تحریر: سید اعجاز اصغر
بظاہر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے آثار ایران کے ساتھ نظر آرہے ہیں۔ اور امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کی پہل کرنے سے پہلے سو مرتبہ سوچے گا۔ اگر امریکہ اور ایران کی جنگ کا آغاز ہو جاتا ہے تو یقینی طور پر اسرائیل کی تباہی کا پیش خیمہ ہوگا اور امریکہ کو سبق آموز شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔
ایران کو اندرونی طور پر مایوس اور کمزور کرنے کے لئے امریکہ اور اسرائیل نے من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی خبریں نشر کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے مگر اس میں بھی ناکافی کا سامنا کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر امریکی اور اسرائیلی ایجنٹ خبریں نشر کر رہے ہیں کہ ایران کے اعلی افسران امریکہ نے خرید لئے ہیں تاکہ وہ آیت اللہ خامنہای کو اغوا کرکے قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایسی من گھڑت اور بے بنیاد خبریں محض ایک شوشہ ہی ہے۔ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
امریکہ کو قبل از وقت ایران کے حوالے سے مایوسی اور ناکامی نظر آ چکی ہے وہ مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے مگر ایران اپنی سالمیت پر سودا نہیں کرے گا۔ امریکہ کو متحدہ عرب امارات، سعودی عرب کی جانب سے فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ ترکی روس پاکستان عرب ممالک اور پس پردہ چائینہ ایران کے دفاع کے لئے کھل کر سامنے آ چکے ہیں اب امریکہ گیڈر بھبھکیوں کا ہی سہارا لے رہا ہے۔ امریکہ کا اصل نشانہ اور ہدف چین نظر آرہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کی بحری ناکہ بندی کے احکامات کے بعد واضح ہوگیا کہ امریکہ کا اصل نشانہ ایران نہیں بلکہ چین کے انرجی روٹس ہیں، امریکہ نے پہلے وینزویلا میں ملٹری کاروائی کے زریعے وینزویلا کے صدر کو اغوا کرکے وہاں رجیم چینج کرکے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کیا اب ایران کی بحری ناکہ بندی کے زریعےامریکہ چین کے ایک اور انرجی کا ٹینٹوا دبا رہا ہے، امریکہ کا ایران کے بعد چین پھر اگلا نشانہ افغانستان ہوگا لیکن سب سے اہم ترین سوال یہ ہے کہ چین کو جلال کب آئے گا ؟
چین اس حوالے سے تھوڑا بزدل بھی ہے۔اگر معاملہ زیادہ پریشان کن ہوگیا تو قوی امکان ہے کہ چین آرام سے نہیں بیٹھے گا یہ معاملہ اس کی”بقا” کا بھی ہے ۔
چین کو گوادر میں بحری بیڑہ تعینات کر کے گوادر کو جدید بندرگاہ بنا دینا چاہیئے تھا مگر کام کی سست رفتاری اور بحری بیڑے کی عدم موجودگی سے سی پیک روٹ بھی فعال نہیں ہو سکا – چین گوادر سے براستہ سی پیک روٹ تیل کی ترسیل کرے تو پاکستان کی اہمیت اور اسٹریٹیجک پارٹنرشپ مضبوط ہو گی۔
اب چین کا سارا انحصار افغانستان پر ہو گا۔
چین اپنے اوپر حملہ ہونے سے قبل دوسرے ملک کی جنگ کبھی نہیں لڑے گا مگر پس پردہ سپورٹ ضرور کرے گا۔ کیونکہ
کاروباری آدمی کے جب سارے کاروباری راستے بند ہو جائیں تب وہ کوئی ایکشن لیتا ہے۔
یہ بھی امکان ہے کہ اگر دوبارہ امریکا افغانستان میں آیا تو سمجھ لینا چاہئے کہ امریکا ذلیل وخوار ہو جائے گا۔
چین میں آج کل کافی خطرناک اندرونی مسئلہ بھی چل رہا ہے۔ سینئر افسران ، جنرل صاحبان بیمہ خاندان کے افراد پکڑے گئے ہیں۔ پہلے دن 3000 بندے پکڑے گئے ہیں ۔ مسئلہ غدّاری کا نکل رہا ہے دراصل صدر شی چنگ کا تختہ الٹے کی کوشش کی گئی تھی مگر یہ سازش ناکام ہو گئی ہے اور کُچھ دِن میں مزید مسئلہ حل ہو جائے گا اور باقی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ وینزویلا طرز کی امریکی مشقیں ایران، کیوبا اور چین میں امریکہ کا ہدف ہے۔ ایران میں رجیم چینج کا امریکی منصوبہ ناکام ہوا اور آئیندہ بھی ناکام ہو گا مگر ایران کو کراس کرتے کرتے امریکہ کا اصل نشانہ چین ہی نظر آتا ہے۔
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کیجئے۔






