تحریر: سید اعجاز اصغر
ایران کے اسلامی انقلاب 1979 کی کامیابی کے بعد سے دنیائے اسلام میں حضرت مہدی کے ظہور کے عقیدے کے متعلق خاص توجہ پیدا ہوئی۔ امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کے بارے باتیں ہورہی ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم اقوام نے قرآن و احادیث کا مطالعہ شروع کردیا اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ انقلاب ایران درحقیقت امام مہدی علیہ السلام کی تمہیدی حکومت ہے۔
اس تمہیدی حکومت کو ختم کرنے کے لئے پوری دنیا کے عیسائی اور یہودی قرآن و احادیث کا مطالعہ کرنے کے بعد پوری طاقت کے ساتھ میدان جنگ میں کود پڑے ہیں۔ 1979 سے لیکر اب تک امام مہدی علیہ السلام کی تمہیدی حکومت کا خاتمہ کرنا یہودیوں اور عیسائیوں کا مشن بن چکا ہے۔
اس حوالے سے عقیدہ امام مہدی علیہ کو دکھانے کے لئے عیسائیوں نے باقاعدہ فلمیں بنائی ہیں تاکہ عیسائی اور یہودی بیدار ہو جائیں۔
ایک فلم فرانسیسی طبیب اور نجومی جس کا نام میشل نیسٹرا ڈیمس ہے ( MESHEL NASTRADAMUS ) جو پانچ صدی قبل گزرا ہے۔ یہ فلم اس کے مستقبل کے بارے میں پیشین گوئیوں ہر مشتمل ہے۔ ان پشین گوئیوں میں سب سے اہم یہ ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا نواسہ مکہ مکرمہ سے خروج کرے گا۔ وہ مسلمانوں کو اپنے پرچم تلے متحد کرے گا یورپیوں پر فتح و کامیابی حاصل کرے گا اور جدید زمین( امریکہ ) پر ایک بڑے شہر یا تمام بڑے شہروں کو تباہ کرے گا
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس فلم کے بنانے کے پیچھے یہودی لابی اور امریکی جاسوسی ادارے کا ہاتھ تھا۔اس فلم کے بنانے کا مقصد یہ تھا کہ امریکی اور یورپی اقوام کو ایران اور مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے آمادہ کریں۔ کیونکہ ان کی طرف سے مغربی تہذیب بلکہ ان کے وجود کو خطرہ لاحق ہے۔
امریکی اور یہودی امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کے متعلق اپنی لائبریریوں اور جاسوسی اداروں کی سطح پر معلومات مکمل کر چکے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ امام مہدی علیہ السلام کا مسکن و قیام ایران میں ہی ہے۔ ان کی کوشش ہے جس طرح فرعون نے حضرت موسٰی علیہ السلام کو دنیا میں ظاہر ہونے سے روکنے کے لئے پورا انتظام کیا تھا بالکل اسی طرح آج کے فرعون مزاج ٹرمپ اور نیتن یاہو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کو روکنے کے لئے پاگل ہو چکے ہیں۔ ان فرعونوں کو حضرت موسٰی علیہ السلام کے دور کے فرعون کی ذلت کا اندازہ نہیں ہورہا کیوں کہ وقت کے فرعونوں کی موت اور شکست یقینی نظر آرہی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام جب ظاہری خلافت لینے کے بعد کوفہ میں متمکن ہوئے تو حضرت مالک اشتر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو پوچھا کہ اے مالک جب سے میں خلافت کے عہدہ پر فائز ہوا ہوں اس وقت سے اہل کوفہ جوق در جوق شام کی طرف ہجرت کیوں کررہے ہیں کیا وجہ ہے ؟
مالک اشتر نے کہا یا علی علیہ السلام اس کی وجہ آپ خود ہیں۔
فرمایا میں کیسے خود سبب بن گیا ہوں کہ میری وجہ سے اہل کوفہ شام کی طرف ہجرت کرتے جا رہے ہیں۔ ؟
مالک اشتر نے کہا یا علی علیہ السلام
اہل کوفہ آپ کے سخت عدل سے خوفزدہ ہو کر شام کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
تو معلوم ہوا کہ دور حاضر کا علی جس کا نام محمد مہدی علیہ السلام بلکہ دور حاضر کا محمد جس کا نام محمد مہدی علیہ السلام ہے اس سے خوفزدہ ہونے والے آج کوفی یہودیوں اور عیسائیوں کی شکل میں کبھی ادھر کبھی ادھر پاگلوں کی طرح ہجرت کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں کیونکہ ان کو تاریخ اسلام، قرآن و احادیث بتا رہی ہیں کہ دور حاضر کا محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور دور حاضر کا علی علیہ السلام جس کی خبریں گیارہ اماموں اور اہلیت معصومین علیہم السّلام نے دی ہیں وہ عیسائیت اور یہودیت کا قلع قمع کردے گا جائیدادیں اور محلات نیست و نابود ہو جائیں گے۔ عیش وعشرت کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں اس لئے وہ مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کر رہے ہیں اور امام مہدی علیہ السلام کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ کیسے نادان ہیں عیسائی جنہوں نے یہودیوں کو اپنا دفاع کرنے کے لئے فرنٹ لائن پر کھڑا کیا ہوا ہے اور یہودیوں کی بیشمار دولت کو ظہور امام مہدی علیہ السلام کو روکنے اور ناکام کرنے کے لئے اپنی اپنی ناکام کوششیں کررہے ہیں۔ اور جو مسلم ممالک ان فرعونوں کا ساتھ دے رہے ہیں وہ بھی کسی غلط فہمی کا شکار ہیں۔ ایران کا انقلاب امام مہدی علیہ السلام کی تمہیدی حکومت کا عملی ثبوت ہے۔ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے سے وقت کے فرعونوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہودی اور عیسائی تو عقل کے اندھے اپنے آپ کو کفر کی غلاظت کی دلدل میں دھکیلتے جارہے ہیں مگر افسوس مسلم عرب سربراہان ہر کہ وہ الہٰی نظام کو درک نہیں کررہے۔ امام مہدی علیہ السلام کا ظہور الہی نظام کا ایک سلسلہ ہے۔ اللہ تعالٰی کو منظور ہے کہ عالم کفر کی تباہی و بربادی امام مہدی علیہ السلام کے ذریعے ہی ہوگی۔ عالم کفر کو اپنی تباہی و بربادی کا پختہ یقین ہوچکا ہے اسی لئے وہ خوفزدہ ہو چکے ہیں مگر مسلمانوں کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور پر پختہ یقین نہیں ہورہا اگر مسلمانوں کو امام مہدی علیہ السلام کے ظہور کا پختہ یقین ہوجائے تو جس طرح عالم کفر اپنے آپ کو بچانے کے لئے غزہ و فلسطین میں خون ریزی کررہا ہے میرے خیال میں مسلمانوں کی بیداری پر غزہ و فلسطین میں بے دردی سے قتل و غارت کا سلسلہ بند ہو جائے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ ایران کی تمہیدی حکومت کے متعلق معرفت حاصل کریں اور عالم کفر کے خوفزدہ ہونے کے بارے میں بھی خوب سوچ بچار کریں۔ اگر سوچ بچار اور معرفت حاصل نہ کی تو امام مہدی علیہ السلام کو کیا منہ دکھاو گے ؟ ۔ یہ جاننا ہوگا کہ امام مہدی علیہ درحقیقت حضرت محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہواں جانشین ہیں حضرت علی علیہ السلام کے گیارہویں بیٹے اور جانشین ہیں۔ نسل رسول صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اور نسل علی علیھم السلام ہیں۔ سمجھ جانا چاہئے کہ عالم کفر خوفزدہ کیوں ہیں ؟
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






