تحریر: سید اعجاز اصغر
اَمۡ یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰی مَاۤ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَقَدۡ اٰتَیۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ وَ اٰتَیۡنٰہُمۡ مُّلۡکًا عَظِیۡمًا﴿۵۴﴾
مشرکین مکہ کے حالات
۵۴۔کیا یہ( دوسرے) لوگوں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازا ہے؟ (اگر ایسا ہے) تو ہم نے آل ابراہیم کو کتاب و حکمت عطا کی اور انہیں عظیم سلطنت عنایت کی۔
54۔ سابقہ آیت میں مذکور اہل کتاب کا یہ فیصلہ کہ مشرکین کا مذہب مسلمانوں سے زیادہ ہدایت پر ہے، اس حسد پر مبنی ہے کہ جو اہل کتاب آل اسماعیل سے، بالخصوص رسول خاتم ﷺ سے رکھتے ہیں۔
مُّلۡکًا عَظِیۡمًا : جس حکومت اور امامت کو اللہ نے عظیم کہا ہے وہ اپنی وسعت مکانی، وسعت زمانی اور وسعت معنوی کے اعتبار سے نہایت عظیم ہے، چونکہ نبوت الہٰی اور ولایت حقیقی کا دائرہ پوری کائنات تک پھیلا ہوا ہے۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے: نحن الناس المحسدون (شواہد التنزیل 1 : 183) وہ لوگ جن سے یہود حسد کرتے ہیں ہم ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے معاویہ کے نام ایک خط میں لکھا: نحن آل ابراہیم المحسدون و انت الحاسد لنا ۔ (الغارات 1: 115)۔
یَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ
تفسیر صافی صفحہ نمبر 112 پر کافی اور تفسیر عیاشی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آئمہ طاہرین علیہم السّلام نے فرمایا ہے کہ وہ محسود( جن سے حسد کیا جائے ) ہم اہلبیت علیہم السّلام ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ ہم نے ان کو اپنا فضل عطا کیا ہے یعنی درجہ امامت عطا کیا ہے۔ اور تفسیر مجمع البیان میں امام محمد باقر علیہ السّلام سے منقول ہے کہ اس آیت میں الناس سے مراد نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔
مُّلۡکًا عَظِیۡمًا
تفسیر صافی صفحہ نمبر 112 پر اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ کچھ بعید نہیں کہ انہیں اللہ تعالٰی نے اس قدر عطا فرمایا جتنا آل ابراہیم کو اس لئے کہ وہ اب کے بنی عم ہیں اور کافی و تفسیر قمی میں امام جعفر صادق علیہ السّلام سے مروی ہے کہ اس آیت میں الکتاب سے مراد نبوت اور الحکمۃ سے فہم اور قضاء اور مُّلۡکًا عَظِیۡمًا سے اطاعت واجبہ ہے۔ اور کافی اور تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر علیہ السّلام سے منقول ہے کہ اللہ تعالٰی نے ان میں سے رسول، انبیاء اور امام بنائے۔پھر وہ کس طرح آل ابراہیم میں تو اس کا اقرار کرتے ہیں لیکن آل محمد علیہم السّلام کا انکار کرتے ہیں ۔ نیز فرمایا مُّلۡکًا عَظِیۡمًا سے مراد یہ ہے کہ ان میں امام بنائے جس نے ان کی ان کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی اور جس نے ان کی نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی پس یہی ملک عظیم ( مُّلۡکًا عَظِیۡمًا) ہے کہ ان میں امام بنائے۔ جس نے ان کی اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی۔
آئمہ اہل بیت علیہم السلام سے حسد کی ابتدا بعد از رسول خدا حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے ساتھ ہوئی۔ جس کی تفصیلات تاریخ اسلام اور آئمہ طاہرین علیہم السّلام کی احادیث میں موجود ہیں ۔ البتہ حسد کا تذکرہ کتاب ” العقد الفرید ” میں کہ جسے اہلسنت کے بزرگ عالم دین( ابن عبد ربہ اندلسی ) نے تالیف کیا ہے یوں بیان ہوا ہے کہ جب امام حسن ابن علی علیہ السلام کی شہادت ہوئی، اس کے بعد ایک بہت بڑا حاسد دشمن اہلبیت مدینہ آیا اس کا ارادہ تھا کہ مدینہ میں منبر رسول سے حضرت علی علیہ السلام پر سب لعن کرے۔ لوگوں نے کہاصحابی رسول سعد بن ابی وقاص بھی مسجد میں ہے اور ہمارے خیال کے مطابق وہ تیری اس بات کو تحمل نہیں کرے گا اور شدید ردعمل کا اظہار کرے گا لہذا کسی کو اس کے پاس بھیج کر اس کا نظریہ معلوم کرلو !
بہت بڑے حاسد نے ایک آدمی کو سعد بن ابی وقاص کے پاس بھیجا اور اس مطلب کے بارے میں استفسار کیا سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا کہ اگر اس حاسد نے یہ کام کیا تو میں رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد سے باہر چلا جاوں گا اور پھر کبھی بھی مسجد میں داخل نہیں ہونگا۔
حاسد نے یہ پیغام اور ردعمل سننے کے بعد سب شتم سے پرہیز کیا۔ یہاں تک صحابی رسول سعد بن ابی وقاص فوت ہوگئے۔ وفات کے بعد اس حاسد نے حضرت علی علیہ السلام پر لعنت کی اور اپنے تمام اہلکاروں کو حکم دیا کہ منبروں سے حضرت علی علیہ السلام پر لعن و سب کریں۔ ان سب نے بھی یہی کام کیا۔ اس بات کا جب زوجہ رسول جناب ام سلمی رضی اللہ تعالٰی عنہا کو پتہ چلا تو انہوں نے اس حاسد کے نام ایک خط میں یوں لکھا کہ تم کیوں منبروں سے خدا اور رسول پر سب لعن کرتے ہو ؟
کیا تم یوں نہیں کہتے ہو کہ کہ علی علیہ السلام اور اس کے چاہنے والوں اور محبت کرنیوالوں پر لعنت ؟
میں زوجہ رسول ام سلمی گواہی دیتی ہوں کہ اللہ تعالٰی حضرت علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے اور رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بھی حضرت علی علیہ السلام سے محبت کرتے ہیں۔ پس حقیقت میں تم ( حاسد، دشمن اہلبیت علیہم ) خدا اور رسول خدا پر سب لعن کرتے ہو۔ حاسد نے جناب ام سلمی رضی اللہ تعالٰی عنہا کا خط پڑھا لیکن اس کی پرواہ نہ کی۔
بحوالہ کتب
( العقد الفرید۔ جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 366 ۔ جواہر المطالب فی مناقب الامام علی ابن ابی طالب۔ جلد نمبر 2 صفحہ نمبر 228 تالیف محمد بن احمد الدمشقی الشافعی۔ متوفائے قرن نہم ہجری قمری )
قارئین محترم
جس کی تلوار کی برکت سے منبر رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم قائم ہے اس پر لعنت کرنا جائز ہے ؟
جو شخص محمد و آل محمد علیہم السّلام کا بغض رکھے اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا یا عقیدت رکھنا جائز ہے ؟
جو محمد و آل محمد علیہم السّلام کا دشمن ہے وہ اللہ تعالٰی کا دشمن ہے۔ کیا اللہ کے دشمن کو رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا دوست کہا جا سکتا ہے ؟
قرآن واہلبیت علیہم السّلام کےفرامین کے مطابق اور مذکورہ بالا تحریر میں صحابی رسول سعد بن ابی وقاص اور زوجہ رسول حضرت ام سلمی کا عقیدت و احترام برائے اہلبیت رسول علیہم السّلام امت مسلمہ کے لئے دعوت فکر ہے۔ اگر اس دعوت فکر سے چشم پوشی کرکے صوم صلوات کی قبولیت کا زعم رکھا جائے خوش فہمی رکھی جائے تو فیصلہ کرنا ہوگا کہ میدان کربلا میں ایسے حاسدین کے ٹولے رسول خدا کے نواسے کو مارنے کے لئے جمع ہوگئے تھے اور نواسہ رسول کو قتل کرنے کی جلدی میں تھے کہ نماز قضا ہو رہی ہے آیا ان حاسدوں کی نماز قبول ہے ؟
اگر ان حاسدوں کی نماز قبول نہیں ہے تو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ان حاسدوں کے سرغنے کون کون تھے ؟
اگر ان حاسدوں اور ان کے سہولت کاروں کی طرف داری کرنا جائز ہے تو ماننا پڑے گا علی اور اولاد علی علیہم السّلام کے حاسد رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے حاسد و دشمن ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن و حاسد اللہ تعالٰی کے دشمن ہیں۔
نجات اسی میں ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی اطاعت کو واجب سمجھا جائے اور اللہ و رسول اللہ کی اطاعت تب قبول ہوگی جب آل رسول علیہم السّلام کی اطاعت اور محبت دل و جان سے ہوگی۔ یہ دنیا عارضی اور فانی ہے۔ اس دار فانی سے ہر ذی روح نے کوچ کرنا ہے۔ آخرت کی زندگی میں کامیابی کا راز اللہ، رسول اللہ اور اہلبیت علیہم السّلام کی ولایت کا اقرار واجب ہے ان سے محبت واجب ہے، ان کے دشمن کو اپنا دشمن سمجھنا واجب ہے۔ ورنہ انجام جہنم ہے۔ ان کی ولایت اور حقیقی محبت کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں ۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






