تحریر: علی سردار سراج
یہ بات مسلم ہے کہ انسان مدنی ہے، البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ کیا وہ مدنی بالطبع ہے یا مدنی بالتبع ہے؟ پہلی صورت میں مدنی ہونا انسان کی سرشت میں شامل ہے، دوسری صورت میں بیرونی عوامل کی وجہ سے انسان مدنی زندگی گزار رہا ہے۔
بہرحال، انسان کا مدنی ہونے کا لازمہ ہی قانون کی ضرورت اور ساتھ ساتھ اس قانون کی بالادستی کا بھی متقاضی ہے۔ کیونکہ اگر قانون نہ ہو تو ہرج و مرج پیش آتا ہے۔ اور اگر قانون ہو مگر اس کی بالادستی نہ ہو تو ایسا قانون صرف طاقتور کی طاقت میں ہی اضافہ کرتا ہے، جس سے معاشرہ ظلم کی چکی میں پستا جاتا ہے۔
لہذا قانون کی ضرورت پر کوئی خاص اختلاف نہیں ہے۔ مسئلہ قانون کی بالادستی میں پیدا ہوتا ہے۔ طاقتور لوگ ایسے قوانین کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے جو ان کے اختیارات کو محدود کریں۔ لہذا انسانوں کو طول تاریخ میں ایسے خدا سے کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے جو صرف مقدس ہو اور انسان کی مرضی میں کوئی دخالت نہ کرتا ہو۔ ایسے خداؤں کو انسان خود بھی تراشتے رہے ہیں۔ لیکن وہ اس خدا کے سامنے تسلیم خم ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں جو امر و نہی کرے۔
جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یا تو انسانوں نے شروع سے ہی خدا اور اس کے دین کا انکار کیا، یا پھر اپنی مرضی کے مطابق دین کی تعلیمات میں تحریف کی، یہاں تک کہ وہ دین اپنی افادیت کھو بیٹھے۔ اور اللہ تعالی نے ایک نئی کتاب دی، یہاں تک کہ قرآن کریم کو آخری کتاب کے طور پر بھیج دیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے لی۔
لہذا قرآن کریم آج ہمارے درمیان اپنی اصلی شکل میں باقی ہے۔ لیکن معنوی طور پر یہ کتاب بھی انسانوں کے امیال کے زد سے محفوظ نہیں ہے۔ ہمیشہ طاقتور طبقے کی یہ کوشش رہی کہ اس کی ایسی تشریح کی جائے جو کم از کم ان کے مقاصد کے لیے رکاوٹ نہ بنے۔ اس کے لیے کیا کچھ کیا گیا، کیسے علماء کو خریدا گیا، یہ ایک طویل داستان ہے جو ناقابل انکار ہونے کے ساتھ ساتھ باعث افسوس بھی ہے۔
یہ صورت حال اس وقت اور زیادہ ترسناک ہوگئی جب طاقتور طبقات کی ڈیمانڈ کے علاوہ مذہبی اور فرقہ وارانہ سوچ کا اضافہ ہوگیا۔ پہلی صورت میں علماء کا ضمیر ضرور ان کو ملامت کرتا ہوگا، لیکن جب فرقوں کے دفاع کی بات درمیان میں آگئی تو یہ گناہ ثواب میں بدل گیا۔ جن کو مجرم ہونا چاہیے تھا وہ محترم ہوگئے۔ یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
ہمارے پاس کسی شے کے حسن و قبح یعنی نیک اور بد کا معیار اس کا ذاتی نہیں رہا۔ بلکہ دیکھنا ہوگا کہ جرم کا ارتکاب کرنے والا کون ہے؟ اگر یہ مجرم اپنے فرقے کا ہے تو جرم کی توجیہ کرنی ہوگی اور مجرم کا دفاع ضروری ہے۔ لیکن اگر یہی کام کسی دوسرے فرقے کے شخص سے سرزد ہو جائے تو پھر اس کو ضرور سزا ملنی چاہئے۔
یہ ہمارا قانون ہے، جبکہ قرآن کریم کا قانون اس سے یکسر مختلف ہے۔ قرآن کریم کسی بھی نسبت کی وجہ سے کسی بھی فرد اور گروہ کو نہ فقط قانون سے کوئی استثنا نہیں دیتا ہے، بلکہ بعض اوقات خدا اور رسول اللہ کے ساتھ نسبت کی وجہ سے ان پر زیادہ سختی کرتا ہے۔
بطور مثال:
- قرآن کریم اپنے پیارے حبیب کو اس طرح مخاطب کرتا ہے:
*وَ لَوۡ تَقَوَّلَ عَلَیۡنَا بَعۡضَ الۡاَقَاوِیۡلِ، لَاَخَذۡنَا مِنۡہُ بِالۡیَمِیۡنِ، ثُمَّ لَقَطَعۡنَا مِنۡہُ الۡوَتِیۡنَ، فَمَا مِنۡکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ عَنۡہُ حٰجِزِیۡنَ (سورہ الحاقہ: 44-47)*
اور اگر اس (نبی) نے کوئی تھوڑی بات بھی گھڑ کر ہماری طرف منسوب کی ہوتی، تو ہم اسے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے، پھر اس کی شہ رگ کاٹ دیتے، پھر تم میں سے کوئی مجھے اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔
یعنی جو فرصت ایک جھوٹے نبی کو ملتی، وہ بھی ان کو نہ ملتی۔
- ازواجِ نبی اکرم کے متعلق فرمایا:
*یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنۡ یَّاۡتِ مِنۡکُنَّ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ یُّضٰعَفۡ لَہَا الۡعَذَابُ ضِعۡفَیۡنِ ؕ وَ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیۡرًا (سورة الأحزاب: 30)*
اے نبی کی بیویو! تم میں سے جو کوئی صریح بے حیائی کی مرتکب ہو جائے، اسے دگنا عذاب دیا جائے گا، اور یہ بات اللہ کے لیے آسان ہے۔
- قوم و قبیلے کی برتری کی نفی:
*یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقۡنٰکُمۡ مِّنۡ ذَکَرٍ وَّ اُنۡثٰی وَ جَعَلۡنٰکُمۡ شُعُوۡبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوۡا ؕ اِنَّ اَکۡرَمَکُمۡ عِنۡدَ اللّٰہِ اَتۡقٰکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ خَبِیۡرٌ (سورة الحجرات: 13)*
اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا، پھر تمہیں قومیں اور قبیلے بنا دیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ تم میں سب سے زیادہ معزز اللہ کے نزدیک یقینا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ اللہ یقینا خوب جاننے والا، باخبر ہے۔
قرآن کریم کا قانون یہ ہے کہ معاشرے میں ہر صورت عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔ لہذا دشمن کے ساتھ بھی ظلم جائز نہیں ہے:
*یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ لِلّٰہِ شُہَدَآءَ بِالۡقِسۡطِ ۫ وَ لَا یَجۡرِمَنَّکُمۡ شَنَاٰنُ قَوۡمٍ عَلٰۤی اَلَّا تَعۡدِلُوۡا ؕ اِعۡدِلُوۡا ۟ ہُوَ اَقۡرَبُ لِلتَّقۡوٰی ۫ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ (سورة المائدة: 8)*
اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ، اور کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے۔ (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے، اور اللہ سے ڈرو۔ بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔
لہذا وہ لوگ جو دین کے نام پر ظالموں کے ساتھ کھڑے ہیں اور مظلومین کا حق چھین رہے ہیں، توجہ کریں! یہ دین اور یہ دینداری نہ فقط دنیا میں موجب رشد اور آخرت میں باعث نجات و سعادت نہیں ہے، بلکہ دائمی ہلاکت اور رسوائی کا سبب ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






