تحریر: ڈاکٹر مھدی طاھری(ڈی جی خانہ فرھنگ ایران،راولپنڈی)
ابونصر محمد فارابی”، جو "معلمِ ثانی” کے نام سے مشہور ہیں (259-339 ہجری)، تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے فلسفی، حکیم، ریاضی دان اور منجم تھے۔ فارابی پہلے اسلامی فلسفی ہیں جنہوں نے یونان کی سائنسی اور فلسفی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا اور اس طرح انہوں نے دنیائے اسلام میں فلسفے کا رواج ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا۔’’تحصیل السعادت‘‘ اور "السیاسۃ المدنیہ” ان کی اہم تصانیف میں سے ہیں۔ ایران کی تہذیب آج تک اس قدر بارآور رہی ہے کہ نہ صرف ایرانی، بلکہ دیگر اقوام بھی اس عظیم ثقافت سے فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ اس بات کی گواہی ایران کی وہ اہم ثقافتی و علمی شخصیات ہیں جنہوں نے دنیا بھر میں علم اور تہذیب کی ترقی پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
فارابی: معلمِ ثانی اور ایران کے ارسطو
فارابی 259 ہجری (872 عیسوی) میں خراسان کے شہر فاراب میں پیدا ہوئے۔ فاراب، جو آج کل قزاقستان کا حصہ ہے، ماضی کے زمانوں میں ایران سے تعلق رکھتا تھا۔ فاراب ایک فارسی لفظ ہے جس کا مطلب ہے وہ زمین جو قنات(نامی علاقے) کے پانی سے سیراب کی جائے۔ فارابی کے والد سامانی فوج کے سرداروں میں سے تھے اور خود فارابی بھی ابتدا ہی سے ایرانی تہذیب میں پروان چڑھے۔ اس علاقے کا —جو اس زمانے میں ایرانی تمدن کا حصہ تھا—ثقافتی اور جغرافیائی ماحول فارسی، عربی اور مختلف فکری روایات کو سیکھنے کا مناسب میدان فراہم کرتا تھا۔ فارابی بھی ایسے ماحول میں پروان چڑھے اور جوانی ہی سے فلسفہ، موسیقی اور نظری علوم میں گہری دلچسپی دکھانے لگے۔
نوجوانی اور جوانی میں ہی ان میں فلسفیانہ ذہانت اور تجریدی مسائل پر غور کرنے کی صلاحیت کے آثار نمایاں تھے۔ فاراب میں بڑے علمی مراکز نہ ہونے کے سبب، وہ بھی اس دور کے دیگر طالبانِ علم کی طرح بڑے علمی مراکز کی طرف روانہ ہوئے۔انہوں نے حصول علم کا ابتدائی دورانیہ شہر مرو میں گذارا ۔
علم کے حصول کے ابتدائی دنوں میں ہی انہوں نے سیکھنے میں اپنی حیرت انگیز قابلیت سے جو انہیں حاصل تھی، سب کو حیران کر دیا تھا۔ اس دور میں جب مغربی علوم آہستہ آہستہ اور بڑے سکون کے ساتھ مشرق میں نمودار ہو رہے تھے، فارابی کی شخصیت ایک ایسے ستارے میں تبدیل ہو رہی تھی جس نے اکیلے ہی پوری دنیا میں علم کی ترقی پر انتہائی اہم اثر چھوڑنا تھا۔
فارابی کو تاریخ کے سب سے اہم فلسفیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ در حقیقت پہلا شخص تھا جس نے مغربی فلسفے کو اس لفظ کے اصلی اورٹھیک معنوں میں ایرانی اور اسلامی ثقافت میں رائج کیا۔ یہی سبب تھا کہ اہلِ علم میں سے بہت سوں نے اسے "معلم ثانی” کا لقب دیا؛ کیونکہ "معلم اول” وہ لقب تھا جو مغرب میں ارسطو کو دیا گیا تھا، اور اسی مناسبت سے فارابی "معلم ثانی” کہلایا۔ فارابی نے کوشش کی کہ یونانی فکر اور اسلامی جہانبینی کے درمیان ایک منطقی اور فکری رابطہ قائم کرے۔ اس کے عقیدے کے مطابق، عقل اور وحی ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی چیزیں ہیں اور انسان کی عقل اس حقیقت کی بہتر سمجھ کے لیے راستہ کھول سکتی ہے جو دین اور وحی میں پیش کی گئی ہے۔
اسی نظر ئیے(فکر) نے اسے مسلمان فلاسفہ میں ایک مؤثر اور بنیادی شخصیت بنا دیا۔ فارابی کی اہم ترین تصنیفات میں سے ایک کتاب "المدینہ الفاضلہ” ہے، جس میں وہ ایک مثالی معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہ معاشرہ افلاطون کے خیالی شہر(یوٹوپیا) سے ملتا جلتا ہے، لیکن اسلامی ثقافت کے مطابق خصوصیات کا حامل ہے۔ فارابی کے نزدیک، انسان کی فلاح صرف اس معاشرے میں ممکن ہے جس کی قیادت ایک فلسفی، دانا، خیر شناس اور لوگوں کی رہنمائی کے لائق انسان کے ہاتھ میں ہو۔
فارابی نے فلسفے کے علاوہ، منطق کے علم(کے میدان) میں بھی ایک فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس نے ارسطو کی منطق کے نظام کو زیادہ منظم کیا اور اسے ایک تعلیمی اور قابل فہم مجموعے کی صورت میں اسلامی دنیا کے دانشوروں اور طلبہ کے سامنے پیش کیا۔ اسی طرح موسیقی میں بھی وہ بے مثال دانشمندوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی کتاب "موسیقی کبیر” اسلامی تہذیب میں موسیقی پر موجود سب سے جامع اور علمی کتابوں میں سے ایک ہے اور موسیقی کانظریاتی اوراس کی اس ساخت و تاثیر کے اعتبار سے تجزیہ کرتی ہے جو نغمہ انسانی روح پر ڈالتا ہے۔
مورخین نے فارابی کی سادہ اور بے تکلف زندگی کا بہت ذکر کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنا زیادہ وقت مطالعہ اور غور و فکر میں گزارتا تھا اور منصب اور دولت کی طرف زیادہ توجہ نہ رکھتا تھا۔ بہت سے حکمران اسے عہدہ اور مال و دولت کی پیشکش کرتے تھے، لیکن وہ سوچنے کی فضیلت، تنہائی اور تحقیق کو ہر چیز سے زیادہ اہمیت دیتا تھا۔
فارابی کی موت بھی عجیب موتوں میں سے ہے۔ ایک روایت کے مطابق، جب وہ 80 سال کی عمر میں تھا تو دمشق سے آغاز شدہ ایک سفر کے دوران راستے میں ڈاکوؤں کی لوٹ مار کا شکار ہوگیا۔ ڈاکوؤں نے نہ صرف فارابی کا سب سامان اس سے لوٹ لیا بلکہ آخرکار خود اس کو بھی قتل کر دیا۔ آخرکار شام کے امراء کی کوششوں سے وہ ڈاکو گرفتار کیے گئے اور ان سب کو فارابی کی قبر پر لے جا کر پھانسی دے دی گئی.
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






