تحریر: علی سردار سراج
گلگت بلتستان کے باسی جہاں کئی نیک اخلاقی اور انسانی صفات کی وجہ سے جانے جاتے ہیں وہاں ان کا دینی، تدین بھی زبان زد عام و خاص ہے۔
یہ لوگ اسلام کے ساتھ مخلص ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے فرقے کی مخصوص تعلیمات پر بھی سختی سے کاربند ہیں۔
اس معاشرے میں دین اور زندگی دو الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، بلکہ دین ان کی زندگی کا اساس اور قانون ہے۔
یہ بہت اہم پہلو ہے، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ دین کے عملی پہلو کے ساتھ ساتھ، دین کے علمی پہلو پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جب لوگ دین دار تو ہوں لیکن دین شناس نہ ہوں تو یہی دین خود وبال جان بن جاتا ہے اور ایسے دیندار لوگ شیطان صفت لوگوں کے ہاتھوں میں کھلونے بن جاتے ہیں۔
اس کی واضح مثالیں صدر اسلام میں خوارج ، اور آج کے دور میں دا ع ش اور پاکستان کے اندر سرگرم الخوارج کی ہیں۔
گلگت بلتستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود مسائل میں گرا ہوا ہے، جہاں کے لوگ بنیادی ترین انسانی حقوق سے محروم ہیں، اس محرومی کی اصل وجہ وہ قابض قوتیں ہیں جن کی پانچوں انگلیاں گھی میں ہیں۔
یہ قوتیں اس وقت تک اس خطے کے وسائل پر قابض رہیں گی جب تک یہاں کے لوگ یا اپنے حقوق سے جاہل رہیں یا کمزور۔
اس خطے میں شرح خواندگی ایک حد تک بہتر ہے جو یہاں کے لوگوں کی اپنی ذاتی کوششوں کا نتیجہ ہے، حکومت کا کوئی اہم کردار نہیں ہے۔
اس علم و دانش کے نتیجے میں یہاں کی جوان نسل اپنے حقوق کی طرف متوجہ ہوئی ہے، اور اس آگاہی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، اور لوگوں نے ان محرومیوں سے آزاد ہونے کے لیے باقاعدہ کوششیں شروع کی ہیں، اس میں کامیابی صرف اس صورت میں ممکن ہے کہ لوگ صاحب ارادہ اور صاحب قدرت ہوں۔
قابض قوتوں نے بھی اس حوالے سے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
جوان لوگوں سے ارادے کو سلب کرنے کے لیے منشیات اور جنسی بے راہ روی کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں، اور سلب طاقت کے لیے باہمی اتحاد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
وہ بھی مذہب اور فرقے کے نام پر، کیونکہ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ یہاں کے لوگ دین پر مر مٹنے کے لیے تیار ہیں۔
لہذا اس سال ماہ محرم الحرام کو چھموگڑ کے مقام پر مذہبی منافرت پھیلانے کی بھرپور کوشش کی گئی جو لوگوں کی بیداری کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔
اس کے بعد پچھلے دنوں سے مسلسل فریقین کی مقدس شخصيات کی توہین کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اس کو بھی عوامی بیداری نے ناکام بنایا،تو آج گلگت نگر کالونی کے پاس اہل سنت کی اہم علاقائی قیادت جناب قاضی نثار صاحب پر ایک قاتلانہ حملہ کرایا گیا ہے، جس میں قاضی صاحب بچ گئے ہیں ،اور ایک شیعہ جوان نے ہی ان کو ہسپتال تک پہنچا کر بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
قاضی صاحب پر قاتلانہ حملہ، قابض قوتوں کی طرف سے یہاں کے اتحاد کو سبوتاژ کرنے کا اہم حربہ ضرور ہے لیکن یہ آخری حربہ نہیں ہے۔
اس خطرناک چال کا مقابلہ ہم صرف اس صورت میں کر سکتے ہیں کہ ہم دین دار ہونے کے ساتھ دین شناس ہوں، قرآن کریم کی واضح تعلیمات میں سے ہے کہ ہم ظن ،گمان سے اپنے آپ کو بچائیں اور علم کی پیروی کریں نیز کسی فرد کے جرم کو کسی قوم کی طرف نسبت نہ دیں، ہمیشہ انصاف کا دامن تھام لیں، حقدار کا حق دیا جائے۔
لہذا قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے شیعہ سنی عوام بالخصوص علماء کو چاہیے کہ وہ انتہائی ہوشیاری کا مظاہرہ کریں۔
اگر اس چال کو نہ سمجھیں تو ایک دفعہ پھر ہمارے جوانوں کے ہاتھوں میں قلم کی جگہ بندوقیں ہونگی، اور مسائل میں گرے ہوئے لوگ اپنے وسائل کے حصول کی امید بھی کھو بیٹھیں گے۔
جن لوگوں نے ہمیں آپس میں لڑایا ہے وہیں ہمیں منجي نظر آئیں گے۔
اس وقت ایک دوسرے کو متہم کرنے کی بجائے سب کا ایک ہی مطالبہ ہونے چاہیے، وہ یہ کہ اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیق ہونی چاہیئے اور اس کے واقعی کرداروں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






