ترتیب و تنظیم: علی واحدی
ابراہم لنکن نامی بحری بیڑے کی قیادت میں امریکی ٹاسک فورس کو سینٹ کام کمانڈ ایریا میں بھیجنے کے بعد میڈیا میں بہت شور مچایا گیا کہ امریکہ ایران پر ضرور حملہ کرے گا۔ اس کے بعد امریکیوں نے اعلان کیا کہ وہ اس علاقے میں دو دیگر ٹاسک فورس بھیجیں گے، جن میں سے ایک جارج ڈبلیو بش اور دوسری کی قیادت امریکی طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ فورڈ کرے گا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کسی علاقے میں طیارہ بردار بحری جہاز کی روانگی واقعی اس علاقے میں ایک حتمی فوجی کارروائی کی علامت ہوتی ہے۔؟ امریکی بحری بیڑے ہمیشہ جنگی تیاریوں کو برقرار رکھنے یا دنیا کے مختلف حصوں میں امریکی فوجی یونٹوں کی مدد کے لیے سال بھر مختلف اقدامات انجام دیتے ہیں۔ یہ بحری بیڑے مشرقی ریاستہائے متحدہ میں ورجینیا کے نورفولک کی بندرگاہ سے روانہ ہوتے ہیں اور مغربی ریاستہائے متحدہ میں سان ڈیاگو کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہوتے ہیں۔
ہر کیریئر گروپ ایک طیارہ بردار بحری جہاز، تقریباً تین جنگی جہاز اور کئی امدادی جہازوں پر مشتمل ہوتا ہے اور مشن کے لحاظ سے، اس گروپ کے ساتھ ایک جوہری آبدوز بھیجی جا سکتی ہے۔ اس لیے دنیا کے مختلف حصوں میں طیارہ بردار جہاز بھیجنا کسی حتمی فوجی کارروائی کی نشاندہی نہیں کرتا اور یہ امریکی فوج میں ایک عام اور معمول کا معاملہ ہے۔ امریکہ کی اپنی اسٹریٹجک دستاویزات کے مطابق، امریکیوں کے پاس ہمیشہ مشن پر تعیناتی کے لیے چھ طیارہ بردار بحری جہاز تیار ہونے چاہئیں۔ اگلا نکتہ یہ ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز اپنی اچھی جنگی صلاحیتوں کے باوجود دنیا میں امریکی طاقت کا علامتی پہلو بھی دکھاتے ہیں، یعنی امریکی بحری بیڑے بھیج کر اپنی طاقت دکھانے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کے بارے میں رپورٹ یہ ہے کہ اس کیریئر گروپ نے حال ہی میں بحیرہ کیریبین میں وینزویلا کے خلاف کارروائیوں کے لیے 8 ماہ کا مسلسل مشن مکمل کیا ہے اور اس کیریئر گروپ کو ایک اور مشن پر بھیجنا جو کم از کم چار ماہ تک جاری رہے گا، یقینی طور پر جہاز کے عملے کو تھکا دے گا اور ایسا لگتا ہے کہ اس ڈیٹا کی بنیاد پر اس کیرئیر کی صلاحیت کا موازنہ کیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ سفارت کاری اور جنگ دونوں کے لیے تیار ہیں، آئندہ 2 سے 3 روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیں گے۔ غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ ایرانی قیادت کی منظوری ملنے پر یہ دستاویز امریکی صدر کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے حوالے کر دی جائے گی۔
عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں جوہری افزودگی روکنے کی پیش کش نہیں کی، نہ ہی امریکا نے ایسا کوئی مطالبہ کیا۔ ایرانی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ مذاکرات میں جوہری پروگرام کے پُرامن رہنے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، جوہری پروگرام کا کوئی فوجی حل نہیں۔ بہرحال وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بحری بیڑوں کی مشرق وسطیٰ آمد سے ایران کی استقامت پر کوئی فرق نہیں پڑا ہے اور ہم آج بھی ایرانی قوم کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا واقعی امریکی ان طیارہ بردار بحری جہازوں کو خطے میں بھیج کر ایران یا کسی اور ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔؟ یہ وہ چیز ہے، جس کا مستقبل خطے کی صورتحال طے کرے گی۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اب یہ جنگ پہلے سے زیادہ ارادوں کی جنگ میں تبدیل ہو رہی ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔







