جون 26, 2026

​تحریر: بشارت حسین زاہدی

​انسان کا اصل حسن اس کا قد و قامت یا جبہ و دستار نہیں، بلکہ اس کا وہ بلند اخلاق ہے جو اسے اشرف المخلوقات کے منصب پر فائز کرتا ہے۔ آج کا انسان مریخ پر کمند ڈال رہا ہے، سمندروں کا سینہ چاک کر رہا ہے اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے کائنات کو مسخر کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے۔ لیکن اس مادی معراج کے بیچوں بیچ ایک خاموش المیہ سر اٹھا رہا ہے: "انسانی اخلاق کا زوال”۔ جب انسان کی ترجیح ‘کردار’ کے بجائے ‘کاروبار’ بن جائے، تو وہ اخلاقی سقوط کی ڈھلوان پر پھسلنا شروع کر دیتا ہے۔

​تاریخ گواہ ہے کہ قومیں معاشی بدحالی سے پہلے اخلاقی دیوالیہ پن کا شکار ہوتی ہیں۔ اس مادی دور میں اخلاقی پستی سے بچنے کے لیے درج ذیل پہلوؤں پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے:

​۱. تقویٰ: ضمیر کا پہرے دار

اخلاقی زوال اس وقت شروع ہوتا ہے جب انسان دوسرے کے عیب دیکھنے میں اتنا مگن ہو جائے کہ اسے اپنے اندر کی تاریکی نظر نہ آئے۔ مذہبی نقطہ نظر سے اس کا بہترین علاج "تقویٰ” ہے۔ تقویٰ محض تسبیح پھیرنے کا نام نہیں، بلکہ اس احساس کا نام ہے کہ کوئی ہستی میرے ظاہر و باطن سے باخبر ہے۔ جب انسان کو یہ یقین ہو کہ:

​وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ

"اور یقیناً ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسہ ڈالتا ہے۔” (سورہ ق: ۱۶)

​تو وہ تنہائی میں بھی گناہ یا اخلاقی پستی سے کتراتا ہے۔ یہ خوفِ خدا انسان کو "خود غرضی” سے نکال کر "خیر خواہی” کی منزل پر کھڑا کر دیتا ہے۔

​۲. صحبتِ صالح اور سماجی رابطوں کی اخلاقیات

انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ موجودہ دور میں ہمارا سب سے بڑا ہم نشین "سماجی ذرائع ابلاغ” ہے۔ یہاں گمنامی کا فائدہ اٹھا کر دوسروں کی تذلیل اور حسد کی آگ بھڑکانا عام ہو چکا ہے۔ اخلاقی طور پر محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم برقی دنیا میں بھی وہی اصول اپنائیں جو حقیقی زندگی میں ہیں؛ یعنی سچائی، پردہ پوشی اور شائستگی۔ لایعنی ابحاث اور دوسروں کی زندگیوں میں مداخلت اخلاقی زوال کا باعث بنتی ہے۔

​۳. عجز و انکسار اور رزقِ حلال

تکبر وہ پہلی سیڑھی ہے جو انسان کو اخلاقی پستی کے گڑھے میں گرادیتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی بلندی کا براہِ راست تعلق ہمارے لقمے سے ہے۔ حرام یا مشکوک رزق انسان کے دل کو سخت کر دیتا ہے اور نیکی کی رغبت ختم کر دیتا ہے۔ جب دل میں قناعت پیدا ہو جائے تو انسان دوسروں کے حقوق غصب کرنے سے باز رہتا ہے۔

​۴. خدمتِ خلق: انا کا علاج

انسان جتنا خود مرکز ہوتا جائے گا، اتنا ہی اخلاقی طور پر گرتا جائے گا۔ اس کا بہترین حل خدمتِ خلق ہے۔ جب آپ کسی مجبور کا ہاتھ تھامتے ہیں یا کسی پریشان حال کی داد رسی کرتے ہیں،تو آپ کے اندر سے ‘تکبر’ کا خاتمہ ہوتا ہے اور ‘محبت’ پروان چڑھتی ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے انسانیت دوبارہ جنم لیتی ہے۔

​حاصلِ کلام:

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ "قیمتی لباس سے جسم تو چھپ سکتا ہے، لیکن گھٹیا اخلاق سے روح ننگی ہو جاتی ہے”۔ آئیں عہد کریں کہ ہم اس رمضان المبارک میں نہ صرف اپنے پیٹ کا روزہ رکھیں گے، بلکہ اپنی زبان، اپنی آنکھ اور اپنے خیالات کو بھی اخلاقی پستی کے زہر سے پاک رکھ کر حقیقی "آدمیت” کے درجے پر فائز ہوں گے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

17 + nineteen =