تحریر: سید اعجاز اصغر
13 رجب المرجب مولود کعبہ حضرت علی علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے سلسلہ میں پورے عالم اسلام میں مولائے کائنات کے فضائل و مناقب بیان کئے جاتے ہیں۔ عرش اور فرش پر ذکر علی علیہ السلام کی گونج جاری و ساری ہے۔ اس مقدس ذکر میں بندہ ناچیز اپنی حاضری بذریعہ کالم ہذا لگوانا بہت بڑی سعادت سمجھتا ہوں۔
جب سوچتا ہوں کہ میدان کربلا میں اولاد علی علیہم السّلام کو بے دردی سے قتل کرنے والے اپنے اندر پرانے کینے اور بغض رکھے ہوئے تھے آخر ان کے کینے اور حسد کی وجہ کیا تھی ؟
پیغمبرِاسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے انتقال کے بعد امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام ایسے ہی اہم مسئلہ سے دو چار ہوئے جبکہ رہبری اور حاکمیت سے ان کا مقصد اس پودے کی دیکھ بھال تھی جو پیغمبرِاسلام کے ہاتھوں حجاز کی سرزمین پر لگایا تھا اور ضروری تھا کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک تناور اور مضبوط درخت میں تبدیل ہو جائے اور اس کی تمام شاخیں پوری دنیا پر چھا جائیں اور لوگ اس کے سائے میں آرام کریں۔
پیغمبرِاسلام کے انتقال کے بعد امام علی علیہ السلام اس بات سے بخوبی آگاہ ہوگئے کہ ہم ایسے حالات میں زندگی بسر کر رہے ہیں کہ اگر حکومت پر قبضہ کرنے اور اپنے حق و مقام کے لئے اصرار کریں تو ایسے حالات رونما ہونگے کہ پیغمبرِاسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام زحمتیں اور جو اس مقصد میں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا خون بہا ہے بیکار ہو جائے گا۔
اسلامی معاشرہ رسول خدا کی زندگی کے دوران اور بعد از رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بہت زیادہ مشکلات و اختلافات اور تفرقہ کا شکار تھا کہ ایک چھوٹی سی خانہ جنگی یا معمولی سی خون ریزی مدینہ کے اندر یا باہر ایک زبردست جنگ کا سبب بن جاتی۔ بہت سے قبیلے والے جو مدینہ یا مدینے سے باہر زندگی بسر کر رہے تھے ان کو حضرت علی علیہ السلام سے کوئی محبت و انسیت نہیں تھی بلکہ ان سے بغض اور حسد و کینہ کو اپنے دل میں رکھے ہوئے تھے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام ہی تھے جنہوں نے ان مشرک قبیلوں کے کفر کے پرچم کو سرنگوں کیا تھا۔ یہ حضرت علی علیہ السلام ہی تھے جنہوں نے پیغمبرِاسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی تابعداری میں بت پرستوں کو بدر، احد، حنین وغیرہ کے غزوات میں قتل کیا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام کی دشمنی توحید کے منکرین کے ساتھ تھی یہی وجہ ہے کہ مولائے کائنات نے توحید و رسالت کے پرچار کے لیئے بت پرست پہلوانوں کو ذلت کے ساتھ زمین پر گرایا تھا۔
اگرچہ ان بت پرست مشرکین نے بعد میں اسلام سے اپنے رشتے کو مضبوط کر لیا تھا۔ اور ظاہری طور پر خدا پرستی اور اسلام کی پیروی کر رہے تھے لیکن اسلام کے جانبازوں سے اپنے دل میں بغض و عداوت کو چھپائے ہوئے تھے۔
ایسے حالات میں اگر مولائے کائنات حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام اپنی قدرت کاملہ سے اپنا حق لینے کے لئے مسلحانہ قیام کرتے یعنی جنگ و جدل کرتے تو اس کے نتیجے میں عزیزواقارب اور مخلص ساتھی شہید ہو جاتے۔ ان افراد کے شہید ہو جانے کے بعد بھی حق، صاحب حق کے پاس واپس نہ آ پاتا۔ حضرت علی علیہ السلام ہی اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے نہ بچھڑتے بلکہ بنی ہاشم اور حضرت علی علیہ السلام کے سچے پیروکار اور دوستوں کے قیام کی وجہ سے پیغمبرِاسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے بہت زیادہ صحابی جو امام علی علیہ السلام کی خلافت پر راضی نہ تھے ان کا( یعنی حضرت علی علیہ السلام سے راضی نہ تھے) ساتھ نہ دیتے اور قتل ہوجاتے اور نتیجہ کے طور پر مسلمانوں کی قدرت مرکز میں کمزور ہو جاتی۔ یہ گروہ اگرچہ رہبری کے مسئلے میں امام علی علیہ السلام کے مقابلے میں کھڑا تھا لیکن دوسرے امور میں امام علی علیہ السلام کے مخالف نہیں تھا اور شرک و بت پرستی اور یہودیوں کے مقابلے میں قدرت مند شمار کیا جاتا تھا۔ مسلمانوں کی کمزوری کی وجہ سے دور دراز میں رہنے والے قبیلے جن کی سرزمین پر اسلام کا پودا ابھی قاعدے سے ہرا بھرا نہ ہوا تھا وہ اسلام کے مخالفوں اور دشمنوں سے مل جاتے اور ایک طاقت بن کر ابھرتے اور ممکن تھا کہ مخالفوں کی قدرت و طاقت اور مرکز میں صحیح رہبری نہ ہونے کی وجہ سے توحید کے چراغ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیتے۔
لہذا دین اسلام کی مضبوط آبیاری اور مستحکم بنیادوں کو قائم کرنے میں حضرت علی علیہ السلام کی دور اندیشی، حکمت عملی اور غیر مسلحانہ روش کا نتیجہ ہے۔ نومولود اسلام کو بعد از رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بچانے میں حضرت علی علیہ السلام کا عظیم کارنامہ ہے۔ بعد از رحلت پیغمبرِاسلام ، حضرت علی علیہ السلام نے صبر و تحمل کا دامن ہاتھ لیا اور نرم گوشی دکھلائی جس کے نتیجہ میں یہی منافقین جو دراصل بت پرست ہی تھے جنہوں نے کلمہ توحید دل و جان سے نہیں پڑھا تھا اور اپنے دلوں میں حضرت علی علیہ السلام کا بغض اور حسد رکھے ہوئے تھے پچیس سال بعد بھی جب حضرت علی علیہ السلام نے ظاہری خلافت سنبھالی بت پرست لوگ بت شکن کے مقابلے میں کھڑے تھے۔ انہی بت پرستوں کی اولاد نے بت شکن کی پاک و پاکیزہ اولاد کو بعد از رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم بیدردی سے نشانہ بنایا اور ظلم و ستم کی انتہا کردی۔ میرا لاکھوں درود و سلام ہے ایسے بت شکن، شیر خدا، ولی اللہ، ناصر انبیاء، استاد جبرائیل، مشکل کشا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السّلام پر جن کے عظیم مقصد کو قلمبند کرنے میں اپنی بہت بڑی سعادت سمجھتا ہوں کہ مولائے کائنات کے عظیم اور اعلی مقصد کی بدولت بعد از رسول خدا صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم دین اسلام قائم اور مضبوط ہوا۔ اور آپ کے عظیم مقصد کی تکمیل کے لئے آپ علیہ السّلام کی پاک اولاد نے مدینہ سے لیکر کربلا اور کربلا سے شام اور شام کے محاذ کی فاتح جس کو فاتح شام کہا جاتا ہے بنت علی علیہ السلام کے عظیم کارناموں سے لیکر تا ظہور امام مہدی علیہ السلام عظیم مقصد کی اہمیت اجاگر ہوتی رہے گی اور اس عظیم مقصد کا محور توحید و رسالت کا پیغام ہے۔ اسی توحید کی تبلیغ کے لئے خاندان رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی جان مال اور اولاد کو قربان کردیا ہے۔ اور دعا ہے کہ اللہ تعالٰی رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے پاک خاندان کی طفیل اسی طرح توحید کی پرستش عطا فرما جس طرح خاندان رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے توحید جیسے عظیم مقصد کی پرستش کی اور عظیم مقصد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ ! اور ہم سب مسلمانوں کو اللہ تعالٰی حضرت علی علیہ السلام اور ان کی اولاد پاک کی سیرت و کردار کو سمجھنے اور عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے !
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






