تحریر: سید اعجاز اصغر
پاکستان میں جس انداز سے مذہبی انتہا پسندی بڑھ رہی ہے اس کو روکنے کے لئے
اکثریت کو فورتھ شیڈول میں ڈالا جا رہا ہے اورپاکستان میں جس کا نام فورتھ شیڈول میں ڈالا جائے،سمجھیں وہ چلتا پھرتا”مردہ”ہے۔
فورتھ شیڈول کیا ہے ؟ اور اس میں نام درج ہونے کے بعد زندگی کیسے اجیرن ہوتی ہے ؟
غور کریں !
فورتھ شیڈول (Fourth Schedule) انسداد دہشت گردی ایکٹ (ATA) 1997 کی سیکشن 11EE کے تحت ایک فہرست ہے جس میں ان افراد کے نام شامل کیے جاتے ہیں جو دہشت گردی، فرقہ وارانہ سرگرمیوں یا ممنوعہ تنظیموں سے وابستہ ہونے کا شبہ رکھتے ہیں۔ اس فہرست میں شامل ہونے سے متعلقہ شخص کو "پروسکریبڈ پرسن” (Proscribed Person) قرار دیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسے شدید پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
فورتھ شیڈول میں شامل ہونے والے شخص کی آزادانہ نقل و حرکت پر مکمل پابندی ہوتی ہے
پاسپورٹ بلاک کر کے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) میں نام ڈال دیا جاتا ہے۔
صرف علاقائی سطح تک محدود رہ جاتا ہے۔
دوسرے صوبوں،شہروں سمیت ملک بھر میں سفر پر پابندی ہوتی ہے،
جس سے نوکری، تعلیم،کاروبار یا خاندانی ملاقاتیں مکمل متاثر ہوتی ہیں
تقریریں، ریلیاں، سوشل میڈیا یا پبلک تقریبات میں شرکت ممنوع ہو جاتی ہے
سیاسی، سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینا ممنوع ہوتا ہے
اثاثے منجمد ہوجانا، بینک اکاؤنٹس بلاک،
ہونے سے مالی لین دین بند ہو جاتا ہے جس سے
کاروباری سرگرمیاں مکمل رک جاتی ہیں
جس سے آمدنی کا ذریعہ ختم ہوجاتا ہے، جو خاندان کو غربت اور معاشی بحران میں دھکیل دیتا ہے۔
شناختی دستاویزات پر پابندی
قومی شناختی کارڈ (NIC) بلاک ہو جاتا ہے
سرکاری سہولیات، بینکنگ یا روزمرہ امور جیسے بل ادائیگی یا طبی امداد حاصل کرنا تک مشکل ہوجاتا ہے
قانونی اور سماجی مسائل
گرفتاری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، نگرانی بڑھ جاتی ہے، ہر وقت سماجی بدنامی ہوتی ہے
لوگ قطع تعلق کر لیتے ہیں
جس سے شدید نفسیاتی دباو پیدا ہوتا ہے
انتہا پسند مذہبی جماعتوں کے لوگ جیلوں میں لمبی سزائیں پاتے ہیں مگر جو جیل نہ جائیں یا جیلوں سے نکل آئیں ان کے نام فورتھ شیڈول میں شامل ہونے سے ان کی زندگیاں ویسے ہی تباہ ہو جاتی ہیں ۔
مذہبی جماعتوں کے کئی جذباتی سوشل میڈیا والے کارکن بھی اس زد میں آتے ہیں ۔ لہذا تمام پڑھے لکھے اعتدال پسند افراد سے التجا ہے کہ اپنے اپنے پیاروں کو مذہبی انتہا پسند گروپوں سے اجتناب کروا کر مثبت کردار ادا کریں۔ دین اسلام میں جبر نہیں۔ ہر کوئی اپنے اپنے مذہب کو اپنی ریسرچ کے مطابق جاری رکھنے کا حقدار ہے۔ مگر کفر کے فتوے جاری کرنا مذاہب اربعہ میں کہیں بھی درج نہیں ہیں۔دین اسلام اعتدال پسندی، رواداری، امن و امان قائم رکھنے کا درس دیتا ہے۔ کوشش کریں اپنے اندر مثبت سوچ پیدا کرتے ہوئے معاشرتی ماحول کو امن و امان کی طرف گامزن کریں ورنہ فورتھ شیڈول کا پھندا انتہا پسندوں کے لئے ہی تیار کیا گیا ہے۔ حکومت پاکستان سے بھی اپیل ہے کہ کسی بے گناہ کو فورتھ شیڈول کی کڑی سزا دینے سے گریز کرے ورنہ امن و امان کا توازن بگڑ جائے گا۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






