جون 26, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر

رمضان المبارک کے مہینے میں ہر ذی شعور مسلمان قرب الٰہی حاصل کرنے کے لئے ذہنی ہم آہنگی کے ساتھ راغب ہوتا ہے ۔

قرآن مجید کی تلاوت تو کی جاتی ہے مگر قرآن فہمی کا رجحان قدرے کم ہی ریتا ہے ۔

جو قرآن کریم کے حافظ ہوتے ہیں مگر قرآن کے بارے تدبر نہیں کرتے وہ قرآن سے دور ہی متصور ہوتے ہیں ۔ اور جو قرآن کے معانی و مفاہیم اور تفسیر سے آگاہ ہوتے ہیں وہ اور اس پر عمل نہیں کرتے ہیں وہ بھی قرآن سے دور ہی سمجھے جاتے ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ دو افراد نے میری کمر توڑدی ایک جاہل عابد نے اور دوسرا بے عمل عالم نے ۔ لہذا رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں اکثریت کا رجحان عبادت گاہوں کی طرف گامزن ہوتا ہے ۔ اور اس رجحان کو اگر علم معرفت کے تناظر میں محو و مصروف کیا جائے تو قرآن مجید کا اصل مقصد حاصل ہو جاتا یے ۔ اللہ تعالیٰ سے کلام کرنے کا بہترین ذریعہ قرآن کی تلاوت تدبر کے ساتھ کرنا ہی اصل مقصد ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت قرآن فہمی سے محروم ہے اور یہ سب سے بڑا المیہ ہے ۔اس المیہ کے ازالے کے لئے اگر ہم خود مدبر نہیں ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ قرآن کے عالم کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اسی تناظر میں بندہ ناچیز نے مسجد حسینیہ کولوکے تحصیل سمبڑیال ضلع سیالکوٹ میں تیسرا سال ہے قم المقدسہ کے علماء کرام کو دعوت دینے کی سعادت حاصل کی ہے اور اس دفعہ علامہ سبطین عباس قمی صاحب جو قم المقدسہ میں اہلبیت شناسی میں پی ایچ ڈی کر رہےہیں ان کے علم سے استفادہ کرنے کیلئے مسجد ہذا میں تبلیغی سلسلہ جاری ہے ۔ چاہتا ہوں کہ موصوف کے تبلیغی لیکچر کو بذریعہ سیاسیات اپنے کالم کے انداز میں عوام الناس تک ارسال کرنے کی جسارت کرتا جاؤں تاکہ قرآن فہمی ، دین اسلام کے اغراض و مقاصد کی نشر و اشاعت میں اپنا کردار ادا کر سکوں ۔ اہم بات یہ ہے کہ گزشتہ سال رمضان المبارک میں علامہ علی محمد رضوانی صاحب جو کہ قرآن وحدیث میں پی ایچ ڈی ہیں اور قم المقدسہ میں بطور لیکچرار فریضہ انجام دے رہے ہیں انہوں نے پورے رمضان المبارک میں دین اسلام پر گفتگو کی تھی اور فرقہ پر گفتگو نہ کرکے ہمیں پیغام دیا کہ فرقہ واریت کو اگر ختم کرنا ہے تو قرآن پڑھو اور اس کتاب کے بارے میں تدبر کرو ۔ تب جا کر سمجھ آئیگی کہ پیغام الٰہی کیا ہے ۔ اس پیغام کو جناب رسالت مآب نے ہم تک کس طرح تکالیف برداشت کرتے ہوئے پہنچایا ہے اور پھر بعد از رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی  آل پاک نے کس انداز میں دین اسلام کو بچانے کے لئے حکمت و دانائی اور قربانیاں پیش کی ہیں ۔

قارئین کرام

ظاہری بات ہے کہ دین اسلام اور قرآن فہمی کا علم رکھنے والے علماء ہی ہم آج کےمسلمانوں کو صحیح طریقے سے رہنمائی دے سکتے ہیں ۔ مگر صد افسوس کہ ہم کو آج کل کے زمانے میں عالم اور جاہل کی پہچان ہی نہیں رہی ہے ۔ اکثر شعلہ بیان مقرر اپنی شعلہ بیانی میں جادوئی اثر رکھتے ہیں مگر حقیقی معنوں میں دین اسلام اور قرآن فہمی سے ناآشنا ہوتے ہیں ۔ خود ساختہ مذہبی عقائد کی نشریات کی وجہ ہمارے معاشرے میں ہر سطح پر بے ہنگمی اور بد امنی کے سائے منڈلا رہے ہیں ۔ چاہے خاندانی سطح کے مسائل ہوں یا معاشرتی و سیاسی ہوں ان نابلد اور جاہل مقررین کی بدولت ہیں ۔ ایسی صورتحال کے پیش نظر آج 3 رمضان المبارک کو بعد از نماز فجر مسجد حسینیہ کولوکے میں علامہ سبطین عباس قمی صاحب نے جاہلوں کی پہچان اور ان کے کرتوت پر گفتگو کی ہے جس کے اقتباسات زیر تحریر قلمبند ہیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ سورۃ الاعراف آیت نمبر 199 میں ارشاد فرماتا ہے کہ

خُذِ الۡعَفۡوَ وَ اۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَ﴿۱۹۹﴾

دعوت اور تبلیغ کے اہم عناصر

۱۹۹۔(اے رسول) درگزر سے کام لیں، نیک کاموں کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کش ہو جائیں۔

199۔ رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم اس وقت مل رہا ہے جب آپ ﷺ مکے میں ہر طرف سے دشمنوں کے نرغے میں تھے۔ اس آیت میں دعوت و تبلیغ کے یہ اہم عناصر بیان ہوئے ہیں: ٭ اس دعوت کی راہ میں عوام کے منفی رد عمل کے نتیجے میں جو مظالم توڑے جائیں گے ان کا مقابلہ عفو و درگزر سے کیا جائے۔ ٭ شدائد و تکالیف کی پرواہ کیے بغیر بھلائی کی دعوت جاری رکھی جائے۔ ٭ جاہلوں سے الجھنے سے گریز کیا جائے۔

مذکورہ آیت کے تناظر میں علامہ صاحب نے جاہل کی پہچان اہنے عالمانہ انداز میں بیان کی کہ جاہل تین قسم کے ہوتے ہیں

1: جاہل مرکب

2: جاہل قاصر

3: جاہل مقصر

ان تینوں اقسام کی تعریف یہ ہے کہ

مرکب: "میں جانتا ہوں (لیکن غلط)”۔

قاصر: "میں نہیں جانتا، کیونکہ مجھے علم تک رسائی نہیں ملی (معذور)”۔

مقصر: "میں نہیں جانتا، کیونکہ میں نے سیکھنے میں سستی کی (مجرم)

جاہلِ مرکب وہ ہے جو غلط جانتا ہے اور اسے سچ سمجھتا ہے (خود پسندی)۔ جاہلِ قاصر وہ ہے جو حکمِ شرعی جاننے کی استطاعت نہیں رکھتا یا کوشش کے باوجود نہ جان سکا (معذور)۔ جاہلِ مقصر وہ ہے جو علمِ دین حاصل کرنے کی قدرت رکھنے کے باوجود کوتاہی کرتا ہے (مجرم)۔

جاہلِ مرکب

: یہ اپنی جہالت سے واقف نہیں ہوتا۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان غلط عقیدہ یا علم رکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ وہ صحیح جانتا ہے۔

جاہلِ قاصر

: یہ اپنی جہالت سے واقف ہے، مگر اس کے پاس علم حاصل کرنے کے وسائل یا توان نہیں ہوتی۔ مثلاً دور دراز کے علاقے میں رہنا جہاں عالم دین نہ ہو۔

جاہلِ مقصر ۔

یہ بھی اپنی جہالت سے واقف ہے، لیکن جان بوجھ کر سستی یا کوتاہی کی وجہ سے علم حاصل نہیں کرتا، جبکہ علم حاصل کرنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے ۔

قارئین کرام

جناب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی پہلے تربیت کی ۔ تربیت یافتہ لوگوں کی تعداد کم رہی ۔ جاہل طبقے نے مجبور کیا کہ اللہ کے رسول کو ہجرت کرنا پڑی ۔ مدینہ میں جنگ و جدل کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مکہ میں جنگ و جدل نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ مذکورہ آیت کے تحت عمل کیا اور اتمام حجت کا عملی ثبوت دیا ۔ حضرت علی علیہ السلام کے دور میں لوگ عابد تو تھے مگر جہالت نے ان کو درندہ صفت بنا دیا ۔ مثلاً

حضرت علی علیہ السلام نے جنگ نہروان میں اگر چہ صلح کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس کے باوجود ان میں سے چار ہزار سے زیادہ خوارج باقی رہ ہی گئے ۔ وہ عبداللہ بن وہب کے زیر فرمان اب بھی اپنے پرانے عقیدے پر پوری طرح قائم تھے اور الرواح الرواح الی الجنہ ( بڑھو جنت کی طرف) کے نعرے لگاتے ہوئے حضرت علی علیہ کے لشکر پر حملہ آور ہوگئے ۔

جنگ صفین میں جب معاویہ کو شکست کے آثار نظر آنے لگے تو اس کے سپاہیوں نے اس شکست کی تلافی کے لئے قرآن کو نیزے پر چڑھا لیا اور وہ بھی سپاہ عراق کو قرآن کی دعوت دینے لگے تو حضرت علی علیہ السلام کی سپاہ میں سے کچھ لوگوں پر اس کا اثر ہو گیا چنانچہ انہوں نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا کہ حکم صادر کیجئے کہ مالک اشتر واپس آ جائیں ورنہ ہم آپ کو قتل کر دیں گے ۔ حضرت مالک اشتر نے حضرت علی علیہ السلام کے حکم کی تعمیل کی فتح کی ہوئی جنگ کو حضرت علی علیہ السلام کے حکم کو مقدم سمجھا اور فتح کے اعلان کو ادھورا چھوڑ دیا ۔

خوارج نے سب سے پہلے حکمیت کے مسئلہ پر امام علی علیہ السلام کی مخالفت کی اور اسے قرآن مجید کے خلاف شمار کیا ۔ باوجود اس کے کہ حضرت علی علیہ السلام نے کہا کہ میں ناطق قرآن ہوں ۔ آپ کو معاویہ دھوکہ دے رہا ہے مگر حالات کا تقاضا تھا کہ مولا علی علیہ السلام کو ان جاہلوں کا سامنا کرنا پڑا اور خاموشی اختیار کی ۔ جس دن قرآن کو نیزہ پر بلند کیا گیا تھا امام علی علیہ السلام پر اسے قبول کرنے کے لئے بہت زیادہ دباؤ ڈالا تھا یہاں تک کہ قبول نہ کرنے کی صورت میں قتل کرنے کی دھمکی دی تھی لیکن کچھ دنوں کے بعد اپنی شیطانی فکروں اور اعتراضی مزاج کی وجہ سے اپنے عقیدے سے پلٹ گئے اور اسے گناہ اور خلاف شرع بلکہ شرک اور دین سے خارج جانا اور خود توبہ کی اور امام علی علیہ السلام سے کہا کہ وہ بھی معاذ اللہ اپنے گناہ کا اقرار کرکے توبہ کریں اور حکمیت کے نتیجے کے اعلان سے پہلے فوج کو تیار کریں اور معاویہ کے ساتھ جنگ کو جاری رکھیں ۔

لیکن حضرت علی علیہ السلام ایسے نہ تھے کہ جو گناہ انجام دیتے اور غیر شرعی چیزوں کو قبول کرتے اور جو عہد و پیمان باندھا ہے اسے نظر انداز کر دیتے امام علی علیہ السلام نے اس جاہل گروہ پر کوئی توجہ نہیں دی اور کوفہ پہنچنے کے بعد پھر اپنی زندگی بسر کرنے لگے لیکن شر پسند جاہل خوارج نے اپنے برے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے مختلف کام کئے

  1. امام علی علیہ السلام سے خصوصی ملاقاتیں کرنا تاکہ انہیں عہد و پیمان توڑنے پر آمادہ کر یں
  2. نماز جماعت میں حاضر نہ ہونا خوارج کا وطیرہ تھا
  3. مسجد میں علی علیہ السلام کے خلاف اشتعال انگیز نعرے لگانے
  4. علی علیہ السلام اور جو لوگ صفین کے عہد و پیمان کو مانتے تھے انہیں کافر کہنا
  5. عظیم شخصیات کو قتل کر کے عراق میں بدامنی پیدا کرنا
  6. امام علی علیہ السلام کی حکومت کے مقابلے میں مسلحانہ قیام

مذکورہ بالا جاہل خوارج اور مشرکین مکہ کی تاریخ کے آثار قدیمہ موجود دور میں بھی پائے جاتے ہیں ۔ اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو آج کے دور میں علماء حقہ کے خلاف جو پروپیگنڈے رونما ہو رہے ہیں ان کی مماثلت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی علیہ السلام کے ادوار سے ملتی جلتی ہے ۔ جس طرح جنا ب رسالت مآب اور آئمہ طاہرین علیہم السلام کی مظلومیت کے اسباب جہلا کی وجہ سے پیدا ہوئے تھے اسی طرح آج بھی علماء حقہ کی مظلومیت اور تنہائی کے اسباب دور حاضر کے جاہل مقصر ، جاہل مرکب ہی پیدا کر رہے ہیں ۔ اور ان جہلا کی وجہ سے بد امنی اور فرقہ واریت کے سائے قائم و دائم ہیں مگر فتح ہمیشہ حق کا ہی مقدر رہی ہے حق کے نمائندے ہر دور میں بحکم خدا موجود رہتے ہیں اور قیامت تک حق وباطل میں فرق ہوتا رہے گا ۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

2 Responses

  1. السلام علیکم
    تحریر قرآن فہمی سے شروع ھوئی جو ایمان لانے کے بعد تمام مسلمانوں پر فرض ھے۔ لیکن رفتہ رفتہ تحریر کا دھارا قرآن فہمی سے ھٹ کر تشیع کے عقائد کی تشریح و ترویج کی جانب مڑ گیا۔ بات قرآن فہمی سے شروع ھائی اور خدا کی معرفت کے بجائے معرفت اہلبیت کی جانب مڑ گئی یہ وہ اختلافی موڑ ھے جہاں فرقہ پرستی راہیں جدا کر دیتی ھے اور جو پیغام تمام پوری امت کے لئے ھونا چائیے وہ صرف ایک فرقے تشیع تک محدود ھوجاتی ھے۔ کیا قرآن فہمی کا مقصد صرف اہلبیت کی معرفت حاصل کرنا ھے۔ کیا قرآن صرف قصیدہ اہل بیت اور آئمہ اطہار ھے۔ حیرت ھے کہ قرآن کا نفس لاالہ الااللہ ھے لیکن ھم اس میں بھی خدا کی مخلوق کی فضیلتیں تو نکال لیتے ہیں لیکن ہمیں خدا کی معرفت حاصل نہیں ھوتی۔ پہلے لوگوں کو خدا اور کلام خدا کی معرفت تو حاصل کر لینے دیجئے پھر یقیناً خدا والے بھی سمجھ آجائیں گے۔ کیا قرآن میں فضیلتوں کی آیات کے سوا اور کچھ نہیں ھے؟ خدارا پہلے لوگوں کو رب کی پہچان اور تقویٰ کا تعارف کرائے آخرت کی طرف راہ دکھائیے پھر ان کو صحیح اور غلط بھی سمجھ میں آنے لگے گا۔ آخر لوگوں شیعت کا کلمہ پڑھا کر صرف ولادتوں کا جشن اور شہادتوں پر شکم خوری کے سوا اور کیا کرنا ھے۔ حدیث ثقلین، اعلان ولایت اور کربلا یہ سب خدا کی معرفت، خدا کی شریعت اور تقویٰ پرہیزگاری اور اخرت کی تیاری کے لئے برپا کئے گئے تھے نہ کہ ولادت و شہادت کے ایام منانے کے لئے آج کا نام نہاد شیعہ مجلس علم ذولجناح، آئمہ اطہار کے روزوں کی زیارات کو نذر ونیاز کھانے اور کھلانے کو ہی تقویٰ اور پرہیز گاری سمجھتا ھے۔ جب آپ قرآن فہمی کی بات کرتے ہیں کلام خدا کو سجھنے اور درک کرنے کی بات کیجئے شیعت کی ترویج کے نام پر لوگوں میں تفرقہ کو ھوا مت دیجئے۔

  2. حدیث ثقلین فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لئے سب سے بڑی دلیل ہے
    شہادت اور ولادت منانے سے دین اسلام کی روح تازہ ہوتی ہے
    شہادت اور ولادت منانے سے معرفت اہلبیت علیہم السلام میں اضافہ ہوتا ہے
    شہادت اور ولادت منانے میں خاندان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دین اسلام کو بچانے کے لئے قربانیاں اجاگر کی جاتی ہیں ۔
    شبیہ ذوالجناح کو برآمد کرنے کا مقصد یہی ہے کہ میدان کربلا میں انسانوں نے آل رسول کی حیا اور احترام نہیں کیا تھا مگر حیوان نے وفا کی تھی ۔ شبیہ ذوالجناح کی پرستش نہیں کی جاتی بلکہ وفا کا شعور اجاگر کیا جاتا یے ۔
    علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی علیہ السلام کے ساتھ ہے حدیث رسول کا انکار کرنا ممکن نہیں ہے
    آل رسول علیھم السلام ناطق قرآن ہیں ۔ آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ قرآن فہمی ممکن نہیں ۔ تو میرے کالم میں اس میں فرقہ واریت کا عنصر کہاں آپ نے ایجاد کر لیا ۔
    مجھے تو آپ کے کمنٹس سے صرف بغض اہلیبت علیہم السلام ہی نظر آیا ہے اور آپ نے میرے کالم کے تجزیہ کو مثبت لینے کی بجائے اپنے آپ کی تصدیق کی ہے کہ واقعی یہ کالم آپ جیسے لوگوں کی شناخت کے لئے لکھا گیا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

6 − 1 =