جون 19, 2026

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم

اردن اور اسرائیل کے تعلقات سے متعلق مقالہ جات کی سیریز میں یہ راقم کا تیسرا مقالہ ہے، جس میں غزہ جنگ میں اردن کے اسرائیل کے لئے کئے جانے والے امدادی اقدامات کا جائزہ پیش کیا جائے گا۔ اردن ہمیشہ ہی خطے میں امریکی اور اسرائیلی مفادات کا محافظ رہا ہے۔ حالیہ جنگ میں اردن کا منافقانہ رویہ صرف فلسطینی عوام کے لئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سامنے عیاں ہوچکا ہے اور اس منافقانہ چہرے کو ہی مزید بے نقاب کرنے کے لئے راقم نے چند تحریروں پر مشتمل سیریز تیار کی ہے، تاکہ عوام الناس تک حقائق پہنچ جائیں۔ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دو سالہ عرصے (2023ء سے 2025ء) کے دوران اردن نے بظاہر خود کو امن کے حامی اور امداد رسان ملک کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن پسِ پردہ اس کی خارجہ اور دفاعی پالیسی ایک انتہائی متضاد دوغلا کردار ادا کرتی رہی۔ اس عنوان سے راقم نے ایک تفصیلی مقالہ پہلے ہی پیش کیا ہے۔ یہ کردار ایک طرف امریکی اتحاد کے مفادات کی تکمیل اور دوسری جانب عوامی غصے سے بچائو دونوں کے بیچ توازن کی ایک خطرناک بازی تھی۔ جس میں اردن ناکام ہوگیا ہے۔

اکتوبر 2023ء میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے بعد، امریکہ نے علاقائی استحکام کے نام پر مشرقِ وسطیٰ میں ایک وسیع عسکری اتحاد تشکیل دیا۔ اس اتحاد کا مقصد بظاہر ایران اور حزب اللہ کے ممکنہ حملوں کو روکنا بتایا گیا، مگر درحقیقت یہ اسرائیل کو دفاعی پشت پناہی دینے کا منصوبہ تھا۔ اردن نے اگرچہ سرکاری طور پر اس اتحاد میں اپنی براہِ راست فوجی شمولیت سے انکار کیا، لیکن امریکی دفاعی ذرائع کے مطابق اردن نے امریکی طیاروں کو اپنے فضائی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی۔اردنی ریڈار اور انٹیلی جنس نظام امریکی سینٹ کام (CENTCOM) کے نیٹ ورک سے منسلک رہا۔ اس کا عملی نمونہ جو بعد ازاں اسرائیل کے ایران پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے موقع پر ایرانی میزائلوں کو اردن کی فضائی حدود میں روکا گیا۔الازرق اور مفرق ائربیس سے پرواز کرنے والے امریکی ڈرون اور جنگی طیارے غزہ اور لبنان کی فضائی نگرانی میں بھی استعمال ہوئے۔ یہ سارے اقدامات اردن کی فلسطین کے ساتھ خیانت کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں۔

اگرچہ اردن اس میں شمولیت سے انکار ظاہر کرتا رہا،لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ سب اقدامات اردن کی خاموش مگر فعال شمولیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور بعض مغربی رپورٹس کے مطابق، اردنی فوجی انٹیلی جنس نے اسرائیلی فورسز کے ساتھ سیٹلائٹ ڈیٹا اور زمینی معلومات کا تبادلہ کیا، خاص طور پر جب اسرائیل کو جنوبی سرحد سے ڈرون حملوں یا اسلحہ کی اسمگلنگ کے خدشات لاحق ہوئے۔علاوہ ازیں، اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ 2024ء کے وسط میں اردن نے اسرائیل کو ہوائی راستہ فراہم کیا، تاکہ وہ ایران پر حملےکے لیے مخصوص پروازوں میں ایندھن کی بچت کرسکے۔ اگرچہ اردن حکومت نے ان دعووں کی تردید نہیں کی، مگر خاموشی نے ان خدشات کو تقویت دی کہ اردن، امریکی دباؤ کے تحت، اسرائیل کی دفاعی حکمتِ عملی میں سہولت کار بنا ہوا ہے۔

غزہ کی تباہی اور ہزاروں فلسطینیوں کی شہادت کے بعد اردن کے اندر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔ عوام میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے، کیونکہ ایک طرف غزہ میں نسل کشی ہے اور دوسری طرف اردن سرحدی ہمسایہ ملک ہونے کے باوجود غزہ کی مدد نہیں کرتا، بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی مدد کرتا ہے۔ اس کردار نے عوام میں شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔ دارالحکومت سمیت اربد اور زرقا جیسے شہروں میں لاکھوں افراد نے احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ساتھ اردن کے بادشاہ کے منافقانہ کردار کے خلاف بھی احتجاج کیا گیا۔ نعروں میں وادیِ عربہ معاہدہ منسوخ کرو اور اسرائیل کا سفارت خانہ بند کرو، جیسے مطالبات عام تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اردن کے عوام غاصب صیہونی ریاست اسرائیل سے شدید متنفر ہیں۔ لیکن شاہ عبداللہ دوم کی حکومت نے ان مظاہروں کو سختی سے دبا دیا۔* کئی معروف کارکنوں اور صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر اسرائیل مخالف بیانات کو ریاستی سلامتی کے خلاف اقدام قرار دیا گیا۔ کئی مظاہرے غیر مجاز اجتماع کے عنوان سے منتشر کر دیئے گئے۔ ان اقدامات سے ظاہر ہوا کہ اردنی حکومت اپنے اندرونی استحکام کے خوف سے امریکی و اسرائیلی مفادات کے خلاف کھل کر بولنے سے گریز کر رہی ہے۔ عوامی غصے کو کنٹرول کرنے کے لئے اردن حکومت نے اسی دوران غزہ کے لیے امداد کی مہمات کو بھرپور میڈیا کوریج دی۔ اردنی فضائیہ نے درجنوں پروازوں کے ذریعے امدادی سامان پھینکنے کے دعوے کیے، لیکن زمینی سطح پر فلسطینی تنظیموں نے ان مشنوں کو علامتی اور ناکافی قرار دیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ان امدادی کارروائیوں کا مقصد اردن کی عوامی ساکھ کی بحالی اور خطے میں اپنے اسلامی کردار کا تاثر قائم رکھنا تھا، نہ کہ غزہ کے عوام کی حقیقی مدد۔ لہذا اردن کی حکومت اس مہم میں بھی بے نقاب ہوئی اور پوری دنیا کے سامنے اردن کی حکومت کا منافقانہ رویہ اور سیاہ چہرہ بے نقاب ہوا۔

2024ء کے اواخر میں جب حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لبنان سرحد پر کشیدگی بڑھی تو اردن نے دوبارہ امریکی اتحاد کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط کیا۔ شاہ عبداللہ نے علاقائی سلامتی کے تحفظ کے نام پر امریکی و اسرائیلی رابطوں میں تیزی لائی۔ مگر اندرونِ ملک یہ بیانیہ عوام کو مزید مشتعل کر گیا، کیونکہ اردنی عوام اسے فلسطینی کاز سے غداری تصور کرتے ہیں۔ اس وقت اردن کی پالیسی ایک باریک لکیر پر چل رہی ہے۔ اسرائیل سے مکمل علیحدگی نہیں، تاکہ امریکی حمایت برقرار رہے۔ مگر عوامی دباؤ کے باعث اسرائیل کی کھلی حمایت سے اجتناب۔ یہی توازن اردن کو اس وقت ایک غیر یقینی اور کمزور خارجہ پوزیشن پر لے آیا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ غزہ جنگ کے دوران اردن نے بظاہر انسانی ہمدردی کا لبادہ اوڑھے رکھا، لیکن حقیقت میں وہ امریکی اور اسرائیلی اتحاد کا خاموش حصہ رہا۔ امریکی اڈوں، انٹیلی جنس تعاون اور سیاسی خاموشی نے یہ واضح کر دیا کہ اردن حکومت اپنے عوامی جذبات کے برعکس خارجہ پالیسی چلا رہی ہے۔ یہی تضاد آج اردن کی ساکھ کو مشرقِ وسطیٰ میں شدید دباؤ میں لے آیا ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

3 + 3 =