تحریر: سید اعجاز اصغر
عزاداری ہماری شہ رگ حیات ہے ۔ عزاداری ایک تحریک اور انقلاب کا نام ہے، عزاداری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے ۔ محسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی جان، مال، اولاد، عزیز و اقارب، انصار و اصحاب کی قربانیاں دے کر الٰہی نظام کو بچا لیا ۔ اپنے نانا رسول خدا کی شریعت کو پامال نہ ہونے دیا ۔ اگر واقعہ کربلا نہ ہوتا تو آج ہر گھر میں یزید ہوتا، یزیدیت برائی کا نام ہے ۔ حسینیت اچھائی اور نیکی کا نام ہے ۔ حضرت امام رضا علیہ السلام کو کسی نے پوچھا کہ مولا آپ محرم الحرام منانے کی زیادہ تاکید کیوں کرتے ہیں تو امام رضا علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم محرم الحرام منانے کی تاکید اس لئے کرتے ہیں کہ کہیں امت مسلمہ غدیر خم کی طرح واقعہ کربلا کو بھی فراموش نہ کردے ۔ ؟
میدان کربلا میں دین خدا کی حفاظت ولایت کے الہی نظام کی بدولت ممکن ہوئی ۔ میدان کربلا میں ولی خدا حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنا سب کچھ قربان کرکے ثابت کردیا کہ بعد از رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم دین خدا کے وارث آل نبی اولادِ علی علیھم السلام ہی ہیں ۔ لہذا اس دین کی قدر آل رسول ہی جانتے ہیں ۔ اگر دین قیمتی نہ ہوتا تو آل رسول بعد از رسول خدا اپنی زندگیوں کو خطرات میں نہ ڈالتے ۔
محرم الحرام کے ایام عزاء پوری دنیا کے انسانوں کو تجدید عہد کا موقع فراہم کرتے ہیں ۔
ہم نے ایام عزاء میں کیا حاصل کیا ؟
خود اپنے آپ سے سوال کریں’ !
اور اپنے ضمیر کی عدالت میں فیصلہ کروانے کی بابت مندرجہ ذیل سوالات کا بغور جائزہ لیں !*محرم الحرام کے خطباء، ذاکرین اور واعظین کے نام ایک سنجیدہ سوال
محترم خطباء، ذاکرین اور واعظین!
ہر سال محرم آتا ہے، مجالس برپا ہوتی ہیں، لوگ جمع ہوتے ہیں، آنسو بہتے ہیں—اور پھر سب کچھ ویسا ہی رہ جاتا ہے جیسا پہلے تھا۔
اگر یہی ہونا ہے تو خود سے ایک سوال کریں:
کیا یہ عزاداری ہے یا صرف ایک رسم ؟
کربلا کوئی قصہ نہیں، ایک پیغام ہے۔ اور افسوس یہ ہےکہ ہم میں سے اکثر اس پیغام کے امین بننے کے بجائے صرف الفاظ کے تاجر بن چکے ہیں۔
چند تلخ مگر ضروری نکات:
- تیاری کے بغیر منبر پر نہ آئیں
ہر مجلس سے پہلے سنجیدہ مطالعہ کریں۔
صرف پرانی ڈائریاں اور یاد کیے ہوئے جملے دہرانا علم نہیں، خیانت ہے۔
- ہر مجلس کا ایک واضح پیغام ہو
مجلس ختم ہو تو سننے والا یہ بتا سکےکہ آج کیا سیکھا۔ اگر وہ صرف رو کر چلا گیا اور کچھ بدلا نہیں، تو آپ ناکام ہوئے۔
- رسمی عزاداری سے باہر نکلیں
صرف مصائب پڑھ دینا کافی نہیں۔ کربلا کو موجودہ دور کے مسائل سے جوڑیں—ظلم، ناانصافی، جھوٹ، کرپشن— یہی آج کا یزید ہے۔
- منبر کو جذباتی کاروبار نہ بنائیں
اگر آپ کا مقصد صرف مجمع کو رلانا ہے، تو آپ ایک فنکار ہیں، مبلغ نہیں۔
- حقیقت بیان کریں، مبالغہ نہیں
جھوٹی یا غیر مستند روایات سے وقتی اثر تو پیدا ہو سکتا ہے، مگر دین کو نقصان پہنچتا ہے۔
- خود عمل کریں، پھر دعوت دیں
اگر آپ کی اپنی زندگی میں کربلا کا اثر نہیں، تو آپ کے الفاظ کھوکھلے ہیں۔
- نوجوانوں کو سوچنے پر مجبور کریں
صرف جذبات نہیں، شعور دیں۔ سوالات پیدا کریں، جواب دیں، ذہن بنائیں۔
- وقت کی قدر کریں
غیر ضروری طوالت، تکرار اور غیر متعلقہ باتیں مجلس کی توہین ہیں۔
- امام حُسین علیہ السّلام کو صرف رونے کا موضوع نہ بنائیں
وہ ایک انقلاب کا نام ہیں۔ ان کی سیرت کو عملی نمونہ بنا کر پیش کریں۔
- اپنی نیت کا جائزہ لیں
یہ سب کس لیے کر رہے ہیں؟
شہرت؟
نذرانہ؟
یا واقعی ہدایت؟
یاد رکھیں:
اگر آپ کی مجلس کے بعد سننے والے کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی، تو آپ نے صرف ایک پروگرام کیا ہے، تبلیغ نہیں۔
اس محرم فیصلہ کریں—آپ روایت کو دہرانے آئے ہیں یا تاریخ بدلنے؟
کربلا صرف یاد کرنے کی چیز نہیں، روح کو زندہ کرنے کی ذمہ داری ہے۔
دور حاضر میں درس کربلا حاصل کرنے کا عملی ثبوت ایران کی قوم نے پیش کیا ہے، ایران قوم نے آج کے دور میں کربلا کا میدان لگا کر وقت کے یزید کو للکارنے کے لئے اپنی زندگیوں کو موت پر ترجیح دی ہے ۔ ایرانیوں نے موت کی تمنا کرنا حضرت امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس سے سیکھا ہے ۔ انہوں نے موت کو زندگی اور دنیاوی زندگی کو موت سمجھا ہے ۔ انہوں نے دنیاوی زندگی کو وقت کے یزید کے سامنے ذلت سمجھا ہے اور موت کو عزت و آبرو سمجھا ہے ۔ ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ حسینی بننا ہے تو ایرانی قوم کی طرح باوقار قوم بننا ہوگا ۔ آج کے دور میں اگر ایرانی کربلا نہ ہوتی تو مسلمانوں کے لئے سانس لینا دشوار ہو جاتا ۔ ایرانی رہنماؤں نے وقت کے یزید کے سامنے حسینی بن کر عملی طور پر واضح کردیا ہے کہ
جب کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو !
ڈٹے رہو حسین کے انکار کی طرح !
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔








