جون 19, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر 

دور حاضر میں موبائل فون کی وجہ سے اکثر شریف والدین کی اولادیں گھر بیھٹے ہوئے بھی خود ساختہ اغوا ہو رہی ہیں۔ موبائل کا بے تحاشا ، بے جا اور ناجائز استعمال گھروں کو برباد کر رہا ہے۔ اس ناجائز استعمال پر کنٹرول کرنا والدین کے بس کی بات نہیں ہے۔ اس سے بھی زیادہ ستم ظریفی یہ ہے کہ خود والدین بھی اس دھندے میں شریک ہو گئے ہیں۔ لیکن ایسے والدین کی تعداد کم ہے۔ باشعور اور نیک والدین اپنی اولاد کے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ والدین کے کردار کا اثر اولاد پر ضرور ہوتا ہے۔ اسی لئے امام حسین علیہ السّلام نے فرمایا تھا کہ باپ کے اعمال بیٹی کے مقدر بناتے ہیں۔ باپ کی بداعمالی کی سزا بیٹی بھی بھگتے گی۔ باپ کے نیک اعمال بیٹی کے مقدر نیک ہونے کا باعث ہونگے۔

میں نے معاشرے میں بڑھتے  ہوئے جرائم کا ازخود مشاہدہ کیا ہے ارد گرد کے ماحول میں موبائل فون کے ناجائز استعمال پر بہت زیادہ تباہی اور بربادی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اچانک خبر آجاتی ہے کہ فلاں لڑکی فلاں لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہے۔ اور اس نے کورٹ میرج کے ذریعے اپنے آپ کو قانونی طور پر محفوظ کر لیا ہے اور والدین کی عزت خاک میں ملا دی جاتی ہے۔

آج کے کالم میں ایک دانا ماں نے اپنی بیٹی کو جو نصیحت کی ہے اس کا بغور جائزہ لیں اور صدقہ جاریہ سمجھتے ہوئے اپنے تمام عزیز و اقارب کو ارسال کرتے جائیں ہو سکتا ہے کہ آپ کے اس عمل کی وجہ سے خاندانوں کی عزت پامال ہونے سے بچ جائیں۔

ملاحظہ فرمائیں  !

ماں نے اپنی بیٹی کوجو سبق دیا ہے وہ ہمارے معاشرے کے لئے سبق آموز اور باعث عبرت ہے۔

‏لڑکی نے ایک دن اپنی ماں سے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ہم بستر ہونے کی اجازت مانگی۔

عقلمند ماں نے کچھ سوچ کر بیٹی سے اجازت دینے کیلئے ایک شرط پر ایک ہفتہ کی مہلت مانگ لی۔۔

شرط یہ کہ ۔۔

وہ بادشاہ کے محل کے سامنے رُکے، اور جب بادشاہ اپنے قافلہ سمیت محل سے نکلے تو ایک بے ہوش انسان کی طرح خود کو اسکے سامنے گرا دے۔ اور جو واقعہ گزرے وہ ماں کو سنائے۔

لڑکی نے ایسا ہی کیا تو بادشاہ خود گھوڑے سے اترا اور خود ہی اسکی حالت درست کی اور پھر اسے اچھی حالت میں گھر پہنچانے کا حکم دیا۔

ماں نے دوسرے دن بھی ایسا کرنے کا کہا! چنانچہ لڑکی نے ایسا ہی کیا اس دفعہ بادشاہ نے اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی اور اسے اپنے حال پر چھوڑ کر آگے بڑھا۔ وزیر نے بھاگ کر لڑکی کو سنبھالا  اسکی حالت درست کی اور آگے بڑھ گیا۔

تیسرے دن لڑکی نے خود کو وزیر کے سامنے گرایا، لیکن اس دفعہ وزیر نے بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ دستے کے کمانڈر نے آگے بڑھ کر جاکر اسے سنھبالا ۔

چوتھے دن ایسا کرنے پر کسی ایک سپاہی نے سنبھالا کیوں کہ کمانڈر نے آج اسکی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔

پانچویں دن عام راہگیر نے اسے اٹھایا۔

چھٹے دن لوگوں نے پاؤں مار مار کر اسے راستے سے ہٹایا۔ راہ چلتے بھکاری نے اسے سنبھالا ۔

ساتویں دن انسانوں کے بجائے ایک کتا اسکے چہرے کو چاٹنے لگا۔

ماں نے بیٹی کو سمجھاتے ہوئے کہا، کہ بالکل اسی طرح معاشرے میں جب کوئی گرتا ہے، تو سب سے پہلے کوئی امیر شخص یا کوئی بگڑا امیر زادہ اس کی عزت نوچتا ہے۔پھر وہ اسکو اپنے سے کمزوروں کیلئے چھوڑ دیتا ہے۔اسی طرح ہوتے ہوتے ایک دن وہ گلی کے کتوں (لفنگوں) کیلئے ایک سستا مال بن جاتا ہے۔

قارئین محترم  !

میں حکومت وقت سے پردرد اپیل کرتا ہوں کہ کورٹ میرج پر پابندی عائد کی جائے اور کنواری لڑکی جب شرعی طور اپنے ولی( وارث ) کے بغیر نکاح نہیں کرسکتی تو عدالت میں بغیر ولی کے نکاح کیوں ہورہے ہیں ؟

اگر عدالت میں ولی کی اجازت کو مشروط کردیا جائے تو کافی حد تک شریف خاندانوں کی عزتیں محفوظ ہوجاتی ہیں ورنہ نادان بیٹیوں کو گلی کوچوں کے کتے نوچتے رہیں گے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

one + 3 =