جون 19, 2026

تحریر: احسان احمدی

اسکائی نیوز عربی کے ساتھ ایک انٹرویو میں امریکی حکام نے لبنانی حکومت کی جانب سے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے میں تعاون کرنے میں ناکامی پر اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوئے بیروت کو باقاعدہ دھمکی دی ہے۔ اسکائی نیوز کے مطابق، ان عہدیداروں نے کہا کہ "لبنان نے حزب اللہ کے تخفیف اسلحہ حل تک پہنچنے کا موقع گنوا دیا ہے اور ہمیں بدترین خوف ہے کہ یہ موقع شاید دوبارہ میسر نہ ہو۔” نامعلوم امریکی عہدیداروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ واشنگٹن اور علاقائی ممالک کی جانب سے لبنان کو اقتصادی اور سیاسی مراعات فراہم کرنے کی بار بار کوششیں "آہنی دیوار سے ٹکرا گئی ہیں۔” اسکائی نیوز نے ان ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ "لبنان کی سیاسی قیادت کی کارکردگی نے ملک کو مفلوج اور انحصار کی حالت میں رکھا ہوا ہے، کیونکہ بیروت کی اہم جماعتوں نے جمود کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ ان کی ترجیح کا مطلب یہ ہے کہ لبنان ایک ناکام ریاست ہی رہے گی۔

اپنے بیانات کے ایک اور حصے میں، حزب اللہ کے خلاف بے بنیاد الزامات کا حوالہ دیتے ہوئے، امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ لبنان واحد ملک بن گیا ہے، جو اپنی قیادت کے بنیادی حصے کے طور پر "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” کی حمایت کرتا ہے۔ حالیہ مہینوں میں، نومبر 2024ء کی جنگ بندی کے بعد جس سے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ ختم ہوئی، امریکہ نے لبنانی حکومت پر حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرنے کے لیے اپنا سفارتی، مالی اور فوجی دباؤ بڑھا دیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے یہ دھمکی ان رپورٹس کے درمیان سامنے آئی ہے کہ حالیہ دنوں میں حزب اللہ دوبارہ طاقت پکڑ رہی ہے۔ یروشلم پوسٹ اخبار نے چند روز قبل مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا تھا کہ لبنان میں حزب اللہ کی تعمیر نو کی رفتار اس گروپ کو غیر مسلح کرنے کی لبنانی حکومت کی کوششوں سے کہیں زیادہ ہے۔

ان اہلکاروں نے، جنہوں نے اپنے نام یا اصل عہدے نہیں بتائے، اسرائیلی اخبار کو بتایا کہ حزب اللہ خود کو راکٹوں سمیت مختلف ہتھیاروں سے لیس کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے، ساتھ ہی نئی فورسز کو بھرتی کرنے اور اپنے اڈوں اور پوزیشنوں کو دوبارہ فعال کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔ تعمیر نو کا زیادہ تر یہ کام دریائے لیطانی کے شمال میں واقع علاقوں میں ہو رہا ہے، نہ کہ دریا کے جنوب میں مقبوضہ فلسطین کی سرحدوں تک۔ واشنگٹن نے لبنانی حکام کو ایک انتباہی پیغام دیا ہے، جس میں امریکی ایلچی "ٹام باراک” نے لبنان کو دھمکاتے ہوئے کہا: "حزب‌ الله” کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے بیروت کو جلد حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ امریکی ایلچی نے کہا: یہ میرا بیروت کا آخری دورہ ہے۔ اس دوران میں لبنان کے سربراہان سے کہوں گا کہ اب اُن کے پاس صرف ایک موقع باقی ہے، یا وہ امریکی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات میں شامل ہوں، تاکہ حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنے کے لئے وقت اور طریقہ کار طے کیا جا سکے، یا لبنان کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے اور پھر امریکہ یا خطے میں کوئی بھی اس کی مدد نہ کرے۔

ایسی صورت میں اسرائیل، حزب‌ الله کو طاقت کے ذریعے غیر مسلح کرنے کے لئے ہر ضروری اقدام کرنے میں آزاد ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق ٹام باراک آئندہ دنوں میں بیروت پہنچیں گے، جہاں وہ لبنانی صدر، وزیراعظم، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور آرمی چیف سے ملاقات کریں گے۔ ٹام باراک کے اس دورے کا مقصد، امریکی ثالثی کے باوجود مذاکرت سے لبنان کے انکار کی صورت میں، وہاں سیاسی عمل کو برقرار رکھنے کی آخری کوشش ہے۔ اس کے مقابل لبنانی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ، لبنان سے اسرائیل اور شام كے درمیان ہونے والے مذاکرات کی طرز پر بات چیت کا خواہاں ہے۔ وہ حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد میں لبنانی عہدیداروں کے كسی عذر كو قبول نہیں كر رہا۔ واشنگٹن کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل نے ایسی معلومات فراہم کی ہیں، جن كی رو سے حزب‌ الله اپنی كھوئی ہوئی طاقت كو بحال کر رہی ہے اور لبنان سے باہر کارروائیاں کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح بے بنیاد الزامات کو دُہراتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ مہینوں میں حزب‌ الله نے شام سے سینکڑوں شارٹ رینج میزائل لبنان پہنچائے ہیں۔ دریں اثناء، مغرب کی جانب سے حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنے کے مطالبوں کے جواب میں، لبنان کے صدر "میشل عون” نے کہا: حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنا ناممکن ہے اور فوج اس مشن کو انجام دینے کے قابل نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت کے ذریعہ حزب‌ الله کو غیر مسلح کرنے کی کوئی بھی کوشش، خانہ جنگی کے آغاز کا باعث بنے گی۔ میشل عون نے غیر ملکی ثالثوں سے یہ بھی کہا کہ حزب‌ الله کی اپنے ہتھیاروں سے وابستگی کوئی سیاسی دکھاوا نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، جس کے نتیجے میں کوئی بھی لبنانی عہدیدار ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا، جو ملک کو خانہ جنگی میں دھکیل دے۔

چند ہفتے قبل لبنانی حکومت نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا۔ لبنانی فوج کے اس گروپ کے خلاف سنجیدہ کارروائی کے عزم کے بدلے میں، اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی سرگرمیاں کم کرنے پر اتفاق کیا، جس میں پانچ اڈوں سے انخلاء بھی شامل ہے۔ اسرائیلی اور غیر ملکی ذرائع نے یروشلم پوسٹ کو بتایا کہ لبنانی فوج نے حزب اللہ کے خلاف کارروائی کے لیے اپنے عزم اور تیاری کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا مرحلہ ابھی بہت دور ہے اور یہ وہی موقف ہے، جو لبنانی صدر نے اپنایا ہے اور اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ناممکن ہے۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

7 − two =