جون 19, 2026

تحریر: سید اعجاز اصغر 

زمانہ ماضی قریب اور بعید میں مذہبی فرقہ واریت، سیاسی جماعتوں کے درمیان تنازعات کے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے مخالفین کاذب اور من گھڑت کتابی لٹریچر کے ذریعے اور شرپسند عناصر کو قومی و بین الاقوامی سطح پر استعمال کیا گیا ہے اور اب بھی یہی روش اختیار کی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے قومی و بین الاقوامی سطح پر شرپسند عناصر نے بہت حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ بد امنی اور قتل و غارت گری اور دیگر سماجی و معاشرتی مسائل سے عوام الناس کو متاثر ہونا پڑا ہے۔ اب یہی روش انڑنیٹ میں سرگرم ہے۔ جس کا انکشاف ایلون مسک نے کردیا ہے۔

ایلون مسک نے کل حادثاتی طور پر دنیا کی سب سے بڑی الیکٹرانک لابی/بوٹ نیٹ ورک کو بے نقاب کر دیا۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں کے اکاؤنٹس آپ کو یا آپ کے ملک کو گالیاں دیتے ہیں چاہے آپ کی قومیت کچھ بھی ہو ان میں سے آدھے تو انسان ہی نہیں ہیں۔

سارا معاملہ ایک چھوٹے سے اپ ڈیٹ سے شروع ہوا جو پلیٹ فارم "ایکس” پر آیا تھا۔ یہ بس ایک معمولی اپ ڈیٹ ہونا چاہیے تھا۔ مگر اس کے ساتھ ایک نئی خصوصیت شامل ہوگئی، یعنی آپ جس اکاؤنٹ کو فالو کرتے ہیں اُس کا اصل مقام دیکھ سکتے تھے۔ یعنی وہ نہیں جو اکاؤنٹ والے نے خود لکھ رکھا ہوتا ہے، بلکہ وہ جگہ جہاں سے اس کی ڈیوائس حقیقتًا چل رہی ہے۔

یہ اپ ڈیٹ میڈیا کے کئی ماہرین کے مطابق امریکی رائے عامہ پر اثر انداز ہونے والی الیکٹرانک لابیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے تھا۔ اور اِس نے واقعی ایسا ہی کیا۔ لیکن اس کا اثر پوری دنیا پر ایک ڈیجیٹل ایٹمی دھماکے کی طرح پھیل گیا۔

جیسے ہی اپ ڈیٹ آیا، لوگوں نے فوراً چیک کرنا شروع کیا کہ جن اکاؤنٹس کو وہ فالو کرتے ہیں وہ کہاں سے چل رہے ہیں ؟

اور تب اصل دھماکہ ہوا۔

مصر کے کچھ مشہور اکاؤنٹس جو رات دن مصر کے خلاف لکھتے رہتے ہیں، اُن کا مقام ترکی، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نکلا۔ سعودی عرب کے خلاف چلنے والے اکاؤنٹس قطر اور برطانیہ سے نکلے۔ اور وہ صفحات جو مراکش الجزائر کے درمیان فتنہ پیدا کرنے کے لیے پوسٹ کرتے تھے، وہ یورپی ممالک سے چل رہے تھے جن کا ان دونوں ممالک سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اِسی طرح کئی "جعلی” شامی حب الوطن اکاؤنٹس استنبول سے چل رہے تھے، اور خلیجی لڑکیوں کے نام سے چلنے والے بعض اشتعال انگیز صفحات برطانیہ سے آپریٹ ہو رہے تھے۔

اور جانتے ہیں 99 فیصد ان اکاؤنٹس میں مشترک چیز کیا تھی؟

ہزاروں ایسے عربی لہجے میں لکھنے والے اکاؤنٹس جو عرب ملکوں کو گالیاں دیتے تھے اور خاص ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتے تھے اصل میں اسرائیل سے چل رہے تھے۔ اور وہ بھی اسرائیلی فوج کی بدنام زمانہ یونٹ 8200 سے، جو سائبر اور الیکٹرانک جنگ میں ماہر ہے۔ یہ یونٹ برسوں سے عرب دنیا کے خلاف نفسیاتی مہمات اور فتنہ پھیلانے والی کارروائیوں میں ملوث ہے۔

اب کی بار یہ حقیقت سب کے سامنے عیاں ہوگئی کہ جن اکاؤنٹس کے نام "عمر”، "ریم”، "سعودی اصیل”، یا "مصری اصیل” تھے، وہ دراصل اسرائیلی ماہرین چلا رہے تھے جو عربی لہجے جعل سازی میں مہارت رکھتے ہیں۔

اِس کا مطلب یہ ہوا کہ جن ممالک کے خلاف یہ اکاؤنٹس نفرت انگیز مواد پھیلا رہے تھے— جیسے مصر، سعودی عرب، امارات، مراکش، الجزائر، شام، لبنان، سوڈان وغیرہ اور عرب قوموں کو آپس میں لڑاتے تھے ان میں سے بڑا حصہ عربی نہیں تھا بلکہ صہیونی تھا۔

نتیجۃً یہ بات واضح ہوگئی کہ ہم جو کچھ روزانہ دیکھتے ہیں، وہ نہ عوام کا حقیقی غصہ ہے، نہ ثقافتی اختلاف، بلکہ ایک منظم منصوبہ ہے جس کا مقصد عرب قوموں میں نفرت، تقسیم اور فتنہ پیدا کرنا ہے۔ اِس کے علاوہ ہزاروں ایسے بوٹس جو 24 گھنٹے خودکار طریقے سے مواد پوسٹ کرتے ہیں تاکہ آپ کو لگے کہ آپ اکیلے ہیں اور آپ کا ملک برا ہے۔

اور یہ صرف عرب دنیا تک محدود نہیں رہا۔

امریکہ میں بھی لوگوں نے سیاسی اکاؤنٹس کا جائزہ لینا شروع کیا جو ری پبلکنز اور ڈیموکریٹس کے درمیان کشیدگی بڑھاتے تھے، اور حیرت انگیز طور پر ان میں سے زیادہ تر روس، بھارت، بنگلہ دیش اور اسرائیل سے نکلے۔

جیسے ہی اپ ڈیٹ آیا اور معاملہ سامنے آیا، ایک گھنٹے کے اندر اندر ہزاروں اکاؤنٹس بند کر دیے گئے، اور یہ فیچر بھی ہٹا دیا گیا۔ اب آپ یہ معلومات نہیں دیکھ سکتے۔

یہ کوئی پہلا سکینڈل نہیں. اس سے پہلے ایلون مسک نے عبرانی زبان کی خودکار ترجمہ سہولت بھی بند کر دی تھی کیونکہ ترجمہ ظاہر کر رہا تھا کہ اسرائیلی حکومتی اور غیر سرکاری اکاؤنٹس کس طرح کھلے عام غزہ کے خلاف نفرت اور نسل کشی کی ترغیب دیتے ہیں— اور اس کے باوجود ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ عرب اور مسلم دنیا کے برعکس جن کے پرو-فلاس3 اکاؤنٹس فوراً بند یا محدود کر دیے جاتے ہیں، بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق ایکس کی مواد نگرانی ٹیم میں قابض فوج کے سابق اہلکار شامل ہیں— اس سے سمجھ آتا ہے کہ پلیٹ فارم پر قابض بیانیہ کیوں اتنا غالب ہے۔

اِسی طرح مختلف پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے اکاؤنٹ امریکہ انڈیا یورپ یا اسرائیل سے آپریٹ ہو رہے ہیں، پاکستان کی مقامی زبانوں مین لعن طعن گالم گلوچ اور پروپیگنڈہ پھیلانے والے اکاؤنٹ دوسرے ممالک سے کنٹرول ہورہے ہیں۔

اِس واقعے نے لاکھوں صارفین کی آنکھیں کھول دیں کہ سوشل میڈیا پر جو روزانہ نفرت، جھگڑے اور تقسیم نظر آتی ہے، اس کا بڑا حصہ حقیقت میں نہیں بلکہ نفسیاتی جنگ کا نتیجہ ہے۔

اور یہ تو صرف ایک پلیٹ فارم "ایکس” کی بات ہے فیسبک، انسٹاگرام، تھریڈز وغیرہ پر کیا کچھ ہوتا ہوگا، اِس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

اگر یہ تحریر آپ تک پہنچی ہے تو آگے ضرور شیئر کریں تاکہ سب سمجھ سکیں کہ ہمارے ساتھ کس طرح کھیل کھیلا جا رہا ہے اور اس کا فائدہ کس کو ہو رہا۔ ؟

ایلون مسک کا حقیقت پر مبنی انکشاف حادثاتی ضرور ہے مگر بنی نوع انسان کو بچانے کے لئے از حد ضروری ہے کہ اس تحریر کو سنجیدہ لیتے ہوئے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ اپنے عزیز و اقارب کو ارسال کرتے جائیں۔

تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔

https://whatsapp.com/channel/0029VaAOn2QFXUuXepco722Q

Facebook
Twitter
Telegram
WhatsApp
Email

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

16 + twenty =