جون 30, 2026

تحریر: محمد ثقلین واحدی

اسلامی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی عظمت کسی ایک مکتبِ فکر تک محدود نہیں رہتی، بلکہ ان کی بہادری، کردار اور خدمات پر مختلف مکاتبِ فکر کے مؤرخین بھی اعتراف کرتے ہیں۔ مالک اشتر نخعی انہی شخصیات میں سے ایک ہیں، جن کا نام جرات، وفاداری، بصیرت اور عدل کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

مالک اشتر یمن کے قبیلہ نخع سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ عہدِ خلافت میں اسلامی فتوحات اور بعد کے اہم سیاسی و عسکری مراحل میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی اصل شہرت امام علی بن ابی طالب کے سب سے قابلِ اعتماد سپہ سالار اور مشیر کی حیثیت سے ہوئی۔

مالک اشتر کو وفاداریِ ولایت کا اعلیٰ نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ نہج البلاغہ میں موجود امام علی علیہ السلام کا وہ مشہور عہدنامہ، جو مصر کی گورنری کے موقع پر مالک اشتر کے نام تحریر کیا گیا، آج بھی اسلامی طرزِ حکمرانی، عدلِ اجتماعی، انسانی حقوق اور عوامی خدمت کی بہترین دستاویزات میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس عہدنامے میں امام علیؑ نے حکمران کو رعایا کے ساتھ شفقت، انصاف، دیانت اور قانون کی بالادستی کی تلقین کی، جو مالک اشتر کی اہلیت اور امامؑ کے ان پر غیر معمولی اعتماد کی روشن دلیل ہے۔

شیعہ روایات میں امام علی علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپؑ نے مالک اشتر کی شہادت پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر مالک پہاڑ ہوتے تو بلند ترین پہاڑ ہوتے، اور اگر پتھر ہوتے تو سخت ترین چٹان ہوتے۔ یہ الفاظ ان کے بلند مقام اور بے مثال کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔

دوسری طرف اہلِ سنت کے معتبر مؤرخین نے بھی مالک اشتر کی عسکری صلاحیت، بہادری اور قیادت کا اعتراف کیا ہے۔ محمد بن جریر طبری نے تاریخ الطبری میں جنگِ جمل اور صفین میں ان کی نمایاں خدمات بیان کی ہیں۔ ابن اثیر نے الکامل فی التاریخ میں انہیں حضرت علی علیہ السلام کا دلیر اور وفادار سپہ سالار قرار دیا، جبکہ شمس الدین ذہبی نے سیر أعلام النبلاء میں ان کی شجاعت اور قوتِ قیادت کا اعتراف کیا ہے۔ ابن کثیر نے بھی البدایہ والنہایہ میں ان کی جنگی مہارت اور حضرت علی ع سے قربت کا ذکر کیا ہے،

یہ حقیقت قابلِ غور ہے کہ ابتدائی اسلامی تاریخ کے سیاسی اختلافات کے باوجود، مالک اشتر کی عسکری قابلیت، جرأت اور اخلاص کو بڑے مؤرخین نے نظر انداز نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نام تاریخ میں ایک ایسے سپہ سالار کے طور پر محفوظ ہے جس نے اقتدار کے بجائے اصولوں کا ساتھ دیا۔

مالک اشتر کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک سپاہی کی اصل عظمت صرف تلوار چلانے میں نہیں بلکہ حق، عدل اور امانت کی حفاظت میں ہے۔ وہ میدانِ جنگ کے فاتح تھے، لیکن اس سے بڑھ کر وہ کردار کے فاتح تھے۔ ان کی شخصیت اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قیادت دیانت دار ہو اور اس کے ساتھی مخلص ہوں تو ریاستیں عدل کا نمونہ بن سکتی ہیں۔

آج کے دور میں، جب قیادت، دیانت اور وفاداری جیسے اوصاف ناپید ہوتے جا رہے ہیں، مالک اشتر کی زندگی ہر صاحبِ اقتدار، ہر منتظم اور ہر نوجوان کے لیے ایک روشن مثال ہے۔ ان کا نام صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ کردار، استقامت اور اصول پسندی کا ایسا عنوان ہے جس پر سنی اور شیعہ دونوں تاریخی روایتوں میں قابلِ ذکر اعتراف موجود ہے، یہی وہ مشترک پہلو ہے جو مالک اشتر کو اسلامی تاریخ کی عظیم شخصیات میں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

twenty + 9 =