تحریر: حسین کیامنش
گذشتہ چند دنوں کے دوران ایران کی جانب سے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پر میزائل حملوں کی مشقیں انجام پانے اور ان کی تصاویر تہران، مشہد، مہاباد اور کرمانشاہ سے شائع ہونے کے بعد صیہونی رژیم کے ذرائع ابلاغ اور فیصلہ ساز حلقوں کی زبان میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ صیہونی وزیراعظم کے دورہ امریکہ اور ایران کے میزائل پروگرام سے متلعق ٹرمپ سے ملاقات کے موقع پر تہران نے اپنے اس اقدام کے ذریعے کسی بھی دشمنانہ اقدام کا فیصلہ کن، فوری اور وسیع جواب دینے کی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے گذشتہ جنگ کے بعد نہ صرف اپنی میزائل طاقت کو برقرار رکھا ہے بلکہ اسے اعلی حد تک بھی پہنچا دیا ہے۔ ان مشقوں سے پہلے صیہونی میڈیا اور حکام اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ تہران گذشتہ جنگ کے بعد طویل عرصے تک اپنی میزائل اور دفاعی صلاحیتوں کو بحال نہیں کر پائے گا۔
یہ غلط فہمی انہیں ایران پر دوبارہ حملہ کرنے اور اس کے میزائل پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دینے اور حتی تہران کے دفاعی ڈھانچے کے خلاف فوجی جارحیت کو بڑھاوا دینے پر اکسا رہی تھی لیکن اب جب وہ ایران کی تیزی سے بحال ہونے والی اور حتی مزید بڑھتی ہوئی میزائل طاقت کا براہ راست مشاہدہ کر چکے ہیں تو صہیونی حکام اور ذرائع ابلاغ کے ہوش ٹھکانے آنے لگے ہیں۔ اب ان کا لہجہ شدید احتیاط، بار بار کے انتباہات اور ایران کے خلاف کوئی بھی نئی جنگ شروع کرنے سے گریز کرنے پر زور دینے کی جانب جھکتا جا رہا ہے۔ لہجے کی یہ تبدیلی اسرائیل ہیوم اور وائی نیٹ جیسے صیہونی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس اور نقطہ نظر کے بعد اب صیہونی رژیم کے سب سے زیادہ معتبر اور موثر میڈیا حلقوں میں بھی قابل مشاہدہ ہے۔ انہی میں سے ایک عبرانی زبان میں شائع ہونے والا اخبار "ہاریٹز” ہے۔
اسرائیلی ریزرو فورس کے جنرل اسحاق بریک نے اخبار ہاریٹز میں شائع ہونے والے اپنے تجزیاتی کالم میں بینجمن نیتن یاہو کے عنقریب دورہ امریکہ اور 29 دسمبر کو ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ اس کی طے شدہ ملاقات کا براہ راست حوالہ دیتے ہوئے شدید وارننگ جاری کی ہے۔ مصنف نے اس بات پر زور دیا ہے کہ نیتن یاہو کو ٹرمپ سے ایران پر دوبارہ حملہ کرنے کا مطالبہ کرنے سے پہلے تلخ اور تبدیل شدہ زمینی حقائق پر توجہ دینی چاہیے۔ جنرل اسحاق بریک نے اپنے کالم کے آغاز میں ایران کے خلاف 12 روزہ جنگ کو اسرائیل کا ایسا بڑا جوا قرار دیا جو صیہونیوں کے لیے انتہائی تباہ کن حادثے کی شکل اختیار کر سکتا تھا اور پھر لکھا: "موجودہ حالات بالکل مختلف ہیں اور ایسے جوئے کو دہرانا، اسرائیل کے لیے ناقابل تلافی تباہی کا باعث بن سکتا ہے”۔
ہاریٹز اور وائی نیٹ سمیت دیگر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی جانب سے جاری ہونے والے انتباہات میں جس بات کو انتہائی اہم قرار دے کر اس پر بار بار تاکید کی گئی ہے وہ ایران کی جانب سے اپنی میزائل طاقت کی بحالی میں حیران کن اور غیر متوقع رفتار ہے۔ ہاریٹز نے واضح طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 12 روزہ جنگ میں ہونے والے نقصانات کے باوجود ایران نے صرف چھ ماہ کے اندر اندر نہ صرف میزائلوں کے اپنے ذخائر دوبارہ بحال کر لیے ہیں بلکہ اب وہ ہزاروں نئے بیلسٹک میزائلوں سے بھی لیس ہو چکا ہے۔ اس بارے میں نیویارک ٹائمز نے بھی اپنی رپورٹ میں تاکید کی ہے کہ ایران نے 12 روزہ جنگ میں حاصل ہونے والے تجربات کی بدولت خود کو اگلی ممکنہ جنگ میں بیک وقت 2000 بیلسٹک میزائل داغنے کے لیے تیار کر لیا ہے۔
یہ تعداد گذشتہ پوری جنگ میں داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد سے 4 گنا زیادہ ہے جو 12 دنوں میں صرف 500 میزائلوں تک محدود تھی۔ نیویارک ٹائمز نے کچھ مدت پہلے بھی ایسا ہی دعوی کیا تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ ایران کی حکمت عملی "اسرائیل کے دفاعی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کر کے اس کے اہم اور کلیدی مراکز کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے” پر استوار ہے۔ دریں اثنا، ہاریٹز نے واضح طور پر اسرائیلی اور امریکی انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخیرے کی شدید کمی کا بھی ذکر کیا ہے۔ اس صہیونی اخبار کے مطابق 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل کے ایرو میزائل اور امریکی ٹاڈ میزائلوں کے ذخیرے میں شدید کمی واقع ہوئی ہے۔ ہاریٹز کے علاوہ دیگر صہیونی اور مغربی ذرائع ابلاغ اور تھنک ٹینکس نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جنگ کے آخری دنوں میں صیہونی رژیم کے پاس انٹرسیپٹر میزائل ختم ہونے کے قریب تھے۔
ایران نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ حملے کی صلاحیتوں میں بھی بہت زیادہ اضافہ کر لیا ہے۔ دوسری طرف تاریخی اور موجودہ شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی بھی نئی جنگ کی صورت میں امریکہ گذشتہ جنگ کی طرح اسرائیل کی بھرپور حمایت کرے گا چاہے اسے اس حمایت کی قیمت فوجی ذخائر میں شدید کمی واقع ہونے یا داخلی سلامتی کے مسائل پیدا ہونے کی صورت میں ہی ادا کیوں نہ کرنی پڑے۔ امریکہ اور اسرائیل دونوں کے پاس ایران کی میزائل طاقت کی وسعت، درستگی، تنوع اور ہم آہنگی کے مقابلے میں محدود توانائیاں پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ واشنگٹن ایران سے ممکنہ نئی جنگ میں تل ابیب کی بھرپور مدد کرنے کا حتمی فیصلہ کر چکا ہے لیکن قابل توجہ بات یہ ہے کہ بھاری اخراجات پر مبنی یہ حمایت بھی اسرائیل کے ناقص فضائی دفاعی نظام کا ازالہ نہیں کر پائے گی۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






