجھنا ہوگا اور سوشل میڈیا پر انتشاری ٹولے کی پہچان کرنا نہ صرف مذہبی و سیاسی قیادت کی زمہ داری ہے بلکہ ہر اہل وطن پاکستانی کا فرض اولین ہے کہ وہ بھی مذہبی و سیاسی قیادت کی طرح بالغ نظری کا مظاہرہ کرے ۔ اور ریاستی اداروں کا بھی فرض ہے کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر شر پسند عناصر کو نکیل ڈالیں !

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

sixteen + 18 =